سانحہ راولپنڈی میں 40 سے زائد افراد شناخت، 12 کو گرفتار کر لیا: سی پی او

28 نومبر 2013

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نیوز ایجنسیاں) سی پی او راولپنڈی اختر عمر لالیکا نے کہا ہے کہ سانحہ راولپنڈی میں سی سی فوٹیج سے 40 سے زیادہ افراد شناخت کر لئے گئے ہیں اس سانحہ میں دارالعلوم تعلیم القرآن کا کوئی طالب علم جاںبحق نہیں ہوا، کل 11 افراد جاںبحق ہوئے ہیں اس کیس میں ایک مطعل پولیس اہلکار سمیت 12 افراد باضابطہ طور پر گرفتار ہیں جبکہ 25 سے 30 کے درمیان شامل تفتیش افراد کو ٹھوس شواہد نہ ہونے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز اپنے دفتر کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی او نے کہا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ سانحہ راولپنڈی کوئی سازش کے تحت نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ اچانک ہی ہوا۔ اس کے بعد لوگ جمع ہوتے گئے اور حالات بگڑنا شروع ہو گئے۔ سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اس کی کوئی منصوبہ بندی ابھی تک تفتیش میں سامنے نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے قبل از وقت کسی قسم کی منصوبہ بندی کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ یوم عاشور کے جلوس کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی موقع پر ہی شروع ہوئی تھی پہلے سے کی گئی کسی قسم کی منصوبہ بندی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ ماتمی جلوس روکنے یا روٹ تبدیل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘ یہ روایتی جلوس ہیں جو کافی عرصہ سے چل رہے ہیں۔ یوم عاشور کے جلوس پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد زیادہ نقصان کو روکنے کے لئے دونوں اطراف کے علما کرام نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سانحہ راولپنڈی کے ملزمان جہاں جہاں بھی ہوئے وہاں پر جائیں گے اور انہیں گرفتار کر کے لائیں گے۔ ادھر یوم عاشور پر سانحہ راولپنڈی کے بعد ایس پی ہیڈ کوارٹر مسعود رضا کو معطل کر دیا گیا‘ مسعود رضا کو سنٹرل پولیس آفس لاہور رپورٹ کرنے کا حکم جاری۔ بدھ کو محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق یوم عاشور پر سانحہ راولپنڈی کے بعد ایس پی ہیڈ کوارٹر مسعود رضا کو معطل کر کے سنٹرل پولیس آفس لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ مسعود رضا سے قبل سانحہ راولپنڈی کے بعد آر پی او‘ سی پی او‘ ایس ایس پی آپریشنز‘ ایس ایس پی سکیورٹی سمیت ایس پی راولپنڈی ڈویژن پہلے ہی معطل کئے جا چکے ہیں۔
 سی پی او راولپنڈی