رواں سال وکلاءنے 71 روز ہڑتال کرکے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا

28 نومبر 2013

لاہور (شہزادہ خالد) وکلاءنے 2013 ءمیں مختلف وجوہات کی بنا پر 71روز ہڑتال کر کے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ اس طرح (71) دن کی ہڑتال اور 113 عدالتی و سرکاری تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں کے باعث عدالتوں نے سال بھر میں181 دن کام کیا جبکہ 184 دن عدالتیں بند رہیں جس سے مقدمات تاخیر کا شکار ہوئے اور سائلوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں سال جن اہم مواقع پر وکلا نے ہڑتال کی ان میں وکلا پر پولیس تشدد، 9 مارچ کو چیف جسٹس کی معزولی، پرویز اشرف کے وزیر اعظم بننے کیخلاف،کراچی میں بم دھماکے، سانحہ جوزف کالونی، کوئٹہ دھماکے، رحیم یار خاں میں وکیل قتل، لوڈ شیڈنگ کیخلاف، لاہور میں وکیل قتل،کوئٹہ میں ایڈیشنل سیشن جج کا قتل، افغانستان میں قران پاک کی بے حرمتی، بڑھتی ہوئی ڈکیتیاں، کراچی میں باپ بیٹا وکیل قتل، سرگودھا میں وکیل قتل، سیشن کورٹ میں ملزمان کا قتل، کمشنر انکم ٹیکس آفس میں وکلا پر تشدد،حضرت زینب ؑکے مزار پر حملہ،وکیل کے گھر ڈکیتی، پشاور میں گرجا پر حملہ،جوڈیشل پالیسی کے خلاف، سابق صدر بار حکم قریشی کا انتقال، زین غفور ایڈووکیٹ کا قتل، ساہیوال میں وکلا کے جلوس پر تیل چھڑک کر آگ لگانا و دیگر واقعات شامل ہیں۔ لاہور کی ماتحت عدالتوں میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کے قریب نئے مقدمات دائر کئے جاتے ہیں جبکہ صرف 80 ہزار کے قریب مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں۔ روزانہ ایک سول جج کو 2 سو سے 3 سو مقدمات کی روزانہ سماعت کرنا پڑتی ہے۔
وکلاءہڑتال