گداگری کی لعنت۔۔۔

28 ستمبر 2014

ان دنوں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بہت سارے گداگر اپنے آپ کو سیلاب متاثرین ظاہر کر کے خوب گداگری کر رہے ہیں جس سے مستحق افراد کی یقینا حق تلفی بھی ہو رہی ہے۔ ایک زمانے میں ملتان کو گداگری کے حوالے سے ضرب المثل کی حیثیت حاصل تھی مگر اب ہر شہر میں گداگری ملتان کے برابر ہے۔ گداگری ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن وطن عزیز کے اندر گداگری کا طوفان قابل افسوس ہے۔ لوکل زکواة و عشر اور ضلعی و صوبائی بیت المال کے نظام کے ہوتے ہوئے ہزاروں و لاکھوں گداگروں کا سیلاب خصوصی طور پر شہروں میںگداگروں کا اژدہام مقامی حکومتوں کے نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ محکمہ سماجی بہبود کے افسروں کی فوج ظفر موج کی ذمہ داری اور ناکامی محض کاغذی کارروائی کا اعلان کر رہی ہے جو پاکستان قوم کے چہرے پر بدنما دھبہ ہے۔ اسلام نے سخاوت اور صدقہ و خیرات کو زندگی کے مصائب اور بیماریوں کیلئے ڈھال قرار دیا ہے اور ہمارے اسلامی ملک اور معاشرے میں اسی کو جواز بنا کر ایک طرف گداگروں نے ”اللہ کے نام پر“ ہاتھ پھیلانے کو زندگی کا وطیرہ بنا رکھا ہے جن لوگوں نے ہاتھ پھیلانے اور اڈے بنا کر بھیک مانگنے کو شعار بنا رکھا ہے کیا ہم نے کبھی انکے متعلق سوچا ہے کہ انکے ہاتھوں میں روزانہ سینکڑوں روپے اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر وہ بھیک مانگنے سے غیرحاضری کیوں نہیں کرتے۔ وہ اپنے گداگری کے ٹھکانوں پر روزانہ نہایت پابندی سے کیوں پہنچ جاتے ہیں۔ روزانہ ہی وہ ہاتھ کیوں پھیلاتے ہیں۔ انکی ضرورتوں کا کشکول لبریز کیوں نہیں ہو پاتا۔ میں جب بھی گاڑی پر گھر سے نکلتا ہوں جس چوراہے میں، جس سگنل پر گاڑی کھڑی کرتا ہوں پل جھپکتے میں کوئی نہ کوئی گداگر مرد یا عورت کار کے دروازے کو کھٹکھٹانے کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ وہ کار کا شیشہ نہ کھولنے پر اس قدر زور سے اسے تھپتھپاتے ہیں کہ اس امر کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کار کے دروازے کا شیشہ ٹوٹ نہ جائے۔ بہت سے مکروہ چہرے اور ناپسندیدہ ہاتھ آپ کے سامنے پھیل جائیں اور وہ لوگ آپ کو آگے بڑھنے سے بھی روک دیں تو پھر ان سے نجات کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ تو ہفتہ بھر کی شاپنگ سے جمع ہونیوالے سکے نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے ساتھ لاتے ہیں اور نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اپنی کار یا مسجد والی گلی سے نکلنے تک جس کے ہاتھ میں جو سکا آیا رکھتے چلے جاتے ہیں۔ کچھ رحم دل لوگ پہلے گداگر کی مٹھی میں پانچ روپے کا سکہ یا دس روپے کا نوٹ رکھ کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر گداگر لوگ انہیں گھیر لیتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دس روپے کا ہی تقاضا کرتا ہے۔ بہت سے نشہ کے عادی افراد نے گداگری کو پیشہ بنا لیا ہے۔ گداگری کی آڑ میں ملک دشمن عناصر، تخریب کار اور دہشت گرد خود کو کیموفلاج کرتے ہیں اور ان کیلئے اپنے مطلوبہ اہداف تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ جرائم پیشہ افراد خصوصی طور پر راہزنی کی وارداتوں کا ارتکاب کرنیوالے گروہ بھی اپنے لوگوں کو بھیک منگوں کے روپ میں بینکوں کی زیادہ رش لینے والی برانچوں کے سامنے، برانچوں کے اندر، ڈالر ایسٹ اور منی ایکسچینج کے دوسرے اداروں کے آس پاس چھوڑ دیتے ہیں جب کوئی زیادہ رقم لیکر نکلتا ہے وہ کسی کونے کھدرے میں کھڑے ہو کر موبائل ٹیلی فون سے اسکے متعلق اطلاع دیکر اپنے ساتھیوں کو واردات کیلئے سگنل دے دیتے ہیں۔ موبائل ٹیلی فون آج کل جرائم کیلئے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آجکل متعدد گداگروں کے پاس بھی نظر آ جاتا ہے۔ اکثر چوراہوں پر صبح سے شام تک گداگری کی ڈیوٹی دینے والے ٹیلی فون کر کے اپنے لوگوں کو بلا لیتے ہیں جو انہیں موٹرسائیکل یا گاڑی پر وہاں سے لے جاتے ہیں۔ گداگری نے بہت روپ دھار لئے ہیں اکثر سفید پوش قسم کے لوگ احاطہ کچہری، ریلوے اسٹیشن، کسی پارک یا تفریح گاہ میں اور اکثر آپ کے کاروباری اڈوں اور دفاتر میں آپ کو انتہائی گرم جوشی سے ملتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر بالکل یہ گماں نہیں ہوتا کہ وہ گداگر ہونگے۔ جب کوئی شخص بظاہر انتہائی مہذب اور سفید پوش قسم کا آدمی آپ سے نہایت عقیدت اور تپاک سے ملے تو آپ یقینا اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعد وہ آہستہ آہستہ آپ کو اپنا مسئلہ بتاتا ہے۔ ایک طویل داستان الم وہ آپ کو اپنے گھر میں بیٹھی جوان بیٹی کے متعلق بتاتا ہے جس کے ہاتھ پیلے کرنے کی سکت نہ ہونے کے باعث جس کے بالوں میں چاندی جھلکنے لگتی ہے۔ آپ ہمدردی محسوس کر کے سو دو سو روپے سے مدد کرتے ہیں مگر وہ اصرار کرتا ہے کہ آپ اسکے گھر آ کر اس کی تنگ دامائی کا اندازہ لگائیں۔ سو دو سو نہیں اسے دس بیس ہزار کی امداد چاہیے۔ کیا ہم ان لوگوں کو اس مکروہ دھندے سے روک نہیں سکتے۔ شہروں کے ڈی سی اوز کو اپنے اپنے شہروں کو گداگری کے چلتے پھرتے تجاوزات سے نجات دلانے کا سوچنا چاہیے۔ ان لوگوں کو جبراً اس دھندے سے روک کر کسی نہ کسی کام پر لگانے اور جو لوگ گداگری کے مستحق ہیں ان کیلئے مخیر حضرات کی طرف سے سرکاری سطح پر خیرات حاصل کر کے ان کو گلی بازاروں میں بھیک مانگنے سے روکنے کی ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کے پھیلے ہوئے ہاتھ اور ہاتھوںمیں پکڑے کشکول اس شہر کی کچھ اچھی تصویر پیش نہیں کرتے۔