انگولا کی جانب سے اسلام کو مذہب تسلیم نہ کرنے پر مسلم ممالک کا شدید رد عمل

28 نومبر 2013

لوانڈا (خصوصی رپورٹ+آئی این پی) انگولا میں اسلام کو مذہب تسلیم نہ کرنے اور مساجد کو مسمار کرنے کی خبروں پر مسلم دنیا کی جانب سے شدید رد عمل،انگولا حکومت دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور، تاہم عجلت میں جاری کردہ وضاحت میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور کے ذمہ دار اور وزارت ثقافت کے موقف میں واضح تضاد ہے۔بدھ کو عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انگولا میں حکومت کی جانب سے مساجد کی تالا بندی کرنے اور دین اسلام کو مذہب نہ ماننے کے حوالے سے مسلم دنیا کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے ۔ جسکے بعد حکومت دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہوگئی ہے تاہم اب بھی مختلف حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی وضاحتوں میں تضاد ہے ۔خاتون وزیر ثقافت کے کئی روز پہلے سامنے لائے گئے موقف پر وزارت ثقافت آج بھی لفظوں کے الٹ پھیر کے ساتھ قائم ہے، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور کی راویتی تردید کے باوجود حقائق ظاہر ہیں۔ مسلمانوں کے نمائندوں نے بھی انگولا حکومت کی وضاحت کو غلط قرار دیا ہے۔ انگولین مسلمانوں کے ایک ترجمان داود جاہ کے مطابق متعدد مسجدوں کی حکومت تالہ بندی کر چکی ہے، جبکہ سیاسی اور مذہبی انتقام کی یہ مہم ابھی جاری ہے۔ یاد رہے ایک افریقی ایجنسی نے چند روز قبل خبر دی تھی انگولا کی کیتھولک عیسائی حکومت نے مملکت میں اسلام کو خلاف قانون مذہب قرار دے کر مساجد اور مدارس کیخلاف کریک ڈاﺅن شروع کر دیا ہے۔ امت کی رپورٹ کے مطابق اب تک 80مساجد کو شہید جبکہ 320کو سیل کر دیا گیا ہے اور 15مدارس کو مسمار کرکے سینکڑوں مسلمان طلبہ کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت کے اقدام پر مسلم تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ہے جبکہ تنظیم الشباب اور بوکو حرام نے خودکش حملوں کی دھمکی دی ہے۔

مسلمان/ردعمل