سوئی گیس کی بندش اور اووربلنگ پر عوام سراپا احتجاج

28 ستمبر 2014

سوئی گیس کی بندش کیخلاف لاہور اور گردونواح میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ ملتان میں کسانوں نے اووربلنگ اور کپاس کے ریٹ کم ہونے کیخلاف مظاہرہ کیا اور کئی گھنٹے تک دھرنا دیا گیا۔
توانائی بحران اس قدر شدت اختیار کر چکا ہے کہ گھروں میں چولہا جلتا ہے نہ ہی روشنی ہوتی ہے۔ موسم گرما میں بجلی عوام کا خون چوستی ہے جبکہ موسم سرما میں سوئی گیس کی بندش لوگوں کو سولی پر لٹکائے رکھتی ہے۔ توانائی کا بحران حکومت کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائیگا۔ اس بات کا ادراک رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اس طوفان کے سامنے بند باندھنے سے قاصر ہیں۔ حکومت اگر عوام کو بجلی یا گیس وافر مقدار میں فراہم کرے تو بل دیتے وقت عوام بھی شور نہ مچائیں۔ حکومت ایک طرف بجلی فراہم نہیں کرتی جبکہ بل الٹا کئی گنا زیادہ بھیج دیا جاتا ہے۔ اووربلنگ کیخلاف نہ صرف عوام بلکہ خواص بھی چیخ اٹھے ہیں۔ وفاقی وزراء وزرائے اعظم کے سامنے پھٹ پڑے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی اصلاح کرنے کی بجائے اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے۔ حکمران عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس کے باعث عوام ان کیخلاف چوکوں اور چوراہوں میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں جان لیوا اضافہ عوام کو مزید مشتعل کر رہا ہے۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ اور لاہور میں گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ پر عوام نے احتجاج کیا۔ ہوشربا مہنگائی نے تو پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اب بجلی کے بلوں نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ عوام نے انہیں جو مینڈیٹ دیا ہے‘ اسکے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر توجہ دیں اور عوام کے مسائل حل کریں تاکہ عوام سڑکوں پر اپنا حق مانگنے کیلئے احتجاج نہ کریں۔