’’کُج سانوں مرن دا شوق وی سی ‘‘

28 ستمبر 2014

ملک عزیز میں سیاسی انتشار کے نتیجے میں چین کے صدر کا دورہِ پاکستان ملتوی ہو گیا اور چینی صدر ہمارے ازلی دشمن بھارت کے دورے پر تشریف لے گئے۔ اس سفارتی مزاحمت کے نتائج تو وقت کیساتھ ساتھ عیاں ہونگے۔ مگر ہر محبِ وطن اسکی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی آسانی سے عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔ اس سے ملک کو شدید مالی نقصان کے علاوہ پوری دنیا میں ہمارے بارے میں بہت ہی منفی تاثر قائم ہوا ہے‘ لیکن جب کوئی ہمیں ہماری غلطیوں کا احسا س دلاتا ہے تو ہم اس کو ملک کے خلاف سازش قرار دیکر اپنے آپکو دھوکہ دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہور ہے ہیں۔ پچھلے ہفتے امریکی اخبار نیو یارک ٹائم کے اداریئے میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ Pakistanis are their own worst enemies. ۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ آج پاکستان لا تعداد مشکلات کا شکار ہے‘ لیکن حکومت ملک میں بپا ہونیوالے سیاسی انتشار کی وجہ سے ان مسائل کا سدباب کرنے میں مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے۔ قطع نظر اسکے کہ چینی صدر کے بھارت کے دورے کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں‘ہمارا ملک جنوبی ایشیا میں ہونیوالے اہم (deals) یعنی معاہدوں میں شامل نہیں ہو سکا جو کہ اس علاقے کے ممالک چین اور جاپان کے ساتھ کر رہے ہیں جس سے یہ علاقائی ممالک تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم اندرونی انتشار کی وجہ سے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ہمارے بارے میں مایوس کن اور منفی تاثر پایا جاتا ہے اُسکا اندازہ کو لمبیا یو نیورسٹی کے پروفیسر ANSILE EMBREE کے ان خیالات سے کیا جا سکتا ہے جن کا اظہار انہوں نے ایک لیکچر کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان مکمل طور پر ایک اسلامی ریاست بننے کے خبط میں مبتلا ہے جو کہ مسٹر جناح کے پاکستان کے تصور سے متصادم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کسی مثبت تبدیلی کا قطعی کوئی امکان موجود نہیں اور وہاں صرف اسلامی انقلاب ہی آسکتا ہے اس لیے پاکستا ن کا بھارت سے موازنہ کسی صورت میں درست نہیں‘‘ ہو سکتا ہے کہ ہم امریکی پروفیسر کی رائے سے اتفاق نہ کریں لیکن ملکی حالات اسکی گواہی دیتے ہیں کہ اُس دانشور کی باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔اس ضمن میںبہت ہی پریشان کُن بات یہ ہے کہ ہمارے لیڈز مذہبی انتہا پسندی اور لسانی دھڑے بندیوں کے تدارک اور روک تھام کیلئے قطعی سنجیدہ نہیں ہیں۔ اسکی تازہ ترین مثال کراچی یونیورسٹی کے اسلامیات کے ڈین ڈاکٹر شکیل اُوج کا بہیمانہ قتل ہے جو کہ مذہبی انتہا پسندی اور BLASPHEMY یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے سلسلے میں دہشت گردوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے۔ کیونکہ انکے بارے میں الزام تھا کہ وہ چند سال پہلے امریکہ میں ایک لیکچر کے دوران گستاخی رسول ﷺ کے مرتکب ہوئے تھے اس طرح کا واقعہ پچھلی حکومت کے دور میں ہوا جس میں جناب سلمان تاثر کو اس ہی جرم کی سزا کے طور پر دن دھاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔قارئین! پاکستان میں جاری قتل و غارت کی وارداتیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں اور کسی مہذب اور جمہوری ملک میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم اور خاص طور پر ہماری سیاسی قیادت مکمل طور پر بے حس ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں ملک سیاسی بحران میں گرفتار ہے جو کہ علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے اور انقلاب مارچ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور یہ دونوں لیڈز ملک کو درپیش مشکلات سے بالکل لا تعلق ہو کر سول نافرمانی اور بغاوت پر لوگوں کو اُکسانے پر تلے ہوئے ہیں وہ عوام کو ٹیکس نہ دینے اور بجلی کے بل جلانے کے مشورے دے رہے ہیں ۔ ان گھمبیر حالات کے پیش نظر خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کو شعور اور عقل و دانش عطا کرے کہ وہ آپس کے اختلافات کو بھلا کر متحدہ طور پر ملک کی سلامتی کو در پیش خطرا ت کا مقابلہ کر یں اور ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کی بجائے اسکی تعمیر اور ترقی کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہ کریں کیونکہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمیںیہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ۔اور اس خطہ زمین کو حاصل کرنے کیلئے لاکھوں لوگوں نے اپنی جان مال اورعزت کی قربانی دی اور اب ہمیں ملکی بقا اور سلامتی کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے ورنہ آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرینگی۔ موجودہ حالات میں ہمارے پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ   ؎کُج شہر دے لوگ وی دشمن سنکُج سانوں مرن دا شوق وی سی