پارلیمنٹ کے سامنے ہنگامہ آرائی‘ تحریک انصاف کے چار کارکنوں کے قتل کا الزام‘ نواز‘ شہباز‘ نثار سمیت گیارہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

28 ستمبر 2014
پارلیمنٹ کے سامنے ہنگامہ آرائی‘ تحریک انصاف کے چار کارکنوں کے قتل کا الزام‘ نواز‘ شہباز‘ نثار سمیت گیارہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست پر پارلیمنٹ کے سامنے ہنگامہ آرائی‘ 30 اگست کی شب تحریک انصاف کے کارکنوں پر فائرنگ‘ آنسو گیس پھینکنے اور قتل کے الزام میں وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور وفاقی وزرا سمیت 11 اہم شخصیات کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی گئی۔ جن وفاقی وزرا پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ان میں چودھری نثار علی خان‘ خواجہ محمد آصف‘ خواجہ سعد رفیق اور اسلام آباد انتظامیہ کے افسر شامل ہیں۔ وزیراعظم سمیت 11 اہم شخصیات کیخلاف قتل کے مقدمہ کے اندراج کی درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔ دوران سماعت تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے۔ درخواست محض تشہیر اور سنسنی پھیلانے کیلئے دائر کی گئی ہے اسلئے اسے خارج کیا جائے۔ تحریک انصاف کے وکلا کا کہنا تھا کہ 27 جون 2014ء کو بہاولپور میں عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ 14 اگست کا اجازت نامہ ملنے پر دھرنا دیا گیا‘ 19 اگست کی شام کو دھرنا پرامن طور پر شاہراہ دستور منتقل کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ 30 اگست کی شب جب دھرنے کو پرامن طور پر وزیراعظم ہاؤس منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تو پولیس نے شیلنگ اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4 کارکن جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ تحریک انصاف کے وکلا کا کہنا تھا کہ حکومت نے ریاستی مشینری اور پولیس کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا۔ پورے آپریشن کی کمان وزیر داخلہ چودھری نثار نے کی، چودھری نثار نے ریڈ زون کا دورہ کیا اور کامیاب آپریشن پر اہلکاروں کو مبارکباد دی۔ وکلا کا کہنا تھا کہ پولیس نے عمران خان کے کنٹینر پر براہ راست فائرنگ کی۔ ویزر دفاع نے ٹی وی پر بیان دیا کہ آپریشن کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت سے ہوا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے وزیراعظم نوازشریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ وزیر داخلہ چودھری نثار‘ وزیر دفاع خواجہ آصف‘ وزیر ریلوے خواجہ آصف سمیت 11 شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ تحریک انصاف نے درخواست میں آئی جی پنجاب‘ آئی جی ریلوے پولیس‘ ایس ایس پی آپریشن ‘ ڈپٹی کمشنر‘ اس کے وقت کے آئی جی خالد خٹک کو بھی نامزد کیا ہے۔ عدالت نے تحریک انصاف کے مقدمہ میں دہشت گردی 7 اے ٹی اے کی دفعات شامل کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی۔ عوامی تحریک کی درخواست پر بھی وزیراعظم سمیت 11 افراد کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے جس کی تحقیقات ایس پی کیپٹن الیاس کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس کے باوجود عمران خان کے کنٹینر پر 36 گھنٹے تک فائرنگ کی گئی جس سے 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اس پورے آپریشن کی ذاتی طور پر نگرانی اور ریاستی مشینری استعمال کی۔
وزیراعظم/ مقدمہ