میرے گھر میں بجلی کیوں آئی ہے

28 نومبر 2013

میاں نوازشریف نے الیکشن سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ وہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کریں گے، حکومت مل گئی تو انہوں نے بجلی کے بلوں میں اضافہ کر دیا، اور عام آدمی کی چیخیں نکل گئیں۔
ایک وعدہ اقبال کو حاضرو ناظر جان کر کیا گیا تھا کہ اس رزق سے موت اچھی،جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو، کشکول توڑنے کاا علان بھی کیا، حکومت مل گئی تو کشکول بھی اٹھا لیا اور آئی ایم ایف سے وہ رزق بھی لے لیا جس سے حکومت تو اونچی پرواز کے مزے لے رہی ہے لیکن عام آدمی پروازکے خواب دیکھنے سے بھی محروم ہو گیا۔
آئی ایم ایف نے حکومت کا کشکو ل بھرنے کی شرط یہ رکھی کہ بجلی کے بلوںمیں ہوش ربا اضافہ کر دیا جائے، اکتوبر کے بل دیکھ کر پوری قوم اعصابی مریض بن گئی ہے، مگرنجانے اسحق ڈار کیوں صاحب فراش ہو گئے،اللہ انہیںصحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور وہ رو بصحت ہو کر خلق خدا کی دل آزاری کے اسباب کا خاتمہ فرمائیں۔
 لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو اپنے وعدے کچھ کچھ یاد ہیں ،لیکن انہیں وعدے نبھانے کی جلدی نہیں ہے، حکومت انہیں مل چکی ہے اور سابقہ حکومتی ٹولے نے انہیں یقین دہانی کرا دی ہے کہ قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، اس طرح نواز شریف پانچ سال تو پورے کریں گے مگر قوم پر ان پانچ برسوںمیں کیا گزرے گی ، اس کے تصور سے دل میں ہول سا اٹھتا ہے۔
وزیر اعظم نے کراچی میں نئے بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں قوم کوخوشخبری سنائی ہے کہ 2050 تک ایٹمی توانائی کے منصوبوں سے 40 ہزارمیگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی ، وزیر اعظم چاہتے تو اگلے ایک ہزار سال میں بجلی کی پیداوار کا تخمینہ پیش کر سکتے تھے مگر ان کی حکومت پانچ سال کی ہے جس میں سے چھ ماہ گزر چکے ہیں اور اس دوران بجلی کے بلوںمیں بار باراضافے کے سوا حکومت اور کچھ نہیں کر سکی ا ور اسحق ڈار کے ہوتے ہوئے حکومت مزید ایک میگا واٹ بجلی پیدا کئے بغیر اپنی ضرورت کے وسائل اسی قوم سے نچوڑ سکتی ہے۔ پنجاب کے ایک وزیرخوش خوراک نے فرمایا تھا کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو سالن میں لیموں نچوڑ لیں۔اس سے حکومت کو نبو نچوڑ کا نام دے دیا گیا ۔مگر بجلی کے بلوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت اس قوم کا سب کچھ نچوڑ لینا چاہتی ہے۔
نائن الیون کے بعد پاکستان کو مبینہ طور پر دھمکی دی گئی تھی کہ امریکہ کا ساتھ دو ورنہ پتھر کے دور میں دھکیل دیئے جائو گے۔ اگرچہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ نبھایا مگر اسے پھر بھی پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا۔ اور اگر کوئی کسر باقی تھی تو ن لیگ کی موجودہ حکومت پوری کر رہی ہے۔پتھر کے دور میں اندھیرا تھا، فاقے تھے،یہ سب کچھ اس وقت میسر ہے۔ بجلی مہنگی کرنے سے لوگوںنے جھولیاں اٹھاکر خدا سے دعائیںمانگنی شروع کر دی ہیں کہ بجلی نہ ہی آئے تو اچھا ہے۔پتہ نہیں جناب چیف جسٹس نے کیسے اندازہ لگایا کہ لوگ بجلی مانگتے ہیں چاہے اٹھارہ روپے فی یونٹ ملے۔شاید ایسے لوگ ہوں گے جو اٹھارہ چھوڑ اٹھارہ سو روپے فی یونٹ بجلی لینے کیلئے تیار ہوں گے ، اس لئے کہ انہوںنے بجلی کی لاگت اپنی مصنوعات میںڈال دینی ہے، انہیںکیا فرق پڑتا ہے۔ اب تو گھروں میں بجلی آنے کا مطلب یہ ہے کہ غریب کی کٹیا پر بجلی گر پڑی۔
ملک کوبجلی تو چاہئے لیکن سستی بجلی چاہئے۔یہ سستی بجلی پانی سے بن سکتی ہے، اس کے لئے کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا جس کا نام لینا بھی حکومت کو گوارا نہیں۔وزیر اعظم کیوں اس تقریر کو بھول گئے جو انہوںنے ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے کی تھی اور جس میں واضح اعلان تھا کہ کالا باغ ڈیم ہر قیمت پر تعمیر کیا جائے گا۔ اگر وزیر اعظم نے کل کے وعدوں کو پس پشت ڈال دینا ہے تو ان کے آج کے وعدوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔
ننانوے کے بعد آج دو ہزارتیرہ تک نواز شریف کو سوچ بچار کے لئے پندرہ برس ملے۔ پچھلے پانچ برسوں میں تو ان کی پارٹی اور ان کے بھائی کی حکومت بھی پنجاب میں قائم تھی اور اندھے، گونگے بہرے شخص کو بھی اچھی طرح علم تھا کہ اگلی حکومت نواز شریف کی ہو گی تو ان پندرہ برسوںمیں مسائل کے حل کی منصوبہ بندی کیوںنہ کی گئی، یہ ساری بھاگ دوڑ جو اب کی جارہی ہے، یہ پہلے کی ہوتی تو آج حکومت لوگوںکے سامنے سرخرو ہوتی مگر اب منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔حکمران، ملک میں آنے کا نام نہیں لیتے اور کوئی بہانہ چاہتے ہیں کہ کیسے نئے دورے پر نکلیں۔
وزیر اعظم نے پہلا دورہ چین کا کیا اور خوب سیر وتفریح کی۔لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ بجلی بنانے کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں ،اور اگر یہ دستخط ہو گئے تھے تو شہباز میاں دوبارہ چین کیوں چلے گئے بلکہ اسی مقصد کے لئے جرمنی بھی گئے،یہ کیسی مفاہمتی یادداشتیں جن کی یاد دہانی کے لئے پھیروں پر پھیرے لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
چین کے دورے تو صدر زرداری نے بھی بہت کئے، ان دوروں کا حاصل کیا ہے۔یہ سرکاری دورے تھے، ان کی فائلیں سرکار کے پاس ہونی چاہیئں۔چین نے بجلی کے لئے چھوٹے ڈیموں پر بھی توجہ کی ہے اور ہمارے لئے ایسے ڈیم بنانے میں کیا رکاوٹ ہے، کالا باغ ڈیم میں باقی صوبے رکاوٹ ہیں تو نندی پور سے چھ ماہ کے دوران کتنی وافر بجلی پید اکی گئی۔ یا اس نوع کے چھوٹے ڈیموں کی کیا منصوبہ بندی کی گئی، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بجلی کی قیمتیں آسمان تک لے جانے سے پہلے اپنی کارکردگی تو بتائے، اور اگر حکومت نے مہنگی بجلی دینے کا تہیہ کر رکھا ہے تو بہتر ہو گا کہ لوگوں سے پوچھ لے کہ کیا وہ بجلی کا کنکشن کٹوانا چاہتے ہیں ۔
 خدا عمران خان کو ہدائت دے، وہ نیٹو سپلائی کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ گیا ہے، اتنا زور وہ سستی بجلی کے لئے لگاتا تو لوگ اسے دعائیں دیتے مگر وہ صاحب ا ٓدمی ہے، اسے غریب، پسے ہوئے، مفلوک الحال، مظلوم، لاچار اور بے بس عوام سے کیا سروکار۔عمران جیسا رویہ منور حسن اور فضل الرحمن کا ہے ، وہ حلال حرام جیسے فتووںمیں الجھے ہوئے ہیں اور ادھر لوگوںکا جینا حرام ہو گیا ہے، ان مولا ناقسم کے مذہبی، سیاسی رہنمائوں کو بھی عوام کی کوئی فکر نہیں۔گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن۔
پاکستان بنا تو ہمارے پاس پانچ دریا تھے، ان میں سے آدھے تو سندھ طاس منصوبے نے بھارت کو دان کر دیئے اور باقی کے پانیوںپر امن کی آشا کی ا ٓڑ میں بھارت نے قبضہ جما لیا ہے۔اب ہم سستی بجلی کہاں سے پیدا کریں۔
سابق دور میں ایک ضمنی الیکشن بجلی کے کھمبوں کی سیاست پر لڑا گیا، اس وقت ایک اشتھار خوب چلا کہ میرے گھر میں بجلی آئی ہے، مگر اب تازہ بجلی کا بل دیکھ کر ہر کوئی روتا ہے کہ میرے گھر میں بجلی کیوں آئی ہے اور وہ بھی میٹر ریڈر کو اس ہدائت کے ساتھ کہ ہر گھر کو تین سو سے زاید یونٹ ٹھوکنے ہیں۔