بھارت سے دوستی کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے:نظریہ پاکستان کنونشن

28 نومبر 2013

میرپور(نمائندہ خصوصی) بھارت کے ساتھ دوستی اور رعایتیں دینے کی بات کرنا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، پاکستان ایک نظریئے کی بنیاد پر قائم ہوا اور تاقیامت قائم و دائم رہے گا، پاکستان کی ترقی و استحکام، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ڈاکٹر مجید نظامی کاکردارنسل نو کیلئے مشعل راہ ہے۔ اسلام، پاکستان اور کشمیر کاز کی خدمت اور ترجمانی کا حق ادا کرنے پرکشمیری عوام ڈاکٹر مجید نظامی کوسلام پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یہاں نظریہ پاکستان کنونشن سے مولانا شفیع جوش چیئرمین نظریہ پاکستان فورم آزادکشمیر، چوہدری عبدالعزیز ایڈووکیٹ صدر نظریہ پاکستان فورم میرپور، حبیب الرحمن آفاقی صدرنظریہ پاکستان فورم کوٹلی، ملک شہزاد احمدصدر نظریہ پاکستان فورم بھمبر، نذیر غوری ایڈووکیٹ ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، مسلم لیگ ن کی رہنما محترمہ بلقیس صابر، چیئرمین ہیومین رائٹس کمشن وپیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہمایوں زمان مرزا، نظریہ پاکستان فورم میرپور کے جنرل سیکرٹری راجہ خالق داد کے علاوہ دیگر مقررین نے خطاب کیا، کنونشن میں وکلا، صحافیوں، دانشوروں، سیاسی وسماجی تنظیموں کے نمائندوں، خواتین کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کنونشن میں مولانا شفیع جوش نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور سپہ سالار صحافت جناب ڈاکٹر مجید نظامی کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا، مقررین نے کہا کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا مقبوضہ کشمیر کے اندر تکمیل پاکستان کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں معصوم کشمیریوں کے خون سے بھارت کے ہاتھ لت پت ہیں ایسے میں بھارت سے دوستی اور رعایتیں دینے کی باتیں کرنا کشمیریوں کے قربانیوں سے سنگین مذاق ہے، مقررین نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے نہ صرف دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے پانی کو روک کر اسے بنجر بنانے کے درپے بھی ہے اس لئے پاکستان کے حکمرانوں کو بھارت کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ ڈاکٹر مجید نظامی کی طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی چاہئے۔ کنونشن میں پاکستان کی سلامتی واستحکام، کشمیر کی آزادی اور جناب ڈاکٹر مجید نظامی کی صحت کاملہ و عمر درازی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔ کنونشن کے اختتام پر مولانا شفیع جوش نے فرزند پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی کے خصوصی پیغام کی کاپیاں نمائندہ شخصیات کو پیش کیں۔