جیت اور جشن

سوا ارب سے زائد آبا دی والے ملک میں سوا لاکھ سے زائد لوگوں کی موجودگی میں ناقابل شکست میزبان ٹیم کو شکست سے دوچار کر کے عالمی چیمپئن بننے والی آسٹریلیا کی ٹیم جب وطن واپس پہنچتی ہے تو استقبال کیلئے صرف سوا درجن میڈیا والے ہی موجود ہوتے ہیں۔ مناظر دیکھ کر سب حیران و پریشان ہوگئے کہ جس ورلڈ کپ نے ہمارے خطے کے ارب ہا لوگوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں، جہاں ڈیڑھ مہینے ہار اور جیت کی کشمکش زندگی موت کی کشمکش بنی رہی، جہاں سارا وقت اس کی ہار اور اس کی جیت کی جمع تفریق میں گزرتا رہا وہاں آسٹریلیا والوں نے یہ سب دیکھا ہی نہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ عالمی چیمپئن بن چکے ہیں یا انہیں اس سے کوئی دلچسپی اور لگاو¿ ہی نہیں؟ سوچیں ہم اگر کھچا کھچ بھرے دنیا کے سب سے بڑےاسٹیڈیم میں میزبان ملک کے وزیر اعظم اور کابینہ ارکان ،ملک کی بڑی بڑی اور مشہور ترین شخصیات، معروف ترین فلمی ستاروں کی موجودگی میں، ان سب کی آنکھوں کی سامنے ان کے منہ سے فتح اور ہاتھوں سے کپ چھین لیتے تو کیا عالم ہوتا، سب سے پہلے تو میچ ختم ہوتے ہی اکثر علاقوں میں ہوائی فائرنگ کی آوازیں گونجتیں، لوگ سڑکوں پر نکل آتے،منچلے موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز اتار پھینکتے ،میڈیا پر مبارکبادی پیغامات کی لائنیں لگ جاتیں اور پھر اعلانات کا سلسلہ ،کسی بڑی سوسائٹی کی جانب سے کھلاڑیوں کیلئے پلاٹوں کا اعلان تو کہیں مقابلے میں کچھ اور بڑے تحفے ،حکومت کے اعزازت اور پی سی بی کے نقد انعامات، ٹیم کی واپسی پر چلو چلو ایئرپورٹ چلو اور لاکھوں کا جلوس استقبال کیلئے پہنچ جاتا اور پھر کھلاڑیوں کے گھروں میں پہنچنے پر فقید المثال استقبال کی میڈیا کوریج ، ہر کھلاڑی کو ایئرپورٹ سے گھر اور گھر سے آبائی گاو¿ں پہنچانے کیلئے میڈیا کی کئی کئی ٹیمیں مختص کردی جاتیں ،تقریبات کا سلسلہ مہنیوں چلتا۔ پہلے ٹیم کی اجتماعی اور پھر کھلاڑیوں کی انفرادی دعوتیں ،کبھی انجمن تاجران تو کبھی انجمن شہریاں± وغیرہ کی میزبانیاں اور کھلاڑیوں کیلئے انعامات کی مہربانیاں، کسی کو سونے کا تاج پہنایا جاتا تو کسی کو قیمتی گاڑی کا تحفہ، ناں ناں کرتے بھی چار چھ مہنیے اس استقبالیہ جشن میں گزر جاتے اور ورلڈ کپ فاتحین مالی اور دماغی طور ہر آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگ جاتے۔ الیکشن کی ویسے ہی آمد آمد ہے تو کھلاڑیوں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹوں کی آفریں بھی آنے لگتیں اور کچھ تو مستقبل میں وزرات عظمی کی کرسی کے امیدوار بھی بنا کر پیش کردئیے جاتے اور بہت سے تو ٹیم کے کپتان کو ملک کا مستقبل کا کپتان قرار دینے لگتے۔
 ظاہر ہے جس نے ورلڈ کپ جیتنے کی اتنی بڑی خوشی دی اس کے حوالے ملک کیوں نہیں کیا جاسکتا۔اس بار تو اعظم پہلے ہی کپتان کے نام کا حصہ تھا بس وزیر لگانے کی ضرورت تھی۔ یہاں اس سب کی منظر کشی کرنا اس لئے بھی آسان ہے کہ ہم یہ مناظر تین دہائیاں پہلے دیکھ چکے ہیں۔ جی ہاں بانوے کا ورلڈ کپ ،ہمارا اکلوتا ورلڈ کپ، یہ اور بات ہے کہ ہم نے اس کے بعد ایک بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور ایک بار فائنل میں بھارت کو شکست دے کر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی ہے لیکن بانوے کا ورلڈ کپ ہمارا بڑا “لاڈلا” ہے ،ان تین دہائیوں میں آسٹریلیا پانچ بار ورلڈ کپ جیت چکا ہے جس کی کل ملا کر ایک روزہ ورلڈ کپ کی فتوحات چھ ہوچکی ہیں ان کا ایک کپتان مسلسل تین بار ورلڈ کپ جیت کر ہیٹ ٹرک بھی کر چکا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ کامیابی کا جشن سبھی مناتے ہیں منانا بھی چاہئے لیکن کچھ لوگ ایک کامیابی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں اور کسی کیلئے یہ آگے بڑھنے کی ایک سیڑھی ہوتی ہے۔ کچھ گمان کرتے ہیں کہ انہیں اس کامیابی سے سب کچھ مل گیا انہوں نے خود کو سب سے بڑا ثابت کردیا۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ اس کامیابی نے ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا ہے اب انہیں اپنا معیار برقرار رکھنا ہوگا جس کیلئے اس سے بھی زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی۔
 دیکھا جائے تو آبادی کے لحاظ سے آسڑیلیا ہم سے کوئی دس گنا چھوٹا ملک ہے۔ وہ کرکٹ ہی نہیں رگبی ،فٹبال، ٹینس سمیت کئی کھیلوں میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کررہا ہے ،فرق ترجیحات کا ہوتا ہے۔ وہ لوگ کامیابی کو منزل نہیں منزل کی جانب قدم سمجھتے ہیں۔ ایک کامیابی کے بعد اس سے بڑی کامیابی کو ہدف بنا لیتے ہیں آسٹریلیا میں لاکھوں کرکٹ شائقین ہیں وہاں ہمارے یہاں سے زیادہ لوگ اسٹیڈیم میں کرکٹ میچز دیکھنے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا والوں نے یقینا ورلڈ کپ دیکھا ہوگا لیکن وہ اس سے لطف اندوز ہوئے ہوں گے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں بنایا ہوگا۔ ٹیم کی شکست پر کسی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہوگا نہ کسی نے اپنا ٹی وی توڑا ہوگا۔ گھر میں یا دوستوں کے ساتھ ٹیم کی جیت کا جشن منایا اور پھر اگلی صبح اپنی زندگی کے کاموں میں مگن۔ کھیل تفریخ کا ذریعہ ہے اور اس سے تفریخ ہی حاصل کرنی چاہئے۔ کھیل کھیلا جاتا ہے جیت کیلئے، جیت خوشی بھی دیتی ہے اور ذمہ داری بھی، کھیل یا جیت نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونیوالا یہی احساس ذمہ داری اصل میں قوموں کو دنیا کا چیمپئن بناتا ہے۔
٭....٭....٭

ای پیپر دی نیشن