جب اہلِ وطن پر قیامت گزری !

28 ستمبر 2014

فلاح انسانیت فا¶نڈیشن کے سربراہ حافظ عبدالر¶ف سیلاب کی ستم رانیوں کی داستان کیا سنا رہے تھے یوں لگا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ سیلاب کے متاثرین پر کیا قیامت گزری پروجیکٹر کی شعاعیں سکرین پر جو دلدوز مناظر بنا رہی تھیں ان سے بعض چہروں پر چھائی الم کی پرچھائیوں اور بعض حساس دل والوں کی پُرنم آنکھیں اندرونی کیفیات کا اظہار کر رہی تھیں۔ سینئر جونیئر صحافی، کالم نگار خجالت سی بھی محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کی ایسی ہولناک صورتحال سے بے خبر رہے۔ میڈیا کے حوالے سے بھی شرمندگی کا احساس یوں جائیگا کہ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے اسلام آباد کے دھرنا ڈراموں کیلئے تو گھنٹے وقف کر رکھے ہیں جن سے تادم تحریر ملک و قوم کو نقصانات کے سوا کچھ نہیں ملا لیکن سیلاب سے متاثرہ غریب لوگوں کی حالتِ زار کو عوام کے سامنے لانے کیلئے صرف چند ثانیے ہی ہیں ان متاثرین پر جو گزری وہ بیان کی جا سکتی ہے نہ اسے ضبط تحریر میں لانا ممکن ہے۔ تصور کیا جائے تاحدِ نظر پھیلے آلودہ پانی میں گھرے ایک ٹوٹے پھوٹے مکان کے ملبہ پر یا بچ جانیوالی چھت کے ایک حصے پر عورتوں، بچوں سمیت ایک کنبہ کئی روز سے بیٹھا ہو ہر طرف پانی پھیلا ہو مگر پیاس بجھانے کیلئے ایک گھونٹ میسر نہ ہو نہ پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے ایک لقمہ موجود ہو اس صورتحال کا شکار صرف ایک کنبہ ہی نہیں سینکڑوں کنبے ہیں وہ جس کرب اور اذیت سے گزر سکتے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی کرسکتے ہیں۔ تباہ شدہ مکانوں کے ملبے پر پچاس ساٹھ افراد عورتوں اور بچوں سمیت جمع ہیں فلاح انسانیت فا¶نڈیشن کے کارکن جو فلاح انسانیت کے سچے جذبے سے سرشار ہیں ایک کشتی لیکر ان تک پہنچتے ہیں کشتی میں صرف پندرہ افراد کی گنجائش ہے مگر 35 افراد کو سوار کرانا پڑ جاتا ہے باقی رہ جانے والے لوگ کس دکھ اور حسرت سے ان ”خوش نصیبوں“ کو دیکھتے ہیں۔ دل دکھے ہوئے ہیں مگر زبانوں پر خیرسگالی کے جذبات ہیں چلو یہ تو بچ جائینگے۔ ایک ماں رو رو کر فریاد کر رہی ہے اسے کچھ نہ دیا جائے اسکی گیارہ سالہ بیمار بچی کو دوا دے دی جائے۔ تباہ شدہ گھروں سے بچا کھچا سامان لے جا سکتے ہیں یا خود اپنی جان بچا سکتے ہیں زندگی کو سامان پر ترجیح دے دی جاتی ہے سامان چھوڑ کر حسرت بھری نظر ڈال کر کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں۔ بارات کے ڈوبنے کا منظر دیکھنا مشکل ہو رہا تھا کہ عورتیں اور بچے جان بچانے کیلئے ہاتھ پا¶ں مار رہے تھے۔ فلاح انسانیت فا¶نڈیشن کے کارکن انہیں خونیں لہروں کے جبڑوں سے نکالنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ فوجی جوان بھی ان میں شریک ہو گئے جو بچ گئے ادھ موئے تھے۔ مساجد بچ سکیں نہ قبرستان، فصلوں کا جو نقصان ہوا وہ الگ ہے۔ لائقِ ستائش ہیں فلاح انسانیت فا¶نڈیشن کے کارکن جو جہادی جذبہ کے ساتھ مصیبت زدہ بھائیوں کو بچانے اور انہیں خوراک سمیت دیگر امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ حافظ عبدالر¶ف نے کہا کہ تباہ شدہ مکانوں کے ملبہ پر کھلے آسمان تلے پڑے لوگوں نے موسپل کا تقاضا کیا شاید یہ آپ (حاضرین) کو عجیب لگے مگر وہاں مچھروں کی اتنی بہتات ہے کہ ہمارا دو ڈھائی گھنٹے ٹھہرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان حاضرین کو عجیب لگا یا نہیں لگا پنجاب کی بیوروکریسی کو ضرور عجیب لگا ہے۔ میرے ایک دوست نے کئی روز قبل اثنائے گفتگو بتایا کہ محکمہ صحت میں انکے ایک اعلیٰ آفیسر جو انکے دوست ہیں، بڑے تمسخرانہ انداز میں کہا ”یہ شہبازشریف کو دیکھو ہمیں ہزاروں مچھر دانیاں خریدنے کا آرڈر دے دیا ہے، یہ دیکھو کیسے احمقانہ احکامات ہیں۔میرا خیال ہے کہ محکمہ صحت کے تمام افسروں کو بشمول سیکرٹری دو دو گھنٹے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب زدگان کے ساتھ بٹھایا جائے پھر انہیں انکی اصل ضروریات کا ادراک ہو جائے گا۔ حافظ سعید کے یہ مجاہد چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ ایسے ایسے تباہ شدہ گا¶ں میں پہنچے جہاں لوگوں کو چھ سے سات دن تک کھانا نصیب نہیں ہوا تھا مگر ان کا اصرار تھا کہ انہیں کھانا مت دو یہاں سے نکالو ایک بزرگ جس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے وہ سیلاب میں گھرے مخدوش گھر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا جب اصرار کیا گیا تو اس نے روتے ہوئے کہا اس کی سات جوان بیٹیاں ہیں ان کو لے کر سڑک پر کیسے بیٹھ جائے وہ بیٹیوں سمیت اس گھر میں دب کر مر جائے گا۔ سیلاب میں ڈوب جائے گا مگر یہ آدھی گری ہوئی چھت نہیں چھوڑے گا۔ بدبو دار پانی میں گھرے کئی روز سے پیاسے لوگوں کے لئے یہ مجاہد جب پانی کی بوتلیں لے کر جاتے ہیں تو ان کے لئے اظہار تشکر مشکل ہو جاتا ہے۔ سیلابی پانی میں گھرے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لئے ہوئے لوگ رسیاں لٹکا کر خوراک کے پیکٹ وصول کرتے ہیں ایسے ہی ایک مکان کی چھت پر کئی بچوں کے ساتھ موجود ایک عورت کے پاس رسی نہیں تھی اس نے دو چادریں جن پر بچوں کو لٹاتی ہے آپس میں باندھ کر لٹکا کر خوراک اور پانی حاصل کیا۔ یہ اور اسی طرح کے مناظر سے سیلاب زدگان کی حقیقی صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس ڈاکومینٹری کو نیشنل چینلز پر پیش کیا جائے تاکہ اہلِ وطن بھی حقیقی صورتحال جان سکیں۔ اہلِ وطن سے گزارش ہے وہ فلاح انسانیت فا¶نڈیشن سے زیادہ سے زیادہ تعاون کر کے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی عملی مدد میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ حافظ سعید نے اس سیلاب میں بھارت کے سازشی کردار کو بے نقاب کیا اس حوالے سے جناب مجیب الرحمن شامی کی جانب سے ماہرین کی ٹیم کی تجویز پر اتفاق رائے کیا گیا۔