انتظامی یونٹ بنانے سے سندھ تقسیم نہیں ہو گا‘ فوج بتائے ہمارے ساتھ کیا کرنا ہے : الطاف

28 ستمبر 2014
انتظامی یونٹ بنانے سے سندھ تقسیم نہیں ہو گا‘ فوج بتائے ہمارے ساتھ کیا کرنا ہے : الطاف

کراچی + لندن (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ تنظیمی تبدیلیاں کرتا ہوں تو اسٹیبلشمنٹ آڑے آ جاتی ہے، ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ میں پارٹی میں گھس بیٹھیوں کو نہ نکال سکوں۔ کراچی میں جنرل ورکر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، اللہ کی راہ میں ہجرت کرنیوالوں کی تکریم کی جاتی ہے لیکن ہمارے ساتھ اسکے برخلاف رویہ رکھا گیا، ہمیں غدار سمجھا گیا، ہمارے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا، آپریشن کیلئے مارے گئے اور چھاپوں کے دوران  ہمیں اندرا اور راجیو گاندھی کی اولادیں کہا گیا، ہندوستان کے بھگوڑے ہونے کے طعنے دئیے گئے، ہمارے نمائندوں نے فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے کئے تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو کے دور اور دیگر ادوار میں مہاجروں کو انکے عہدوں سے ہٹا دیا گیا، فوج اسٹیبلشمنٹ بتائے ہمیں کیا کرنا ہے، وہ کس طرح ہم سے خوش ہونگے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ فوج میں ایسے جرنیل پیدا نہیں ہوئے جو سرمایہ دارانہ اور وڈیرانہ نظام کا خاتمہ کر دیتے۔ پی ٹی وی میں گھسنا دور کی بات ہمیں تو اسلام آباد میں دھرنے تک کی اجازت نہیں، اگر زبردستی اسلام آباد میں دھرنا دیتے تو کیا ہمارے اوپر ربڑ کی گولیاں چلائی جاتیں؟ میں سندھ کا بیٹا ہوں، سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، سندھ میں کسان اور پڑھے لکھے لوگ میرے ساتھ آرہے ہیں۔ اتنے عرصے سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے رتو ڈیرو اور نوڈیرو میں سڑکیں اور ہسپتال کیوں تعمیر نہیں کئے۔ آج بھی کارکنوں کے گھروں میں چھاپے مار رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو 14 نکات پر مبنی خط لکھا۔ مہاجروں کو ہندو ستوڑے کہہ کر دھمکیاں دی گئیں۔ افواج کا چھوٹا یا بڑا کہے کہ مہاجروں کے خلاف ہمارے دل میں کچھ نہیں تو نہیں مانوں گا۔ مہاجروں کیخلاف سازشوں کے جال بنے گئے۔ جواز بتایا جائے کہ 19 جون 1992ء کو ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کیوں کیا گیا۔ جناح پور کے جعلی اور خود ساختہ نقشے بنائے گئے۔ ہمارے خلاف ٹارچر سیلوں کا الزام بھی لگایا گیا۔ بریگیڈئر آصف ہارون نے پنجاب کے صحافیوں کو بلا کر خود بنائے گئے جناح پور کے نقشے دکھائے۔ ہم پر الزام ہے کہ سیاسی مخالفین پر تشدد کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہماری سب سے بڑی مخالف ہے۔آج تک جماعت اسلامی کے کیمپ نہیں اکھاڑے۔ ہم پر الزام لگا کر کسی کو انتخاب نہیں لڑنے دیتے‘ بندوق کی نوک پر ووٹ لیتے ہیں۔ ایم کیو ایم پر علیحدگی پسندی کا الزام بھی لگایا گیا۔ ہم نے کبھی بندوق کا سہارا نہیں لیا۔ ہمیں برابر کا شہری نہیں رکھنا چاہتے تو مردوں کی طرح سامنے آ کر بتاؤ۔ فوج اسٹیبلشمنٹ کے لوگ ہمیں بتا دو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ فوج مجھے بتا دے ہمیں کیا  سمجھنا ہے اور کیا کرنا ہے۔ الطاف حسین نے پھر مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ساتھیو! مائنس الطاف حسین کر کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لو۔ کارکنوں نے نامنظور نامنظور کے نعرے بلند کئے۔ اسلام آباد میں 40 دنوں سے دو جماعتوں کے دھرنے جاری ہیں، وہ ٹی وی سٹیشن میں گھسے پاکستان کے ٹیلیویژن توڑ دئیے، عمارتیں توڑ دیں کیا ان پر غداری کا مقدمہ چلا، الزام لگا۔ اگر ہم اسلام آباد میں دھرنا دے بھی دیتے تو ہم پر ربڑ کی گولیاں نہ چلتیں۔ مہاجروں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا گیا تو قہر نازل ہوگا، ہمیں کمزور مت سمجھو۔ جس دن میں نے اعلان کردیا کہ میں ایک دن گالی برداشت نہیں کروں گا تو پھر بات چیت نہیں لڑائی ہوگی۔ ایک دھرنا پاکستان کی سلامتی، خوشحالی کیلئے ہم بھی کریں گے۔ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے۔ ملک میں مارشل لاء لگے جاگیرداری نظام ختم نہیں ہوا۔ فوج میں بھی ایسے جرنیل پیدا نہیں ہوئے جو ملک سے وڈیرانہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کردیتے۔ انتظامی یونٹ بننے میں ملک، علاقے تقسیم نہیں ہوتے اور نہ سندھ تقسیم ہو گا۔ سندھ دھرتی ہماری ماں ہے۔ پیپلز پارٹی کے لوگ سارا پیسہ خود کھا جاتے ہیں۔ سائوتھ سندھ پراونس، ایسٹ سندھ پراونس، ویسٹ سندھ پراونس، نارتھ سندھ پراونس کیوں نہیں بن سکتے۔ سندھ توڑنے کی بات نہیں کی۔ سندھ ہماری دھرتی ہماری ماں ہے۔ بیٹے ہم اسٹیبلشمنٹ کی مار کھائی۔ تم نے تو دو جوتے نہیں کھائے اگر سمندر میں جائیں گے تو سب کو لے کر جائیں گے۔ پڑھے لکھے ہمارے ساتھ آ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پر تنقید کریں لیکن جواب دینے کا موقع بھی دیں۔ مذاکرات اور امن و امان پر یقین رکھتا ہوں۔ میں سندھ کا بیٹا ہوں، سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا۔ ہم فسادی عناصر کو سندھ سے باہر کر دیں گے۔ آئی این پی کے مطابق الطاف حسین نے ایم کیو ایم پر شیعہ سنی کو قتل کرنے کے الزام پر کہا کہ ایسے الزامات پر ان کا دل گالیاں دینے کو کہتا ہے، انہوں نے کہا کہ میجر جنرل رضوان اختر نے کہا کہ انہوں نے ہمارے کئی لوگوں سے کہا کہ آپ کے لوگ جنوبی افریقہ سے آتے ہیں اور شیعوں کو قتل کرتے ہیں۔ الطاف حسین نے کہاکہ یہ سب جھوٹ ہے۔
الطاف