حیدرآباد میں قتل ہونیوالے پانچوں پولیس اہلکار سپردخاک، 28 مشتبہ افراد گرفتار

28 نومبر 2013

حیدرآباد (آئی این پی) حیدرآباد میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے پانچوں پولیس اہلکاروں کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ سول لائن میں شہدا کی نماز جنازہ میں کمشنر حیدرآباد ڈویژن جمال مصطفی سید، ڈی آئی جی حیدرآباد ریجن محمد نعیم بھروکہ، ایس ایس پی حیدآباد عرفان بہادر کے علاوہ پولیس ورینجرز کے افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد چاروں شہدا کو پولیس گارڈز نے سلامی دی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم اکرم بھروکہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، کوشش ہے کہ مزید ایسے واقعات رونما نہ ہوں، دہشتگردی کے ان واقعات کے بعد پولیس کا مورال کم نہیں بلکہ بلند ہوا ہے، شہید پولیس اہلکاروں کے ورثا کو 20 بیس لاکھ روپے اورورثہ میں سے ایک کو محکمہ میں ملازمت دی جائے گی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے واقعے کے بعد ٹارگٹڈ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد کو گرفتارکیا گیا ہے ، جن سے تفتیش جاری ہے۔واقعہ کے حوالے سے مختلف پہلوو¿ں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نعیم احمد بھروکہ نے کہاکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی، دہشتگردی کے اس واقعہ میں شہرکے مختلف علاقوں سے حراست میں لئے گئے ملزمان جرائم پیشہ ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اے سیکشن تھانے کے اہلکار ڈیوٹی کا وقت ختم ہونے کے بعد چائے کے ہوٹل پر پہنچے جہاں 3 مسلح موٹر سائیکل سوار افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چاروں اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ مسلح افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
پولیس اہلکار/ سپردخاک