وزیراعظم کی سفارش پر جنرل راشد محمود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اورجنرل راحیل شریف آرمی چیف مقرر....قوم افواج پاکستان کی نئی قیادتوں سے دفاع وطن کے تمام تقاضے نبھانے کی توقع رکھتی ہے

28 نومبر 2013

صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم میاں نوازشریف کی سفارش پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں تعینات پاک فوج کے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو چیف آف آرمی سٹاف تعینات کرنے کے احکام جاری کر دیئے جبکہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کیا گیا ہے۔ ان دونوں لیفٹیننٹ جنرل حضرات کو آج 28 نومبر سے جنرل کے منصب پر بھی ترقی دے دی گئی ہے۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل راشد محمود کل 29 نومبر کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ پر اپنے نئے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے‘ یہ دونوں مناصب اس وقت جنرل کیانی کے پاس ہی تھے۔ جنرل راحیل شریف پاک فوج کے 15ویں آرمی چیف ہونگے۔ وہ 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں نشانِ حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی اور 65ءکی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ گوجرانوالہ کے کورکمانڈر کی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نئے نامزد چیئرمین جنرل راشد محمود بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں‘ وہ کور کمانڈر لاہور کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور سابق صدر رفیق تارڑ کے ملٹری سیکرٹری اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ کے اے ڈی سی کے فرائض بھی ادا کر چکے ہیں۔
آئین کی دفعہ 3 کے تحت ملک کی مسلح افواج کے سربراہوں کے تقرر کا وزیراعظم کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے جسے بروئے کار لا کر وزیراعظم کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہوں کے تقرر کیلئے بھی سمری صدر مملکت کو بھجوانا ہوتی ہے جبکہ آئینی تقاضے کے تحت صدر مملکت کو وزیراعظم کی بھجوائی گئی سمری کی بلاچون و چرا منظوری دینا ہوتی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے صوابدیدی آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر موجود جنرل راشد محمود کے بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تیسرے نمبر پر آنیوالے جنرل راحیل شریف کے بطور چیف آف آرمی سٹاف تقرر کی منظوری دی جس سے مسلح افواج کے ان دونوں اہم مناصب پر تقرر کے حوالے سے گزشتہ دو ماہ سے جاری قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم نے دونوں جرنیلوں سے الگ الگ ملاقات کی تھی۔ اگرچہ سنیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم پہلے نمبر پر تھے اور اس حوالے سے نئے آرمی چیف کیلئے مختلف حلقوں میں زیادہ تر انہی کا نام زیر گردش تھا تاہم وزیراعظم نوازشریف نے اپنی صوابدید میں آرمی چیف کے منصب کیلئے جنرل راحیل شریف کا تقرر مناسب سمجھا۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ میاں نوازشریف کی حکومت کیخلاف فوجی جرنیلوں کے 12 اکتوبر 1999ءکے ماورائے آئین اقدام کے وقت جنرل ہارون اسلم نے جو اس وقت بریگیڈیئر تھے اور ٹرپل ون بریگیڈیئر کے کمانڈر تھے‘ فوجی قبضہ میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے انکے معاملہ میں وزیراعظم نوازشریف کے ذہن میں موجود تلخی انکے بطور آرمی چیف تقرر کی راہ میں حائل ہوئی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے اگرچہ اپنے سے جونیئر لیفٹیننٹ جنرلز کے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بننے کے بعد افواج پاکستان سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے تاہم انہوں نے جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف کو انکی نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد پیش کرکے ایک مثبت روایت قائم کی ہے۔ پاک فوج کے دونوں اہم ترین مناصب کیلئے نظرانداز ہونیوالے لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم بھی اگرچہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مہارت رکھتے تھے‘ تاہم آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے مناصب پر نامزد ہونیوالے دونوں حضرات کی پیشہ ورانہ مہارت بھی مثالی ہے جو اس سے قبل بھی پاک فوج میں اپنے اپنے مناصب کے حوالے سے سامنے آنیوالے تمام چیلنجز سے سرخروئی کے ساتھ عہدہ برا¿ ہو چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف دفاع وطن کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے اور دو نشانِ حیدر پانے والے خاندان کے چشم و چراغ ہیں‘ اس لئے دفاع وطن کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے کی لگن انکی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ اس وقت ملک کو اپنی سالمیت کے تحفظ و دفاع کے معاملہ میں جن اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے‘ اسکی روشنی میں پاک فوج کی قیادت انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس انتہائی مستعد ہاتھوں میں دیئے جانے کی متقاضی تھی چنانچہ اس تناظر میں عسکری حلقوں اور ماہرین کی جانب سے بھی جنرل راحیل شریف کے بطور آرمی چیف اور جنرل راشد محمود کے بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرر پر مسرت و اطمینان کا اظہار کیا گیاہے۔
سبکدوش ہونیوالے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاک فوج کی تقریباً ساڑھے چھ سال تک قیادت کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کو درپیش سنگین چیلنجوں سے عہدہ برا¿ ہونے کیلئے جس پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور مسلح افواج میں نظم و ضبط کو مثالی بنانے کے ساتھ ساتھ بعض جرنیلوں کی ماضی کی روایات کے قطعی برعکس سول حکومتوں کے انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتے ہوئے جس خوش اسلوبی کے ساتھ جمہوری نظام کی بقاءو استحکام کی ضمانت فراہم کی تاریخ میں یہ نیک نامی انکی ذات کے ساتھ منسوب رہے گی جبکہ انہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں ملک کی سلامتی کو اندرون ملک اور بیرون ملک سے لاحق ہونیوالے خطرات سے نمٹنے کیلئے بھی اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث بہترین حکمت عملی طے کی جس پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ریاستی اتھارٹی پر غالب آنیوالے عزائم ناکام بنائے گئے اور اسی طرح ملک کی سرحدوں پر بھی دفاع وطن کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے افواج پاکستان نے خود کو دنیا کی بہترین سپاہ ثابت کرایا۔
اس تناظر میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے افواج پاکستان کیلئے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے معاملہ میں مستعدی‘ جانبازی اور جانفشانی کی جو یادگار مثالیں قائم کر دی ہیں‘ افواج پاکستان کی نئی قیادتوں کو اس پیشہ ورانہ استعداد پر افواج پاکستان کو کاربند رکھ کر ہی ملک کی سلامتی کیلئے آنیوالے چیلنجوں کے مقابلہ کی حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ اس سلسلہ میں جہاں سبکدوش ہونیوالے آرمی چیف جنرل کیانی خود بھی افواج پاکستان کی نئی قیادتوں سے توقعات وابستہ کر چکے ہیں‘ وہیں نامزد نئی قیادتیں بھی پیشہ ورانہ استعداد و مہارت میں کوئی کمی نہ آنے دینے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ اس وقت وطن عزیز کو دہشت گردی کے جس ناسور کا سامنا ہے اور آئندہ سال نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلاءکے بعد دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے جن نئے چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے‘ اس سے اب افواج پاکستان کی نئی قیادت نے ہی عہدہ برا¿ ہونا ہے اور وزیراعظم میاں نوازشریف نے آنیوالے لمحات کے ان تمام ممکنہ معاملات اور خطرات کو پیش نظر رکھ کر ہی افواج پاکستان کی نئی قیادت کیلئے جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف کا انتخاب کیا ہو گا جبکہ جرنیلی آمروں کی پیدا کردہ ماضی کی تلخیوں کے تناظر میں جنرل کیانی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر افواج پاکستان کی نئی قیادت کیلئے بھی جنرل کیانی جیسی پیشہ ورانہ صلاحیت و استعداد کے حامل سپہ سالار کی ضرورت تھی جو دفاع وطن کے تقاضوں میں بھی سرخرو ہو اور جمہوری نظام میں بھی ماضی جیسی کوئی رکاوٹیں حائل نہ ہونے دے۔ اس حوالے سے افواج پاکستان کی نئی قیادت کو تین چیلنجوں سے عہدہ برا¿ ہونا ہے جن میں دہشت گردی کی جنگ میں سرخروئی‘ سول اور ملٹری تعلقات میں ہم آہنگی اور انٹرسروسز کوآرڈی نیشن میں ربط و ضبط برقرار رکھنے کے چیلنج شامل ہیں۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ سپاہ پاکستان کی نئی قیادتیں ملک کی سالمیت کے دفاع و تحفظ کیلئے ہراندرونی و بیرونی چیلنج میں سرخرو ہونگی۔