امن کے بڑھتے قدم

28 ستمبر 2014

مکرمی! سرحدوں پر توپوں کی کی گھن گرج کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ جونہی حالات معمول پر آئیں گے تو بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال ہوجائے گا۔ بھارت کے ساتھ اس وقت سب سے اہم مسئلہ کشمیر کا ہے جس کے حل کیلئے کی جانے والی کوششوں میں وقت کے ساتھ ساتھ کامیابی ہوگی۔ جبکہ دوسرے مسائل کے حل کیلئے بھی حوصلہ افزا اقدمات کی ضرورت ہے جس کیلئے مذاکرات اہم ذریعہ ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ کبھی جنگ تھا او نہ کبھی جنگ کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سیاسی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ روایتی اور رجعت پسندانہ رویوں اور پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے سوچ، رویوں اور پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کشمیر جنوبی ایشیا کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن اس چھوٹے سے ٹکڑے میں پورے جنوبی ایشیا کے امن کا قیام پوشیدہ ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پاک بھارت روایتی دشمنی دائمی دوستی میں تبدیل ہو جائے گی۔ حیرت صرف اس بات کی ہے کہ جب دونوں ملکوں کے لوگ امن کیلئے بے تاب ہیں، حکمران اپنے بیانات کے ذریعے یہی تاثر دے رہے ہیں تو پھر اس کی راہ میں رکاوٹوں کاخاتمہ کیوں ممکن نہیں ہے۔ (محمد ضیاءآفتاب، نیو گارڈن ٹاﺅن لاہو)