ایک درد اور دو وضاحتیں

28 ستمبر 2014
ایک درد اور دو وضاحتیں

پچھلے کسی کالم میں برادرم بریگیڈئر اسلم گھمن کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور انہیں ایک اچھی شہرت کا دوست دیانت اور اسقامت کا آدمی سمجھتا ہوں۔ میں ان کے حوالے سے ابھی کچھ وضاحت اور کروں گا۔ مجھے اس بات کے لئے بھی معذرت کرنا ہے کہ برادرم یحیٰی مجاہد کی طرف سے دلیر اور مجاہد انسان پروفیسر سعید کی ایک دعوت ملی تھی مگر میں نہ پہنچ سکا۔ وہاں سیلاب اور سیلاب زدگان کے حوالے سے ایک بریفنگ دی گئی اور جماعت الدعویٰ کی طرف سے متاثرین کے لئے ریلیف اور امداد سرگرمیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ قوم پر ایسی ہر مصیبت کے موقع پر جماعت الدعویٰ آگے آگے ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو پروفیسر سعید کے لئے افسوسناک باتیں کرتے رہتے ہیں اس معاملے میں ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حافظ صاحب نے اس متنازعہ اور مصنوعی سیلاب کو بھارت کی آبی دہشت گردی قرار دیا۔ میں اس کے لئے اپنے خیالات کا اظہار ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ سیلاب صرف دریائے جہلم اور چناب میں آیا جبکہ ہم نے تین دریا بھارت کو بیچے تھے۔ اس کی قیمت شاید دو ڈیم ہیں۔ تربیلا اور منگلا جن میں پانی سے زیادہ مٹی ہے اور مٹی نکالنے کا ہم نے ارادہ نہیں کیا۔ ہم ایسے کام کے لئے ”مٹی پاﺅ“ کے فارمولے پر کام کرتے ہیں۔ تیسرا ڈیم ہمیں اپنوں نے نہیں بنانے دیا۔ یہ سیاستدان بھارت کے بھی ”اپنے“ ہیں۔ بھارت نے بہت ڈیم بنا لئے ہیں۔ اس کا ارادہ سو سے زیاد ڈیم بنانے کا ہے اور اس نے اپنا کوئی دریا بھی نہیں بیچا۔ بھارت جب چاہتا ہے پانی بند کرتا ہے۔ ہمیں بنجر کرنے کے لئے اور پھر پانی کا خنجر ہماری پیٹھ میں گھونپ دیتا ہے۔ یہ پانی نہیں خون ہے۔ یہ خون کے دھبے بھی ہماری پاک فوج نے دھونے کی کوشش کی ہے اور بپھرے ہوئے پانیوں میں ثبوت کے طور پر ایک شہادت چھوڑی ہے۔ نائب صوبیدار عناب گل کا جسد خاکی دشمن پانیوں کو بھی شکست دے گا۔ کون بنائے گا کالا باغ ڈیم؟ اب کالا باغ ڈیم بنانا ایک جنگ جیتنے کے مترادف ہے۔ میرے مرشد و محبوب مجاہد صحافت رہبر پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا تھا ایٹم بم میرے جسم کے ساتھ باندھو اور پھینک دو دشمن کی طرف۔ دشمن کون ہے؟ ہم سب جانتے ہیں۔ صرف ہمارے حکام نہیں جانتے دشمن کو پہچانے بغیر زندگی شرمندگی ہے۔ میرے مرشد و محبوب مجاہد صحافت ڈاکٹر مجید نظامی اپنی تقریروں میں اکثر قائداعظم کے حوالے سے یہ بات دہراتے رہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اب یہ ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے یہ شہ رگ بھارت کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے۔ برادرم یحیٰی مجاہد کی محبت میں حاضری کو بھی جہاد کا درجہ دیتے ہیں۔ وہاں کچھ باتیں مجیب الرحمن شامی سجاد میر اور عطاالرحمن نے بھی کیں۔ سجاد میر نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر سوچتے ہیں ہمیں کیوں خبر نہ ہوئی۔ ان کی خدمت میں منیر نیازی کا ایک شعر ہے۔ وہ قیامتیں جو گزر گئیںتھیں امانتیں کئی سال کی میرا دھیان نجانے کہاں تھا۔ میں تو کسی ذوالفقار گھمن کی بات کر رہا تھا۔ میں اسے نہیں جانتا میں چونکہ صرف برادرم بریگیڈائر محمد اسلم گھمن کو جانتا ہوں تو اسی کشمکش میں کوئی کوتاہی ہوئی۔ میرے گھر میں بریگیڈائر گھمن میرے بہت عزیز دوست عمران چودھری کے ساتھ آئے تھے۔ اپنی کتاب کا مسودہ دیا اور اس نے اس کے لئے فلیپ لکھا تھا۔ اس سے پہلے برادرم نواز کھرل اور عمران چودھری لارڈ نذیر کے لئے لکھی گئی کتاب کے فلیپ کے لئے بھی تشریف لائے تھے۔ میں نے بریگیڈئر اسلم گھمن کی کتاب ”ہاں یہ سچ ہے“ کے لئے جو الفاظ لکھے تھے یہاں بھی لکھ رہا ہوں۔ ”بریگیڈئر محمد اسلم گھمن کی یہ ان کی خود نوشت ہے۔ اس طرح گزاری ہوئی زندگی ایک بار پھر گزارنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ نیب صوبہ خیبر پختون خوا کے بانی ڈی جی رہے ہیں۔ وہ کرپشن کی ایسی ایسی وارداتیں سامنے لاتے ہیں کہ آدمی کا کہیں چھپ جانے کو جی چاہتا ہے۔ حکمران سیاستدانوں افسروں اور ایسے ایسے انسانوں کی کہانیاں ہیں جن کے عنوان بھی سینکڑوں ہیں۔ معمولی ملازمین بھی کرپشن میں پی ایچ ڈی ہیں۔ ملازم اور ملزم کا فرق مٹ گیا ہے۔ قانون کے رکھوالے خود بہت بڑے مجرم ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اپنے دوستوں اور دوسروں کو قانون توڑنے کی تربیت دیتے ہیں۔ برادرم عمران چودھری اور نواز کھرل نے ان کے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔ اپنے اللہ، اپنے دل اور اپنے قلم کی گواہی میں کہتا ہوں کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ پورے کا پورا سچ ہے کہ کرپشن میں ہمارے لوگ کبھی ادھورے نہیں رہے۔ گھمن صاحب نے جرات اظہار کے انتہائی قرینے کو اپنا اسلوب بنایا ہے۔ وہ دلیر اور دیانت دار آدمی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ ہمارے ملک میں کیسے کیسے طریقے اور سلیقے سے کرپشن کی جاتی ہے۔ اسے جس سادگی اور آسودگی سے لکھا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے اور ناقابل فراموش ہے۔ جو شخص کرپشن کے سرتاپا خلاف ہو‘ وہی ایسی کتاب لکھ سکتا ہے جو بریگیڈیر اسلم گھمن نے لکھی ہے۔ انہوں نے ہم پریشان لوگوں کو اور پریشان کر دیا ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم ”یہ کچھ“ ہیں ہم کچھ بھی نہیں ہیں مگر ہم ”یہ کچھ“ ہیں جو ہمیں اس کتاب ”ہاں یہ سچ ہے“ میں دکھلایا گیا ہے۔ گھمن صاحب نے ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھایا ہے۔ آئینہ ہی اصل ہے۔ ہم نے اپنی بدصورتی کی گندگی سے بیزار ہو کر کئی بار آئینہ توڑ دیا ہے۔ آئین پوری قوم کا آئینہ ہوتا ہے مگر یہ ایسی چیز ہے کہ اس کی ہر کرچی آئینہ بن جاتی ہے۔ گھمن صاحب نے کرچی کرچی جوڑی ہے اور ایک مکمل آئینہ بنا کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ سارے چراغ ایک ایک کر کے بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ اندھیرا‘ اندھیر بن گیا ہے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج‘ سارے راجے مہاراجے ایک قطار میں آ کھڑے ہوئے ہیں اور مظلوم محکموم اور محروم مخلوق حالت زار میں بلکہ حالت زار و قطار میں ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ اسلم گھمن جیسے لوگ بھی ہمارے پاس ہیں مگر ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ چاروں طرف راکھ اڑ رہی ہے اور ہماری ساکھ اس راکھ میں رل مل گئی ہے۔ مجیب الرحمٰن شامی نے لکھا ہے کہ بریگیڈئر محمد اسلم گھمن کی کتاب پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں اور خون بھی کھول سکتا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے لٹیرے دندناتے پھرتے ہیں، عزت کے حقدار سمجھے جاتے ہیں بڑے بڑے مناصب پر فائز نظر آتے ہیں کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن نے پنجے نہ گاڑے ہوں۔ گھمن صاحب کوئی ولی اللہ نہیں۔ ان سے کبھی کئی غلطیاں سرزد ہونگی لیکن آپ بیتی لکھ کر انہوں نے ہمیں جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ حسن نثار لکھتے ہیں اس طرح تو وحشی تاتاریوں نے بغداد کو لوٹا نہ ہو گا جیسے ہماری ”بھاری“ اشرافیہ نے باری باری پاکستان کو لوٹا ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو ہر قسم کے ”زر“ اور ”شر“ سے محفوظ رکھے۔ گھمن صاحب کو بھی سلامت رکھے جس نے کھل کر بتا دیا ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔بے نیازیاں