ناصر عباس تارڑ کی کاوشیں اور اخوت تنظیم

28 ستمبر 2014
 ناصر عباس تارڑ کی کاوشیں اور اخوت تنظیم

بھارت سے آنیوالے سیلابی ریلے نے پنجاب کے وسیع علاقے میں تباہی مچا دی۔ ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ سینکڑوں مکان گر گئے اور دیہات زیرآب آگئے۔ کئی سو افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک قیامت کا سماں ہے۔ لوگ بھوکے ‘ پیاسے پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سینکڑوں مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ان حالات میں پوری قوم کو پاکستان کے نام پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی انداز میں جس طرح پاکستان میں زلزلہ آیا اور پوری قوم نے متحد ‘ منظم ہوکر مقابلہ کیا‘ لیکن افسوس کہ پاکستان کی حکومت نے متاثرین سیلاب کی مدد اس تیزرفتاری سے نہیں کی جس کی ضرورت تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان نے دن رات ایک کر دیا اور عوام کو اس مشکل سے نکالنے کی کاوشیں کیں‘ لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ سفارتخانوں کو متحرک کیا جاتا۔ بین الاقوامی طاقتوں بالخصوص برطانیہ‘ یورپین یونین امریکہ کے ذریعے اور انکے تعاون سے جدید انداز اور طریقوں سے عوام کو نجات دلائی جاتی‘ لیکن سفارتی سطح پر اس طرح کی کاوشیں نہیں کی گئیں جس کی ضرورت تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیلاب جیسی آفات سے نمٹنے کیلئے عوام کی مدد کیلئے آنا سب کا فرض ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کا حق بنتا ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔ یورپ اور برطانیہ میں مقیم افراد کو بھی چاہئے کہ وہ ناصر عباس تارڑ کی طرح تقریبات کا اہتمام کریں۔ ناصر عباس تارڑ پاکستان کی سماجی تنظیم اخوت کے نمائندہ اور ایک سوشل ورکر ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام کو تعلیم ‘ صحت جیسی سہولیات فراہم کرنے میں زبردست کردار ادا کیا انکی تمام تر خدمات اپنی مدد آپکے جذبے کے تحت کی گئیں جو واقعی ایک مثال ہے۔ پاکستان پر جب بھی مصیبت آئی یا اوورسیز پاکستانیوں کی ضرورت محسوس ہوئی ناصر عباس تارڑ ‘ ظفر عباس تارڑ دونوں بھائیوں نے آگے بڑھ کر پاکستان اور قوم کی خدمت کی۔ گزشتہ روز فرانس میں انہوں نے چند گھنٹوں میں سیلاب متاثرین کیلئے ایک تقریب کا اہتمام کیا ۔ فرانس کے سفیر پاکستان مہمان خصوصی تھے جس میں 20 ہزار یورو اکٹھے کر لئے گئے۔ اس خوبصورت اور چھوٹی سی تقریب میں اخوت تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر احمد ثاقب نے حاضرین کو اپنی تقریر کے ذریعے وہ جذبہ‘ جوش‘ ولولہ پیدا کیا جس کی واقعی پاکستان اور پاکستان سے باہر اوورسیز اور پاکستانی سیاستدانوں کو بھی ضرورت تھی۔ ان کی تقریر اگر دھرنا دینے والے سیاستدان بھی سن لیتے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بحیثیت پاکستانی دھرنے چھوڑ کر متاثرین سیلاب کی مدد کیلئے بھاگ نکلتے۔ سیلاب کا ریلا آتے ساتھ ہی پاک فوج کے جوان متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہوگئے۔ فوج اس وقت دہشت گردی کیخلاف ایک فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے۔ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے 10 لاکھ افراد کی دیکھ بھال بھی کر رہی ہے‘ لیکن افسوس کہ دھرنہ سیاست میں میڈیا پورے جوبن سے انہیں کوریج دے رہا ہے جبکہ اصل مقصد سے توجہ ہٹا دی گئی ہے۔ متاثرین سیلاب اور متاثرین وزیرستان ان کی مدد‘ دعاﺅں اور توجہ کے مستحق ہیں۔ آج ہمیں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے اپنوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ سیاسی‘ مذہبی پارٹیوں نے احتجاجی دھرنے‘ گھیراﺅ جلاﺅ‘ سول نافرمانی‘ زور زبردستی سے ملک کے سیاسی نظام کو مفلوج کرنے اور انقلاب کے نام پر اقتدار پر غیر آئینی اور غیر جمہوری قبضے کے نعرے دراصل قوم کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ایک سازش ہے۔ ملک کو سنگین مسائل سے نجات دلانے کیلئے غوروفکرکی ضرورت ہے۔ پاکستان کو دلدل سے باہر نکالنے کیلئے ہم سب کو بالکل وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو کردار ان حالات میں ناصر عباس تارڑ نے ادا کیا۔ ہم سب کو پاکستان کی تعمیر میں اسی طرح جدوجہد کرنا ہوگی۔اخوت تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے فرانس میں فنڈ ریزنگ تقریب میں اپنے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران کہا کہ سب سے پہلے پاکستان کو ترجیح دیں۔ ایک مضبوط‘ خوشحال پاکستان ہی پاکستانیوں کو عزت و وقار دے سکتا ہے۔ اس پر عمل کرکے ہی ہم غیور پاکستانی بن سکتے ہیں۔ اخوت کے چیئرمین نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ آیئے سب مل کر اخوت تنظیم کے ساتھ مل کر معاشرے میں امن قائم کرکے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔