پنجاب حکومت کا کرپٹ افسروں، ملازمین کو اہم سیٹوں پر تعینات نہ کرنیکا حکم

28 نومبر 2013

لاہور (میاں علی افضل سے) پنجاب حکومت نے کرپشن کے مقدمات میں ملوث سرکاری افسروں و ملازمین کے متعلق نئی پالیسی جاری کر دی۔ کرپشن کے مقدمات میں ملوث افسروں و ملازمین کو کسی بھی اہم سیٹ پر تعینات نہ کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ اینٹی کرپشن ہر محکمہ کو اس کے کرپٹ افسروں و ملازمین کے تمام ریکارڈ و مقدمات فراہم کریگا جس کے بعد ملوث افسران و اہلکاروں کو اس محکمہ کی اہم پوسٹوں سے ہٹا دیا جائے گا جس میں وہ کام کر رہے ہوں گے ان احکامات پر عمل نہ کرنے والے اعلیٰ افسروں کے خلاف بھی خفیہ رپورٹ کی تیاری کے بعد پھر کارروائی کی جائے گی اس حوالے سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ڈی جی ایل ڈی اے، چیئرمین پی اینڈ ڈی، اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن، چیئرمین انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیکرٹری پبلک سروس کمیشن، چیف منسٹر انسپکشن ٹیم، سیکرٹری صوبائی محتسب، پنجاب سروس ٹریبونل، صوبائی حکومت کے ساتھ منسلک تمام ڈیپارٹمنٹ 9کمشنرز، 36ڈی سی اوز اور تمام سیکرٹریز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کی جانب سے سرکاری محکموں کے افسران و اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن میں جو مقدمات درج کئے گئے ہیں ان کی تفصیل تمام محکموں کو فراہم کی جائیں گی اس کے ساتھ ہر ماہ درج کئے جانے والے نئے مقدمات کی رپورٹ بھی تمام محکموں کو بھجوائی جائے گی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن سے ملنے والے معلومات پر تمام محکموں کے اعلیٰ حکام اپنے محکمہ کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے پابند ہوں گے جن افسروں و اہلکاروں کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد جوڈیشل ایکشن یا چالان پیش کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے تمام محکموں کے اعلیٰ افسروں شناخت کردہ افسروں و ملازمین کو فوری طور پر تمام اہم ذمہ داریوں سے ہٹا دیں۔ محکمہ کے ہیڈ نشاندہی ہونے پر ایسے افسروں و ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006ءکے تحت بھی کارروائی کریں۔
پنجاب حکومت کا حکم