جمہوریت زراعت وصنعت شدید خطرات

28 ستمبر 2014
جمہوریت زراعت وصنعت شدید خطرات

جمہوریت کے دعوے داروں اور امن کے ٹھیکیداروں نے جہاں ایک طرف ماڈل ٹاﺅن لاہور دوسری طرف پارلیمنٹ اسلام آباد کے باہر اور اب تیسری طرف بلاول ہاﺅس کراچی کے باہر جو ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ان نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کا مکروہ چہرہ سب کے سامنے آ چکا ہے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں پر جان لیوا تشدد کو ابھی بہت زیادہ وقت نہیں گذرا کہ کراچی میں بلاول ہاﺅس کے باہر پر امن اساتذہ پراس وقت لاٹھی چارج کردیا گیا جب وہ جمہوریت، امن وانصاف، رواداری، وضع داری اور حب الوطنی کے نام نہاد پیکروں، روٹی کپڑا اور مکان کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف بنانے والوں سے اپنے لئے انصاف طلب کرنے سندھ کے بادشاہوں کے دروازے پر جا رہے تھے مگر ان بچے پڑھانے والوں کو کیا معلوم کہ کتابوں میں جو لکھا ہوتا ہے وہ عام زندگی میں نہیں ہوتا جو جمہوریت کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے اسکے بلکل الٹ پاکستان میں ہو رہا ہے یہاں پر اپنا حق مانگنا جرم ہے۔ آج پوری قوم تکلیف میں مبتلا ہے ایک طرف عوام کا سیلاب ہے جو اپنے حقوق کی خاطر ایک ماہ سے اسلام آباد کی سڑکوں پر ہے اور دوسری طرف پانی کا سیلاب ہے جو ہمارے حکمرانوں کی نااہلیوں کی بدولت آج پاکستان کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے ہمارے حکمران بھی کتنے عجیب ہیں کہ مرنے کے بعد کروڑوں روپے لواحقین میں بانٹ دیتے ہیں مگر ان کو مرنے سے بچانے کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کرتے جتنے پیسے ہم نے آج تک سیلاب متاثرین میں بانٹ دئیے ہیں ان سے بھی کم پیسوں میں ہم اتنے ڈیم بنا سکتے تھے کہ یہ سیلابی پانی پاکستان پر عذاب بن کر نازل نہ ہوتا بلکہ ہمارے لیے خوشحالی لاتا اور ہم پورا سال اس پانی سے اپنی زمینوں کو شاداب کرتے نئی نہریں نکالتے اور اپنے چولستان کو آباد کرتے مگر ہمارے حکمران ملکی دولت لوٹ لوٹ کر پاکستان کو کنگال کرکے قوم کو غلام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ہمیں ایسے سیاستدان اور ایسے حکمران نہیں چاہئیں جو لوگوں کے مرنے کے بعد کفن لیکرتو پہنچ جائیں مگر زندہ انسانوں کو قریب بھی نہ آنے دیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے یہ سیلابی حکمرانی ہیں جو صرف ان ہی موسموںمیں باہر نکلتے ہیں جب ملک میں سیلاب آ جائے اور ان پانیوں سے جو سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے وہ ان لوگوں کا ہے جو دریا کے اندر غیر قانونی طور پر آباد ہوجاتے ہیں جاگیرداروں‘ حکمران طبقے اور بااثر شخصیات، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی پشت پناہی کے باعث دریاﺅں کے پیٹ (River Bed) پر ناجائز تعمیرات اور ناجائز طو رپر کاشت اور زیر استعمال لانے کے باعث قوم کو اتنے بڑے سانحے کا سامنا کرنا حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں لمحہ فکریہ اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کی انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں فیڈرل فلڈ کمیشن ‘ صوبائی فلڈ ریلیف کمیشنز اور محکمہ آبپاشی کو اربوں روپے کے فنڈز دئیے گئے لیکن انہیں تعمیرات و اصلاحات پر خرچ کرنے کی بجائے ان میں خرد برد کر لی گئی جس کی وجہ سے آج دریا بپھر گئے ہیں اور دریاﺅں کا پانی آبادیوں کو عبور کرکے شہروں میں داخل ہو رہا ہے اور حکومتی ادارے تاحال تباہ کن سیلاب کی وجوہات جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے اسکی تحقیق اور مستقبل میں ایسے سیلابوں سے بچنے کے لئے بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں آبی ماہرین‘ انجینئرز‘ متاثرہ فریقین خصوصاً کسانوں کو شامل کیا جائے تاکہ ملک کی زراعت اور مالی و جانی نقصان سے بچا جا سکے لیکن پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس پیمانے پر بارشیں نہیں ہوئیں جتنا دریاﺅں میں تباہ کن سیلاب آیا ہے پاکستان میں عوام کو سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے پیشگی آگاہ کرنے کے لئے کوئی انتظام موجود نہیں اس لئے فیڈرل فلڈ ریلیف کمیشن میں اصلاحات ناگزیر ہیں دریاﺅں کے پیٹ (River Bed) میں لاکھوں کروڑوں لوگ غیر قانونی طور پر رہائشگاہیں آباد کر کے مال مویشی پال چکے ہیں جبکہ ناجائز طور پر فصلیں کاشت کر رہے ہیں جو کہ حکومت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بعض دریاﺅں میں بند باندھ دئیے گئے ہیں لیکن دریاﺅں کے پھیلاﺅ کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے آج دریاﺅں کا پانی آبادیوں کو عبور کر کے شہروں کا رخ کر رہا ہے جس سے اربوں ‘ کھربوں کی کی زرعی معیشت تباہ ہونے کے ساتھ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جنگی بنیادوں پر ڈیم تعمیر کئے ہوئے ہےں اور پاکستان کو معاشی طور پر اپاہج بنانے کیلئے خوفناک منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے اُس کی آبی جارحیت سے پاکستان کے زراعت و صنعت خطرات سے دوچار ہے۔ انڈیا نے لداخ میں ڈیم مکمل کر لیا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...