سچی صحافت کرنا آسان نہیں‘ مولانا ظفر علی خان کے افکار پر عمل کیا جائے : ڈاکٹر مجید نظامی

28 نومبر 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر) تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن ڈاکٹر مجےد نظامی نے کہا کہ سچی صحافت کرنا کوئی آسان کام نہیں، مولانا ظفر علی خان قابل تقلید اور عظیم صحافی تھے جن کے افکار پر عمل کرنا چاہئے۔ مولانا ظفر علی خان جیسا ایڈیٹر دوبارہ پیدا ہوا نہ ہوگا۔ آپ نے تحریک پاکستان کے دوران مسجد شہید گنج کیلئے بھی بہت کام کیا اور نیلی پوش تحریک شروع کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان‘ شاہراہ قائداعظمؒ لاہور مےںتحریک پاکستان کے رہنما‘بابائے صحافت‘ قادرالکلام شاعر اور آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان کی57ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس نشست کا اہتمام نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کےا تھا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجےد‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی اور علینا نواز نے بارگاہ رسالت ماب میں ہدیہ¿ عقیدت اور مہتاب حسن نقشبندی نے کلام ظفر علی خان پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے اداکئے۔    ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں معروف صحافی مجیب الرحمن شامی کو مولانا ظفر علی خان ثانی کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اس بطل جلیل کی یاد میں یہاں جمع ہوئے ہیں جنہیں مولانا ظفر علی خان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔وہ” زمیندار“ اخبار کے مدیر تھے اور اس سے قبل متعدد اور اخبارات بھی نکال چکے تھے۔آغا شورش مرحوم لکھتے ہیں ”میں ان کے اخبار میں سب ایڈیٹر تھا‘ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بلایا اور ایسی درگت بنائی جسے میں ساری عمر نہ بھلا سکا۔ پھر ایک اور موقع پر دوبارہ بلایا ‘وہ بے حد خوش دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ یہ خبر تمہاری بنائی ہوئی ہے۔ میں نے کہا جی میری ہے۔ یہ سن کر انہوں نے اپنا پرس میرے حوالے کرتے ہوئے کہا اس میں سے میرے ضروری کاغذات نکال دو اور یہ تم رکھو اور عیش کرو۔ میں نے باہر آکر پرس کھولا تو اس میں اُس وقت 68روپے اور کچھ آنے تھے“۔ اس لحاظ سے وہ ایسے مدیر تھے جو خبر بھی لیتے تھے اور انعام بھی دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے انہیں باغ جناح میں واک کرتے دیکھنے کا شرف حاصل ہے‘ میں بھی نوجوانی کے دور میں وہاں واک کیا کرتا تھا۔ مولانا ظفر علی خان اس وقت ضعیف ہو چکے تھے اور چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا مگر وہ واک کرنے آیا کرتے تھے۔ میں آپ سے بھی گزارش کروں گا کہ کئی بیماریوں سے بچنے کیلئے صبح آدھ گھنٹہ ضرور سیر کیا کریں۔ انہوں نے کہا ”زمیندار“ اخبار اپنے زمانے میں اخبارات کی دنیا پر حکومت کیا کرتا تھا لیکن جیسا کہتے ہیں کہ ہر عروج کے بعد زوال بھی آتا ہے تو اس پر ایسا زوال آیا کہ یہ اخبار بند ہو گیا۔ ان کے صاحبزادے مولانا اختر علی خان اسے نہ چلا سکے۔ مولانا اختر علی خان کے صاحبزادے منصور علی خان میرے کالج فیلو تھے۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے مسعود علی خان پنجاب پریس کے منیجر تھے۔ میں ان سے ہمیشہ یہ کہتا تھاکہ اگر آپ اپنے پریس کے منیجر ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا‘ پریس کے زور پر ہی اخبار چلتا ہے۔آپ اگر بلیک اینڈ وائٹ اخبار چھاپ رہے ہیں اور دوسرا رنگین تصاویر کے ساتھ اخبار چھاپ رہا ہے تو اس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جناب حمید نظامی کے انتقال کے بعد اخبار لیتھو پر چھپتا تھا اور لیتھو پر تصاویر اور تصویر والا اشتہار چھاپنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اشتہارات اخبار کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایوب خان نے اپنے زمانے میں پریس ایکٹ بنایا اور تمام اخبارات کو حکومتی قبضے میں لے لیا اور وہ صرف حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرنیوالے اخبارات کو ہی اشتہار دیا کرتے تھے۔ ”نوائے وقت“ نے ہر دور میں حق و صداقت کا علم بلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا ”نوائے وقت“ نے ہمیشہ مولانا ظفر علی خان کو یاد رکھا ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے تحریک مسجد شہید گنج کیلئے بھی بہت کام کیا اور نیلی پوش تحریک شروع کی۔آپ کا نعرہ تھا ”لینی ہے تم نے مسجد، تونیلی پوش ہو جاﺅ“۔ ان دنوں میں بھی نیلی پوش ہو گیا تھا۔ اس مسجد کو قیام پاکستان کے وقت سے تالہ لگا ہوا ہے۔ معلوم نہیں کہ اس وقت وہ مسجد ہے یا گوردوارہ ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری قوت ایمانی کس قدر جاندار ہے۔ انہوں نے ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین خالد محمود سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس مسجد کا تالا کھلوائیں بلکہ وہاں نماز بھی کروائیں تاکہ مسجد میں نماز کی ادائیگی شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ایک صحافی کو جس ایمانداری سے کام کرنا چاہئے میں ویسے ہی کام کروں۔ اسی وجہ سے میں تین بار بائی پاس کروا چکا ہوں، ایک بار بائی پاس کا مطلب ہے کہ آپ کلینیکلی ڈیڈ ہو گئے ہیں اس لحاظ سے یہ میری چوتھی زندگی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اپنے کام کا حق ادا کررہا ہوں۔ میرے بڑے بھائی جناب حمید نظامی بھی اسی ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے۔ میری اہلیہ مرحومہ کو روز فون آیا کرتے تھے کہ تمہارا شوہر کیا کر رہا ہے‘ ہم اسے یہ کردیں گے، وہ کردیں گے۔اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ سچی صحافت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا ظفر علی خان نے اپنے دور میں بہترین کام کیا اور میں کہتا ہوں کہ ہر دور میں ایسے صحافی پیدا ہوتے رہیں گے جو ان کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ ہم نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور ڈاکٹر مجید نظامی کے بے حد مشکور ہیں کہ وہ مشاہیرکی یاد مناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مجید نظامی کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان اچھے شاعر، شعلہ نوا مقرر اور زبردست سیاستدان تھے ،آپ عظیم عاشق رسول تھے۔ آپ نے کہا تھا ”نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰة اچھی۔ مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہونہیں سکتا۔ نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ¿ یثرب کی حرمت پر۔ خداشاہد ہے کامل میرا ایمان ہونہیں سکتا“۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان امت مسلمہ کا انتہائی درد رکھتے تھے۔ اگر آج وہ زندہ ہوتے اور برما، تھائی لینڈ، فلپائن،کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر ہونیوالا ظلم دیکھتے تو تڑپ اٹھتے اور ضرور ان کیلئے کچھ کرتے۔ روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہماری تاریخ کا ایسا نام ہے کہ ان جیسا ایڈیٹر برصغیرجنوبی ایشیا میں پیدا نہیں ہوا۔ آپ کو اردو، انگریزی، فارسی اور عربی پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ مولانا ظفر علی خان نے ہمیشہ حق و صداقت کا علم بلند کیا۔ آپ نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن سچ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا آج ایک طرف امریکہ ہمارے ہم وطنوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف خود کش حملوں میں بھی ہمارے ہی ہم وطن نشانہ بن رہے ہیں ،ہمیں دونوں کیخلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاکستان کے دفاع کیلئے اپنی جان قربان کرنیوالا شہید ہے اور جو مقابلے میں کھڑا ہے وہ خودفیصلہ کرے کہ وہ کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر جمیل اطہر نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان اور ڈاکٹر مجید نظامی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مولانا ظفر علی خان کا نام زندہ رکھا ہوا ہے جبکہ ظفر علی خان ٹرسٹ بھی قابل قدر کام کر رہا ہے۔ سی پی این ای نے بھی بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی حیات وخدمات سے عوام الناس کو آگاہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔آج تمام اخبارات میں مولانا ظفر علی خان کے حوالے سے مضامین شائع ہوئے ہیں لیکن ایک بڑا اخبار ہونے کے دعویدار اخبار نے مولانا ظفر علی خان کے بارے میں کوئی مضمون شائع نہیں کیا۔ مولانا ظفر علی خان نے ہمیں اتحاد امت کا درس دیا۔ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات پروفیسر عطاءالرحمن نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان جرات وکردار کے پیکر‘ بلند پایہ شاعر اور بڑے ادیب تھے۔ اردو صحافت میں ایسا ایڈیٹر پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔ آپ بعض اوقات اپنے اخبار کے اداریے میں اپنی نظم شائع کر دیتے تھے جو شام تک پورے برصغیر میں گونج اٹھتی تھی۔ پنجاب کو مولانا ظفر علی خان پر فخر ہونا چاہئے۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے سیکرٹری راجہ اسد علی خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کی عادات شروع سے ہی دوسرے بچوں سے مختلف تھیں۔ آپ باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان میں منافقت نہیں تھی بلکہ آپ ڈنکے کی چوٹ پر حق بات کہتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے غلامی کے تاریک دور میں آزادی کی شمع روشن کی۔ آپ نے اردو صحافت کیلئے بے مثال کام کیا۔آپ بابائے صحافت، شمع رسالتﷺ کے پروانے اور آزادی کے متوالے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح قیام پاکستان سے قبل کا دور مولانا ظفر علی خان کا دور تھا اسی طرح آج کا دور ڈاکٹر مجید نظامی کا ہے اور ہم عہد نظامی میں سانس لے رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان عظیم عاشق رسولﷺ تھے ۔ آپ نے اپنی جان و مال اور تن من دھن ملت اسلامیہ کیلئے وقف کیا ہوا تھا۔آپ مسلم لیگ کی تشکیل میں شامل تھے۔ محمد آصف بھلی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ایک عظیم، باکمال اور ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے کہ ہر جہت ایک مکمل باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو مشاہیر تحریک آزادی کی حیات و خدمات سے آگاہ کیا جائے۔ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا شمار ہمےں آزادی دلانے والوں مےں ہوتا ہے۔ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت میں تمام مشاہےر تحرےک آزادی کی ےاد مےں پروگرام منعقد کرکے نئی نسلوںکو ان کے عظےم کارناموں سے آگہی فراہم کرتا رہتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں مولانا ظفرعلی خان کی بلندی¿ درجات کیلئے دعا بھی کی گئی۔ اس خصوصی نشست میں اساتذہ¿ کرام، طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے حےات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثےر تعداد موجود تھی۔
ڈاکٹر مجید نظامی