جنوری فروری میں گھریلو صارفین کے سوا کسی شعبے کو گیس نہیں ملے گی: وزیر پٹرولیم

28 نومبر 2013

اسلام آباد (خبرنگار) وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دسمبر میں سی این جی اور صنعتوں کو گیس کی سپلائی جاری رہے گی، موسم سرما کی شدت کے مطابق شیڈول ہر ہفتہ تیار کیا جائیگا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنوری اور فروری میں گھریلو صارفین کے علاوہ کسی شعبے کو گیس نہیں دی جائیگی۔ ایران پر عالمی پابندیوں پر نرمی سے پاکستان کو فائدہ ہو گا، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر کبھی پیچھے نہیں ہٹا، دسمبر میں ایران کیساتھ آئی پی منصوبے پر مذاکرات کا امکان ہے۔ گذشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر محمد یوسف نے کی۔ اجلاس میں سینڈک منصوبے سے چینی کمپنی کی جانب سے قیمتی معدنیات کی شپمنٹس کا جائزہ لیا گیا اور شپمنٹس کی مالیت اور فرائٹ چارجز بھی پیش کئے گئے۔ سینڈک میٹل کمپنی کی بلوچستان کو ٹرانسفر کا جائزہ لیا گیا۔ رکن کمیٹی عبدالنبی بنگش نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہنگو سے 3920 بیرل خام تیل اور 208 ملین کیوبک فٹ گیس نکل رہی ہے، سوئی گیس پورے ملک میں سپلائی کی جا رہی ہے لیکن سوئی کے علاقے میں نہیں، ٹل تحصیل سے بڑی مقدار میں تیل و گیس نکل رہی ہے لیکن یہاں گیس نہیں دی جا رہی، کوہاٹ ڈویژن سے اربوں ڈالرز حکومت حاصل کر رہی ہے لیکن ایک ارب روپے کی لاگت سے گیس نہیں دی جا رہی، ہر عوامی مفاد کے تحت کام میں بیورو کریسی رکاوٹ بن جاتی ہے جس پر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بیورو کریسی کو ٹھیک کرنا انکے بس کی بات نہیں۔ وفاقی حکومت نے گیس سکیموں کیلئے فنڈنگ ختم کر دی ہے۔ پی ڈبلیو پی 2 پروگرام کے تحت وزیراعظم کے پاس صوابدیدی فنڈ نہیں رہے، ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جواب میں رکن کمیٹی عبدالنبی بنگش نے کہاکہ لیپ ٹاپ کیلئے اربوں روپے رکھے ہیں۔ ٹل کو گیس سکیم کیلئے فنڈز کیوں نہیں دئیے جاسکتے جس پر سینیٹر نبی بنگش نے ٹل بلاک سے 4720 بیرل تیل اور 208 ملین کیوبک فٹ گیس بند کرنے کی وارننگ دیدی اور کہا کہ ایک دن کے نوٹس پر تیل اور گیس سپلائی بند کر دیں گے۔ سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید کا کہنا تھا کہ سینڈک کاپر گولڈ منصوبے کی بلوچستان حکومت کو منتقلی کیلئے سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے۔
وزیر پٹرولیم