اتوار‘ 2؍ ذوالحج 1435 ھ ‘ 28 ؍ستمبر2014ء

28 ستمبر 2014
اتوار‘ 2؍ ذوالحج 1435 ھ ‘ 28 ؍ستمبر2014ء

سیاحت کا عالمی دن گزشتہ روز منایا گیا!
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب 8 کروڑ افراد سیاحت کیلئے نکلتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں آنے والے سیاحوں میں سے 61 فیصد بھارت کا رُخ کرتے ہیں اور صرف 6 فیصد پاکستان کا۔ کیونکہ ہمارے محکمہ سیاحت نے ان غیر ملکی سیاحوں کے لئے جو پابندی نامہ جاری کیا ہے اس میں انہیں سیاحتی مقامات اور سیاحتی سہولتوں کی فراہمی کے تذکرے کی بجائے ان کو کھانے پینے پر پابندی، سرعام مرد و زن کی گھومنے پھرنے، سوئمنگ پول اور ساحل سمندر سمیت اور مخصوص مقامات پر جانے کی پابندی سمیت نجانے کتنی پابندیوں سے آگاہ کیا جاتا‘ مختلف حلیوں بہانوں سے ان سے رقم کی وصولیاں بھی ہوتی ہیں۔
محکمہ سیاحت کے ڈریس کوڈ میں کہا گیا ہے کہ سیاح چست لباس نہیں پہن سکتا‘ اس میں برائی جنم لیتی ہے۔ ڈھیلا لباس اس لئے ممنوع ہے کہ اس سے فلاں برائی جنم لیتی ہے پھر انڈیا میں فیس 70 جبکہ پاکستان میں 90 ڈالر ہے۔ اسکے بعد تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ 6 فیصد بھی کس طرح یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔
اس کے باوجود ہمارے بعض افراد اور محکموں کی کوشش ہے کہ یہ 6 فیصد بھولے بھٹکے آنے والے سیاحوں کا یہاں آنا بند ہو جائے کیونکہ ان کے آنے کی وجہ سے پوری دنیا کو پتہ چلے گا کہ پاکستان میں دنیا کے بلند ترین پہاڑی چوٹیاں، خوبصورت وادیاں اور دریا ہیں۔ یہاں ہر طرح کے موسم، پھل اور پھول ہیں۔ صحرا سے لے کر سمندر تک ہے، قدیم تہذیبوں کے آثار ہیں اور سب سے بڑھ کر یہاں کے لوگ نہایت پیار کرنے والے خوبصورت اور ہنس مُکھ ہیں۔
اگر ہم نے اپنے بارے میں دنیا بھر میں پائے جانے والے اس منفی تاثر کو ختم کرنا ہے تو پھر ہمیں سیاحت کے لئے سیاحوں کو تحفظ اور ہر ممکن سہولتیں دینا ہو گی ورنہ انہیں کیسے پتہ چلے کہ پاکستان میں قدیم ہندو مت، بودھ مت اور سکھ مت  کے مذہبی مقامات عمدہ حالت میں ہیں اور ان سے بھی قدیم ہڑپہ و موہنجو ڈارو کے آثار قدیمہ بھی دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، چھوٹے چھوٹے ممالک سیاحت کیلئے بے شمار مواقع پیدا کر کے بھاری زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ پاکستان تو اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے جبکہ یہاں کئی ممالک سے زیادہ سیاحتی مقامات ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
دوپہر کے اخبارات بیک وقت اطلاعات کا ذریعہ ریگولر اخبارات کا چربہ ہوتے ہیں‘ اسکے اشتہارات میں مزاح بھی پایا جاتا ہے۔
 خبروں سے زیادہ اشتہارات چھاپنا انہوں نے مشن بنا لیا ہے اور دوپہر کے اخبارات میں تو باقاعدہ اس کی ریس لگی نظر آتی ہے۔ کہیں جلال بابا تو کہیں جمالی بابا، کہیں بنگالی جادوگر تو کہیں ہندو جادوگر اور عیسائی ماہر علوم جنّات تو کہیں  دیو، جنّات اور پریوں کے بادشاہوں کے جھوٹے قصے کہانیوں پر مشتمل اشتہارات کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ اب تو خواتین بھی پیچھے نہیں رہیں۔ باجی عاملہ کاملہ، بی بی بنگالن، میڈیم روزی سے لے کر حاجن اور نجانے کون کون سی خواتین بھی سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے اس مشن میں شامل ہو چکی ہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ منٹوں میں قسمت بدلنے والے کنگال کو لکھ پتی بنانے والے یہ بابے اور باجیاں خود اپنے لئے کچھ نہیں سکتے اور دوسرے سے ملنے والی رقم سے اپنے روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔
بنگالی جادوگرِ اعظم کے پاس رہنے کو گھر نہیں، کرایہ افورڈ نہیں کر سکتا تو قبرستان میں تکیہ لگائے بیٹھا ہے۔ باجی کا اپنا شوہر اسے روز پیٹتا ہے اور وہ دُکھیاری عورتوں کو شوہر قابو میں لانے کے تعویذ بانٹتی پھرتی ہے۔ ساحرِ اعظم عامل کامل کو کام نہیں ملتا، روزگار دستیاب نہیں اور وہ بیروزگاروں کو روزگار دینے کا جھانسہ دیکر رقم بٹورتے ہیں۔ جن کے اپنے گھر اولاد نہیں وہ بے اولادوں میں اولاد تقسیم کرنے کے ٹھیکیدار بنے ہیں۔ یہ سب عوام کو بے وقوف بنا کر اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں۔ اگر اشتہاری بابے اور بیبیاں اتنی ہی پہنچی اور پہنچے ہوئے ہیں تو ان جنّات اور موکلات سے اپنے حالات کیوں نہیں بدلتے، اپنی بھوک و ننگ کو کیوں دور نہیں کرتے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
عید پر لوٹے قربان ہو جائیں گے : برجیس طاہر!
وفاقی وزیر امور کشمیر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کون سے لوٹے قربان ہوں گے کیونکہ مسلم لیگ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلم لیگی حکمرانوں یا حکومتوں پر بُرا وقت آیا تو سب سے زیادہ لوٹے اسی کے بطن سے برآمد ہوئے اور ان لوٹوں کی مدد سے ہی بہت سے آمروں نے عرصہ دراز تک عوام کو لوٹا بنا کر رکھا۔
اس وقت بھی معلوم نہیں کتنے لوٹے اس کی آغوش میں چھپے بیٹھے ہیں اور بوقت ضرورت چھلانگیں لگاتے ہوئے دوسروں کی جھولی میں جا بیٹھیں گے۔ رہی بات دیگر جماعتوں کی تو وہاں بھی اس قبیل کے لوٹے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ کئی جماعتوں کا تو وجود ہی لوٹوں کے دم سے ہے۔ وہ جماعتیں چاہے چودھری برادران کی مسلم لیگ ہو یا پرویز مشرف کی یا پھر شیخ رشید کی مسلم لیگ ان سب جماعتوں میں لوٹوں کے دم سے بہاریں چھائی ہوئی ہیں، یہی حال تحریک انصاف کا بھی ہے وہاں بھی مختلف مختلف الجماعتی لوٹوں کی رنگا رنگی عجب بہار دکھاتی ہے کیونکہ متنوع الخیال قسم قسم کے لوٹے شاید کہیں اور ہوں۔
اگر برجیس طاہر انپے دامن میں پوشیدہ لوٹوں پر بھی نظر ڈالیں تو یہاں بھی کئی صاحبِ کردار لوٹے نظر آئیں گے۔ اب دیکھنا ہے عید پر کون سے لوٹے قربان ہوں گے اور باقی لوٹے ان کی قربانی پر تاحیات فخر کرتے نظر آئیں گے۔ چچا غالب سے معذرت کے بعد …
’’آفریں اس لوٹے کی قسمت پہ غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو ’’عید پہ قرباں ہونا‘‘
٭۔٭۔٭۔٭۔٭

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...