جمہوری پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں، اقتصادی ترقی میں مدد دیتے رہیں گے: امریکہ

28 ستمبر 2014

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی صدر بارک اوباما کی بھارتی و زیراعظم نریندر مودی سے ملاقات سے قبل اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکہ جمہوری پاکستان کیساتھ کھڑا ہوگا اور اسکی اقتصادی ترقی میں مدد دیتا رہیگا۔ یہ اعادہ امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے نوازشریف سے ملاقات میں کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اور امریکی نائب صدر جوبائیڈن کی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مفادات پر بات کی۔ اسکے علاوہ دہشت گردوں کیخلاف جاری جنگ کی اہمیت، تجارت، توانائی میں تعاون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی نئی حکومت کے قیام کا بھی خیرمقدم کیا۔ دونوں نے یہ بات تسلیم کی پاکستانی عوام نے انتہاپسندوں کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ نوازشریف نے پاکستان میں پن بجلی منصوبوں اور دیگر شعبوں میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان ونی چوالہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا سیاسی مسئلہ اسکا اندرونی معاملہ ہے، ہماری خواہش ہے کہ معاملہ آئینی طریقے سے حل ہو۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی امریکی نائب صدر سے ملاقات مثبت رہی۔ دونوں رہنمائوں نے امن و امان اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی امریکی نائب صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تفصیل کے مطابق دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف کیساتھ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں یہ عزم دہرایا گیا کہ پاکستان اورامریکہ سکیورٹی کے شعبے میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں کیونکہ وہ اسے علاقائی استحکام کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے کہا کہ خطے میں امن سلامتی اور استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کے حصول کیلئے بہت اہم ہیں۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم اور نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکہ کیلئے دہشت گردی خطرہ ہے۔ نواز شریف نے پاکستان سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کیخلاف حالیہ کارروائی میں حاصل کی گئی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں امریکہ کے تعاون کی تعریف کی۔ پاکستان اور امریکہ بہت سے مشترکہ مفادات کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے امریکی نائب صدر سے کہا کہ ٹی ٹی پی کمانڈر ملا فضل اللہ افغانستان میں روپوش ہے۔ امریکہ اور افغان حکومت اسکے خلاف کارروائی کریں۔