قائمہ کمیٹی : وفاقی ملازمتوں میں صوبوں کا کوٹہ مزید بیس سال برقرار رکھنے پر اتفاق ترمیمی بل منظور

28 نومبر 2013

 اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا 23ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی سرکاری ملازمتوں میں صوبوں کا کوٹہ مزید 20 سال تک برقرار رکھنے پر اتفاق‘ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے لئے قائم کمشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو نمائندگی دینے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کونسل کے قیام کے بل کی منظوری دےدی، ایم کیو ایم نے سرکاری ملازمتوں میں صوبائی کوٹہ برقرار رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے تقرریاں کوٹے کی بجائے میرٹ پرکرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ بدھ کو کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں کمیٹی کے اراکین رائے منصب علی، محسن شاہ نواز رانجھا، محمد معین وٹو،مسز عائشہ رضا فاروق،مسز کرن حیدر، محمد ایاز سومرو، سید نوید قمر،علی محمد خان، منزہ حصاری، ایس اے اقبال قادری، مولانا محمد خان شیرانی اور مسز عائشہ نے شرکت کی۔کمیٹی میں وفاقی سرکاری ملازمتوں میں صوبوں میں کوٹہ مزید 20 سال تک بر قرار رکھنے کے لئے 23 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔ کمیٹی کے تمام اراکین نے بل کی حمایت کی جبکہ ایم کیو ایم کے رکن ایس اے اقبال قادری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس پراختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ ملک بھر میں تمام تقرریاں کوٹے کی بجائے میرٹ پر ہونی چاہیئیں۔ کمیٹی کے چیئرمین بشیر ورک نے کہا کہ کوٹہ سسٹم کا نقصان پنجاب کو ہوتا ہے اس کے باوجود ہم بل کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ کوٹہ سسٹم سے ملک کے تمام علاقوں اور طبقات کو ملازمتوں میں نمائندگی کا حق ملتا ہے۔کوٹہ سسٹم میں 20سال کی توسیع کا مقصد یہ بھی ہے کہ چونکہ ملک میں یکساں نظام تعلیم نہیں اور تعلیم کے حصول کے برابر مواقع بھی تمام شہریوں کو مہیا نہیں۔کمیٹی نے 23ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری کی سفارش کر دی۔ کمیٹی نے ایم کیو ایم کی مخالفت کے باوجود بل کی منظوری دے دی۔ کمیٹی میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کونسل کے قیام کا بل بھی پیش کیا گیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لئے قائم نیشنل جوڈیشل کمیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو نمائندگی دینے سے متعلق ترمیمی بل 2013 کی بھی منظوری دی۔
قائمہ کمیٹی

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...