کعبۃ اللہ

28 ستمبر 2014

ایک شخص نے امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا ، یہ کعبہ کیا ہے اور اس کا طواف کرنے کاحکم کیوںدیا گیاہے؟آپ کے ارشاد گرامی کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں نے جنابِ باری تعالیٰ میں انسانوں کے بارے میں گزارش کی ،تو انھیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ انہوں نے سوچا کہ ہمیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا ، ممکن ہے مالک ناراض ہوگیا ہو، اس تصور سے انکی جان نکلی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے عرش علاٗکا طواف کرنا شروع کردیا ۔ یہ وارفتگی شوق کا اظہار تھا۔اب کریم کی رحمت نے انھیں نوازا ، اور عرش کی سیدھ میں نیچے ساتویں آسمان پر ایک گھر پیدا فرمایا ،اور فرشتوں کو حکم دیا،اس گھرکا طواف کروپس فرشتوں نے اس گھرکا طواف شروع کردیا۔ اس گھر کا نام البیت المعمور رکھا گیا۔ سورہ الطور میں اسکا ذکر موجود ہے۔ (کتا ب الاعلام ، تاریخ قطبی 32،بحوالہ کعبۃ اللہ اور اس کا حج )
معراج کی شب کے جو اسرار روایات میں آئے ہیں ان میں سے مسلم شریف کی حدیث ہے۔ پھر ہمارے سامنے البیت المعمور آیا ۔ یہ ایک ایسی زیارت گاہ ہے جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے آتے ہیں ، اور پھر انھیں (کثرت تعداد کی وجہ سے)کبھی دوبارہ آنا نصیب نہیں ہوتا،اور آپ نے (مزید) بتا یا کہ حضرت  ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ البیت المعمور سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ ٭حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد گرامی امامحمد باقر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت فرماتے ہیں ۔ اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا: میرے لیے اب زمین پر بھی ایک گھر بنائو تاکہ اولاد آدم میں سے جب کسی سے ناراض ہوجائوں تو وہ اسکی پناہ لے سکے اور جس طرح تم نے میرے عرش طواف کیاتھا۔ وہ اسکا طواف کرسکے ،تب میں اس سے بھی راضی ہوجائوں گا۔جس طرح تم سے راضی ہواتھا۔ چنانچہ فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی (تاریخ الحرمین : عباس کرار ،بحوالہ کعبۃ اللہ اور اسکا حج) ٭ جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پر اترے تو اللہ رب العزت نے انھیں اس گھر کی تعمیر جدید کا حکم دیا۔ تعمیر کعبہ سے فارغ ہوکر جب آدم علیہ السلام نے کعبہ کا طواف فرمایا تو فرشتے انکے پاس آئے اورکہا ،اللہ تعالیٰ آپ کا حج قبول فرمائے ۔ہم نے دوہزار سال پہلے اسکا حج کیا تھا۔ (احیاء العلوم ۔اما م غزالی )دیکھئے کہ اللہ کی شان کریمی کہ انسان کی بودوباش سے بھی پہلے اللہ نے اسکی خطاء کی بخشش کا اہتمام فرمادیا۔ آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد کعبہ کی تکریم جاری رہی یہاں تک کہ رفتہ رفتہ کفر کا چلن عام ہونے لگا،اور دنیا کو طوفانِ نوح نے اپنی لپٹ میں لے لیا۔ کہتے ہیں کہ طوفانِ نوح کی وجہ سے کعبہ کی جگہ چھپ گئی،لیکن انبیاء اور عارفین (من جانب اللہ ) اس کی اہمیت سے آگاہ رہے یہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ذریعے پھر اس کا اظہار ہوا۔