پاک ایران گیس منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق

28 نومبر 2013

 تہران میںاقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر سرتاج عزیز اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی ملاقات میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کا نیا ٹائم شیڈول تیار کرنے گیس پائپ لائن منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔سرتاج عزیز نے ایک بیان میں کہا ہے ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کے بعد مشترکہ گیس پائپ لائن بنانے کے عمل میں تیزی آئیگی۔
پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن معاہدہ کی تکمیل دسمبر 2014ءمیں ہونی ہے۔ اس معاہدہ پر عمل میں اگر پاکستان قاصر رہتا ہے تو اسے جرمانے کے طور پر ہر ماہ ایران کو 3 ملین ڈالر کی ادائیگی کرنا ہو گی۔ یہ رقم چونکہ کسی کی جیب سے نہیں قومی خزانے سے جانی ہے اس لئے ”محب وطن“ حکمران امریکی دھمکیوں کے باعث پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کو نظرانداز کر رہے تھے۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے اس حوالے سے مایوس کن بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں تاہم عالمی حالات میں ڈرامائی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایران اور فائیو پلس ون ممالک ایک معاہدے پر پہنچ گئے۔ جس کی رو سے ایران کے منجمد عالمی اکاﺅنٹ بحال ہوئے اور وہ مزید پابندیوں کی زد سے بچ گیا۔ اب پاکستان پر بھی ایران سے گیس کی درآمد پر کوئی قدغن نہیں رہی۔ پاکستان بدستور توانائی کی قلت کا شکار ہے جس میں گیس بھی شامل ہے۔ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا ایران میں پرتپاک خیر مقدم ہوا اور حکام سے ملاقاتیں حوصلہ افزا رہیں۔ ان میں گیس منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ ایران کی طرف سے تو پائپ لائن تیار ہے پاکستان بھی ہنگامی طور پر اس پر کام کرے تاکہ جرمانے سے بچا جا سکے اور ہماری ضروریات بھی پوری ہو سکیں۔