پولیس 13 سالہ بچی کے اغواءاور قتل کے ملزموں کی پشت پناہی کرنے لگی

28 نومبر 2013

لاہور (نامہ نگار) برکی کے علاقہ میں 2 سالہ قبل اغواءہونے والی 13 سالہ بچی مصباح کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسے پانچ افراد نے اغواءکے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اسے قتل کر دیا تھا سی آئی اے پولیس کی جانب سے پکڑے گئے دو ملزمان کے انکشاف کے بعد پولیس نے پانچوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے بچی مصباح کے باپ محنت کش شبیر احمد کے مطابق پولیس بچی کی نعشیں برآمد کرانے کی بجائے الٹا ملزمان کی پشت پناہی کرنے لگی ہے اعلیٰ حکام اس کا نوٹس لیں اور ہمیں انصاف دلایا جائے تفصیلات کے مطابق برکی کے علاقہ نتھو کی گاﺅں، جلو موڑ کے رہائشی شبیر احمد کی بیٹی 13 سالہ مصباح کو دو سال قبل نامعلوم افراد نے اغواءکر لیا تھا جس کا دو سال تک کچھ پتا نہ چل سکا ذرائع کے مطابق سی آئی اے پولیس غازی آباد نے چند دن قبل مختلف جرائم میں ملوث 2 افراد عبدالرزاق اور منیر بٹ کو گرفتار کر کے تفتیش کی تو ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے دو سال قبل برکی سے بچی مصباح کو اغواءکے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچی کو قتل کر دیا جس کے بعد لاش نہر میں پھینک دی تھی جس پر پولیس نے بچی کے باپ شبیر سے رابطہ کیا برکی پولیس نے شبیر کی درخواست پر ملزمان اسحاق، عبدالرزاق اور منیر بٹ وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ شبیر احمد نے نوائے وقت آکر بتایا کہ پولیس بااثر ملزمان سے مک مکا کرکے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے ملزمان کی جانب سے ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اعلیٰ حکام اس صورتحال نوٹس لیں میری بیٹی کی لاش برآمد کرائی جائے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔