وزیراعظم کا دلیرانہ خطاب اور سیلابی حقائق

28 ستمبر 2014
وزیراعظم کا دلیرانہ خطاب اور سیلابی حقائق

وزیراعظم نواز شریف کی بھارت سے دوستی کی خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے انکے اس مؤقف میں وزن ہے کہ بھارت سے دوستی کے بغیر پاکستان کی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کی رائے کے برعکس نریندر مودی کی حلف برداری میں شرکت کیلئے بھارت چلے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کی رائے یہ تھی کہ نریندر مودی چونکہ پاکستان کے بارے میں جارحانہ عزائم رکھتے ہیں اس لیے انکی پالیسی کا انتظار کیا جائے کیونکہ جذباتی فیصلے پاکستان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ میاں نواز شریف چونکہ انتخابی فتح کے نشے سے سرشار تھے لہذا وہ دہلی یاترا پر چلے گئے۔ خلوص اور نیک نیتی پر مبنی اس اقدام کے باوجود بھارت کے وزیراعظم نے پاکستان کی قدر نہ کی اور دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ہونیوالی شیڈولڈ ملاقات اس وقت معطل کردی جب بھارت میں پاکستانی سفیر نے مشاورت کیلئے کشمیری لیڈروں سے ملاقات کی۔ بھارت کے حکمران ورلڈ پاور ہونے کے زعم میں مبتلا ہیں لہذا انہوں نے یہ شرط بھی عائد کردی کہ جب تک پاکستان یہ یقین دہانی نہ کرائے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ یو این او سمیت کسی عالمی فورم پر نہیں اُٹھائے گا مذاکرات کا عمل بحال نہیں کیا جائیگا۔ بھارت کا یہ رویہ وزیراعظم پاکستان کیلئے غیر متوقع تھا۔ وہ دھرنوں کی وجہ سے دبائو کا شکار بھی ہوچکے تھے۔ اس پس منظر میں ان کا جنرل اسمبلی سے خطاب بہت اہم ہوچکا تھا۔ بھارتی لابی کا ان پر دبائو تھا کہ وہ اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر نہ کریں مگر ان کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی رائے کا بھی ادراک تھا جو بہت طاقتور ہوچکی ہے۔
بلاشک وزیراعظم پاکستان کا جنرل اسمبلی سے خطاب دلیرانہ تھا انہوں نے دو ٹوک انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔ وزیراعظم نے کشمیر کو ’’کورایشو‘‘ قرار دیا۔ بھارت اس لفظ سے بہت الرجک ہے۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ جنرل اسمبلی نے 60 سال قبل کشمیر کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔ کشمیری عوام اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام خوف، جبر اور تشدد کی فضا میں زندگی گزاررہے ہیں۔ انکے انسانی حقوق تلف کیے جارہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان باہمی احترام اور مساوات کے اصولوں کی بنیاد پر ہی اپنے تنازعات حل کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے بھارت کو پیغام دیا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے اور پاکستان کے قومی مفادات کا دفاع کرینگے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں عالمی لیڈروں کو باور کرایا کہ پاکستان عالمی امن کی خاطر دہشت گردی کیخلاف طویل جنگ بڑے عزم اور حوصلے کے ساتھ لڑرہا ہے۔ ہمارا ایک سپاہی گرتا ہے تو دوسرا بڑے فخر کے ساتھ اسکی جگہ سنبھال لیتا ہے۔ وزیراعظم نے افغانستان کے بارے میں بھی پاکستان کا قومی مؤقف جرات مندی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا خطاب ہر لحاظ سے قابل ستائش اور قومی امنگوں کیمطابق تھا۔ وزیراعظم اس خطاب کے بعد پاکستان کے اندرونی سیاسی بحران کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کرسکیں گے۔ وہ اگر عوام کی توقعات کیمطابق حکومت کی کارکردگی معیاری بنالیں تو اپنی آئینی مدت بھی پوری کرلیں گے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا ریاستی نظام فرسودہ اور ناکارہ ہوچکا ہے اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے مگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ تاثر درست نظر نہیں آتا کیونکہ انگریز کے دور میں یہی ریاستی نظام کامیابی سے چلتا تھا۔ موٹر وے پر ٹریفک کا نظام درست چل رہا ہے مگر لاہور میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے حالانکہ ٹریفک کے قوانین اور قواعد و ضوابط میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ موٹر وے پولیس کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔ آئی جی موٹر وے اہل اور دیانتدار ہیں اس لیے موٹر وے کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ پاکستان کی ریاست پر پانچ سو خاندان قابض ہیں جن کی اہلیت، دیانتداری اور حب الوطنی کے بارے میں ہر روز سکینڈل منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ پانچ سو خاندانوں پر مشتمل حکمران اشرافیہ چونکہ مفاد پرست، موقع پرست اور بدنیت ہے اس لیے ریاست کا نظام مفلوج ہوکررہ گیا ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو ریاست کے ادارے اس آفت کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں البتہ افواج پاکستان کا ادارہ مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔نظام کو کوسنے کی بجائے ضروری ہے کہ افراد کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں سے اب تک سینکڑوں افراد جان بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ہزاروں مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ فصلیں تباہ ہوگئیں اور پاکستان کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ جماعت الدعوۃ نے لاہور میں سینئر صحافیوں کے لیے سیلاب پر بریفنگ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ویڈیو دکھائی گئی اس سے اندازہ ہوا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہمارے بھائیوں پر قیامت گزر گئی۔ حافظ محمد سعید صاحب کی سرپرستی اور رہنمائی میں کام کرنے والے ادارے فلاح انسانیت کے رضاکاروں نے جس جذبے، ولولے، ایثار اور دردمندی سے سیلاب متاثرین کی مدد اور خدمت کی اسے دیکھ کر مایوس دل میں اُمید کی شمع جل اُٹھی۔ جو جذبہ فلاح انسانیت کے کارکنوں میں نظر آیا وہی جذبہ اگر سرکاری اہلکاروں میں پیدا ہوجائے تو پاکستان قائداعظم کے تصور کے مطابق ایک فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔ فلاح انسانیت کے کارکنوں نے سیلاب میں گھرے ہوئے اپنے ہزاروں بھائیوں اور بہنوں کی جانیں بچائیں اور انہیں کھانا بھی پہنچایا۔ حافظ محمد سعید صاحب نے بڑے یقین اور اعتماد سے کہا کہ بھارت نے مشکل کی گھڑی میں پانی چھوڑ کر پاکستان میں تباہی مچا دی۔ حافظ صاحب جس جذبے اور جنون کے ساتھ بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں اگر اسی جذبے کے ساتھ کرپٹ اشرافیہ کے خلاف جہاد کریں تو پاکستان میں عوام کی فلاح و بہبود کا خواب پورا کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان وژنری فورم نے ٹیک کلب ٹیک سوسائیٹی میں حالیہ سیلاب کے بارے میں ایک نشست کا اہتمام کیا۔ ارسا کے سابق چیئرمین شفقت محمود جو 2010ء فلڈ کمشن کے رکن تھے فکری نشست کے کلیدی مقرر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس منصور علی کی سربراہی میں فلڈ کمشن نے بڑے جذبے اور عزم کے ساتھ 2010ء کے سیلاب کی وجوہات، اثرات اور تدارک کے سلسلے میں اہم ڈیموں، بیراجوں اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے جائز لیا تھا اور اتفاق رائے سے سفارشات پیش کیں تھیں مگر افسوس حکومت پنجاب نے ان سفارشات پر عملدرآمد نہ کیا۔ اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے 2014ء میں ایک اور قیامت کا سامنا کرنا پڑا۔ شفقت محمود نے کہا کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے اور تاریخ ہمیں سبق سیکھا دیتی ہے۔ 2010ء کے سیلاب میں جن حکومتی اہلکاروں نے غفلت اور بے ضابطگی کا مظاہرہ کیا ان کا احتساب نہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سیلاب سے پہلے حفاظتی اقدامات کرلے تو سیلابی اثرات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ شرکاء کا خیال تھا کہ ٹیکنالوجی اور فنانس کی کمی، نیشلزم کے فقدان، پالیسوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور غلط ترجیحات کی بنیاد پر سیلاب کی قیامت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر گورنینس بہتر ہوجائے تو ہمارے مسائل کم ہوسکتے ہیں۔ فکری نشست میں ڈاکٹر محمد صادق، ڈاکٹر حسیب اللہ، میجر(ر) شبیر احمد، جمیل بھٹی، انجینئر محمودالرحمن چغتائی، یعقوب چوہدری، محمد عظیم، ڈاکٹراکرم کوشل، جمیل گشکوری، منظور شیخ اور کرنل(ر) وحید حامد نے اظہار خیال کیا۔ میاں شہباز شریف پنجاب کے فعال ترین وزیراعلیٰ ہیں۔سیلاب سے متاثرہ ہرعلاقے کا دورہ کررہے ہیں کاش وہ نواب آف کالاباغ مرحوم کے طرز حکومت سے گڈ گورنینس کے گر سیکھ لیں تو عوام سے حقیقی معنوں میں خادم اعلیٰ کا خطاب حاصل کرسکتے ہیں۔ الخدمت فائونڈیشن نے اپنی شاندار روایات کے مطابق حالیہ سیلاب کے دوران بھی دکھی انسانیت کی قابل ستائش خدمت کی ہے۔ ان کے پاس سیلاب سے نمٹنے کے لیے ساز و سامان بھی موجود ہے اور تجربہ کار رضاکاروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔