کشمیر....پاکستان کی رگ جاں

28 ستمبر 2014
کشمیر....پاکستان کی رگ جاں

بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ ڈاکٹر مجیدنظامی شہہ رگ پاکستان کے حصول کی ساری زندگی قلمی جنگ کرتے رہے اور حکمرانوں کو کشمیر کے حوالے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی ترغیب دیتے رہے۔ بھارت نے جب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ہمارے تین مغربی دریاﺅں پر 67 ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس اور وولر و بگلیہار جیسے ڈیمز پر کام جاری کیا ہے‘ پاکستان کی معاشی صورتحال بدترین نہج پر آگئی ہے۔ اندرون خانہ پاکستان کی انتظامی قیادت نے بھی سونا اُگلتی زمین کی سیرابی کیلئے دریاﺅں کے پانیوں سے کماحقہ فائدہ حاصل کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا اور نہ ہی ملک کے اندر بارشوں کے پانیوں کو ذخیرہ کرکے بوقت ضرورت اپنی زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کا انتظام موجود ہے۔ نتیجتاً ایک طرف تقریباً180 لاکھ کیوسک پانی ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے تو دوسری طرف بھارت اپنا زائد پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے اور قومی اقتصادی‘ سماجی و سٹرکلچرل تباہی مچا دیتا ہے۔ ہماری حالت بھاگنا دوڑنا‘رونا پیٹنا اور بچاﺅ بچاﺅ پکارنا بن گئی ہے۔ شہہ رگ پاکستان پہ جب وار گہرے و سخت ہونے لگیں تو حالت اتنی ہی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے گزشتہ روز ہی یو این کی جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میں عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرائی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کے حل کی ذمہ داری عالمی برادری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کیلئے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اگرچہ اہم رہا ہے‘ تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر 67 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم یہ مسئلہ اجاگر ہی کیوں کر رہے ہیں۔ اب وقت گزرنے کیساتھ اور حل کے حصول میں تاخیر ہونے کے باعث پاکستان کیلئے یہ مسئلہ تو گھمبیر تر صورت اختیار کر گیا ہے۔ اپنی شہہ رگ جب اپنی ہے تو پھر اس کابہترین دفاع ہم خود کیوں نہ کر پائے۔ گرچہ عالمی برادری بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے‘ لیکن کلمہ گو کشمیر کے الحاق پاکستان کی روحانی وجوہ اورہمارے اقتصادی بقاءکے مسائل کے پیش نظر اس مسئلہ کے حل کی پہلی ذمہ داری تو ہماری اپنی ہی ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ کشمیر کا مسئلہ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کا باعث ہی نہیں بلکہ یہ خطے کے امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے بلکہ بھارتی آبی دہشت گرد وں نے اس مسئلہ کو اب پاکستانی معاشی زندگی کی سلامتی کو سیریس تھریٹ دیدیا ہے۔ بھارتی منافقانہ رویئے کو سامنے رکھتے ہوئے ابتدا ہی میں یو این قراردادادکیمطابق یو این ہی کا ایک کمیشن قائم کر دیا جاتاجو کشمیر میں رائے شماری کراتا۔ بحرحال یہ اقدام اب بھی کیاجا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو سفارتی سطح پر کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر پوری دنیا میں موجود ہمارے سفارتخانے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ابھار سکتے ہیں۔ بھارتی بدنیتی و ہٹ دھرمی کو ہائی لائٹ کر سکتے ہیں اور اس طرح عالمی برادری کی رائے اپنے حق میں تشکیل دے سکتے ہیں‘ لیکن ہمارے سفارتخانوں نے آج تک بھارت پر عالمی دباﺅ بڑھانے کیلئے ایسا کچھ نہیں کیا۔ مسئلہ کشمیرکے حل میں ہماری ناکامی کی وجہ نہ صرف کمزور سفارتی سٹرٹیجی بنی رہی ہے بلکہ اس مسئلہ کے حل میں جس سیاسی بصیرت کا اظہار ہمارے حکمرانوں کی طرف سے ہونا چاہئے تھا وہ بھی دیکھنے میں نہ آسکا۔ جیسا کہ کشمیر کمیٹی جوکہ ہر جمہوری دور میں فنکشنل رہی‘ لیکن ہرجمہوری دور کی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی کارکردگی خوش کن ثابت نہ ہو سکی۔ عسکری سطح پر کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے ساتھ ہماری فوجی جنگیں بھی ہوئی ہیں مگر چونکہ جنگوں کے مقاصد کا حصول سفارتی و سیاسی حکمت عملیوں و تدبر پر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ کشمیر کے حصول کے مقصد کی راہ میں سفارتی و سیاسی بصیرت بھی مانع ہونے کے سبب یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔ خصوصاً پاکستان کا سیاسی عدم استحکام بھارت کے حق میں گیا اور بھارت سیاسی طورپر مستحکم حریف کشمیر پر اپنی جیت کی مہر ثبت کرتا رہا۔ باوردی سیاستدانوں نے جب کشمیر ایشو پر لچک کا فارمولا اپنایا تو اسے بھارت نے اپنی جیت قرار دیتے ہوئے باقاعدہ اپنے نقشے میں کشمیر کو ظاہر کر دیا۔ اس موقع پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کی جانب سے زور دار صدائے احتجاج بلند ہوتی مگر الٹا یہ ہوا کہ ہمارے بچوں کی نصابی کتب سے کشمیر چیپٹر ہی حذف کر دیئے گئے مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر بلکہ حل نہ ہونے کے اسباب ہی ہماری سفارتی نااہلی‘ سیاسی بصیرت کا فقدان‘غیر سنجیدہ رویہ اور بھارتی مکاری‘ ہٹ دھرمی کے علاوہ اپنوں کی مفاد پرستانہ سوچ ہے۔ امریکہ ثالث بننے کا کہتا ہے مگر وہ کبھی بھارت کو ناراض نہیں کر سکتا۔ چین ثالث ہو سکتا ہے‘ گرچہ اس کے بھی بھارت کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں جنہیں وہ متوازی رکھنا چاہے گا‘ لیکن خطے میں امن کیلئے چین کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ہماری ساعی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے یا رسمی بات کرنے کی نہیں ہونی چاہئے بلکہ کھل کر کشمیر ایشو پر عالمی برادری کے سامنے بھارتی مکروہ چہرے کو آشکار کرنے کی ہونی چاہئے کہ پاکستان و کشمیر میں سیلاب سے جو ناقابل بیان تباہی حال میں ہورہی ہے‘ اسکی ذمہ داری بھارت پہ عائد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی فرماتے رہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل عسکری و ایٹمی قوت کے بل بوتے پر ہوگا۔ وقت بتا رہا ہے کہ جناب نظامی صاحب درست فرماتے تھے‘ ہمارے قائدین اب بھی نظامی صاحب کی بات سمجھ لیں کہ تیسری جنگ عظیم تو ہونی ہی پانی کے مسئلے پر ہے۔