اے این پی کو بچانے نکلی ہوں، اسفندیار قیادت چھوڑ دیں: نسیم ولی

28 نومبر 2013

پشاور (آئی این پی) عوامی نیشنل پارٹی کی سابق صدر اور بزرگ رہنما بیگم نسیم ولی خان نے عملی سیاست میں دوبارہ قدم رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسفندیار ولی کے خلاف اعظم ہوتی کے الزامات میں کچھ حد تک صداقت ضرور ہے۔میں فارورڈ بلاک یا نئی پارٹی نہیں بنا رہی، اسی جماعت میں ہوں جو باچا خان کی ہے۔ پارٹی کا گرینڈ جرگہ بلا کر پارٹی قیادت کا چناﺅ کیا جائے گا۔ بدھ کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیگم نسیم ولی خان نے کہا کہ باچا خان مرکز پر چند مفاد پرستوں کا قبضہ ہے، 2008ءکے بعد چند لوگوں نے پارٹی کو یرغمال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے میں نے دوبارہ سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی تحرےک مےں لاکھوں پختونوں کا لہو شامل ہے جس کی قےادت کےلئے نڈر اور مخلص قےادت کی ضرورت ہے۔ موجودہ نام نہاد قےادت مےں ےہ اہلےت نہےںکےونکہ باچا خان اور ولی خان نے انگرےزوں کی بندوقوں اور توپوں سے منہ نہےں موڑا جبکہ موجودہ قےادت اےک دھماکے کے بعد گذشتہ چھ سال سے چوہے کی طرح بل مےں چھپی ہوئی ہے۔ مےں عورت ہو کر بھی موت سے نہےں گھبرائی۔ پرےس کانفرنس کرتے ہوئے بےگم نسےم ولی خان نے کہا خدائی خدمت گاروں کی عظےم قربانےوں کی لاج رکھتے ہوئے موجودہ قےادت تحرےک پر رحم کر کے پارٹی کے تمام معاملات سے الگ ہو جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے لےڈر بننے کا کوئی شوق نہےں لےکن جس طرح بے لوث، مخلص اور اےماندار کارکنوں کو قربانی کا بکرا بنا کر پارٹی سے الگ کےا گےا اس کو دےکھتے ہوئے مےں نے محسوس کےا باچا خان اور ولی خان کے 105 سالہ محنت اور قربانےاں ضائع ہو رہی ہیں اس لئے مےں تحرےک بچانے نکلی ہوں اور تمام مخلص کارکنوں نے اپےل کرتی ہوں کہ وہ اس کو اےک مقدس فرےضہ سمجھتے ہوئے مےرا ساتھ دےں۔ بیگم نسیم ولی خان نے کہا کہ بحیثیت پارٹی صوبائی صدر میری کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ مجھے غیر آئینی طور پر زبردستی عہدے سے ہٹایا گیا اور جس میں فرید طوفان جیسے مخلص محنتی اور غریب ورکر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءکے الیکشن میں پارٹی اقتدار میں آئی اور پانچ سال تک حکومت میں رہی اور پارٹی کا وہ حشر کیا کہ نتیجہ 2013ءکے انتخابات میں سب کے سامنے ہے ایک مفاد پرست ٹولہ کا راج رہا نوکریاں فروخت ہوئیں، ٹھیکے فروخت ہوئے ہر طرف رشوت اور چوری کا بازار گرم رہا، بوگس فارم سازی کے ذریعہ من پسند کارندوں کو اہم عہدوں پر لایا گیا جبکہ سب سے بڑا جمعہ بازار سی ایم ہاﺅس اور اس کی انیکسی میں لگا رہا اور یہ قصے کہانیاں اب سرے عام ہیں نہ جانے حکومتی ادارے کب جاگ کر ان معاملات کی تحقیقات کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب ہمارے ساتھ لوگوں کی شمولیت کا سلسلہ شروع ہو گا تو فرید طوفان بھی ضرور ہو گا۔
نسیم ولی