فرانس میں نقاب پر پابندی کا قانون یورپ کی انسانی حقوق عدالت میں چیلنج

28 نومبر 2013

پیرس (اے پی اے + بی بی سی + آن لائن) فرانس میں چہرے کے مکمل نقاب پر پابندی کے قانون کو ایک نوجوان مسلمان خاتون نے یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ یہ قانون فرانس کے شہر سٹراس برگ میں قائم عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔خاتون رفیف کا موقف ہے کہ پورے چہرے کا نقاب اور جسم ڈھانپنے کیلئے برقع ان کے مذہبی عقیدے، تہذیب اور ذاتی عقائد، کے مطابق ہے۔فرانس میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی ایک تنظیم نے انسانی حقوق کی یورپی عدالت سے کہا ہے کہ وہ اس پابندی کو برقرار رکھنے کی حمایت کرے کیونکہ اس کی وجہ سے خواتین کو آزادی ملی ہے۔انٹر نیشنل لیگ فار ویمنز رائٹس نامی تنظیم کی سربراہ این سوگیر نے عدالت کو خط میں کہا کہ مکمل چہرے کا نقاب چہرے یا جسم کو دفنا دینے کے مترادف ہے اور ایسا کرنے سے عوام میں عورت کی انفرادیت ختم کر دی جاتی ہے۔انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے مطابق قانون کو چیلنج کرنیوالی خاتون کا موقف ہے کہ اس قانون سے ان کی سوچ کی آزادی، فکر اور مذہب مجروح ہوا ہے۔ یہ فرانس کی شہری ہیں اور 1990ءمیں پیدا ہوئیں اور فرانس ہی میں رہتی ہیں۔ ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق اس حوالے سے عدالت کا فیصلہ آئندہ سال کے وسط تک متوقع نہیں ہے۔
چیلنج

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...