یکم اکتوبر سے متاثرین سیلاب کو مکانوں کی تعمیر کیلئے 25 ہزار فی کس کی پہلی قسط دینگے : شہباز شریف

28 ستمبر 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام آدمی کو صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہیلتھ کئیر سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کیلئے قابل عمل تجاویز دیں جن پر من و عن عمل کیا جائیگا۔ پاکستان کے نامور ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے اپنے تجربات اور علم سے دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے وطن میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے موثر کردار ادا کریں۔ عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کیئر سسٹم میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوںگی۔ وہ چلڈرن ہسپتال میں پیڈیاٹرک کارڈیالوجی اینڈ کارڈیک سرجنز سوسائٹی کے 11ویں سالانہ اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگوکر رہے تھے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے ہمیشہ دکھی انسانیت کی جذبے اور لگن کے ساتھ خدمت کی ہے۔ بدقسمتی سے بنیادی و دیہی مراکز صحت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے اور انکی کارکردگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ اشرافیہ کو تو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں دستیاب ہیں جبکہ بیوہ، یتیم، غریب محنت کش اور عام آدمی بنیادی طبی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ہمیں ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنا کر جدید طبی سہولتیں عام آدمی تک پہنچانا ہیں۔ انہوں نے چلڈرن ہسپتال کی ان ڈور عمارت کو جلد فنکشنل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے۔ کابینہ کی کمیٹی برائے فلڈ ریلیف سے خطاب میں شہبازشریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالے کی غرض سے مالی امداد کی ادائیگی کیلئے اربوں روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے۔ شہبازشریف سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر گریگ جیوکاس اور وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے الگ الگ ملاقات کی۔ برجیس طاہر سے ملاقات میں شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ آزادکشمیر میں بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت متاثرین سیلاب کی بحالی کا آغاز مہینوں میں نہیں، دنوں میں کر رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں تمام سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کو انکے مکانات کے نقصان کے ازالے کیلئے فی کس 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ پہلی قسط کی ادائیگی کا آغاز یکم اکتوبر سے کیا جا رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کو امدادی رقم کی ادائیگی 20 اکتوبر سے شروع کردی جائیگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عید پر متاثرہ علاقوں میں قربانی اور کھانے کا انتظام کیا جائیگا۔ متاثرین اور بچوںکو عید گفٹ بھی دیئے جائیں گے۔
شہباز شریف