سندھ میں دوبارہ قتل و غارت کی لہر

28 نومبر 2013

 وزیراعظم میاںنواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں امن قائم کریں گے۔ انسداد دہشت گردی کی مزید عدالتیں بنائی جائیں گی۔ دوسری طرف کراچی اور حیدرآباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکاروں سمیت 11افراد جا ں بحق ہوگئے ہیں۔ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے بعد کافی حد تک امن و امان قائم ہوگیا تھا لیکن اب پھر دہشت گرد اور تخریب کار عناصر نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔یہ سلسلہ اس وقت تک تھم نہیں سکتا جب تک گرفتار ملزمان کو ان کے جرائم کی سزا نہیں دی جائے گی۔کراچی میں دہشت گردوں کا اسقدر راج ہے کہ ڈر کے مارے کوئی آدمی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی کی مزید عدالتیں قائم کرنیکا اعلان کیا ہے لیکن اگر موجودہ عدالتوں میں ہی ملزمان کا ٹھیک طرح ٹرائل کیاجائے تو کافی حد تک جرائم کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔ملزمان کا دوسری عدالتوں میں بھی ٹرائل کیاجاسکتا ہے۔ انتظامیہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کی تفتیش قانون کے تقاضوں کے مطابق کرے۔ اب انتظامیہ کا حال تو یہ ہے کہ کراچی کی جیلوں میں 41 جعلی قیدیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔اصل مجرمان کہاں بھاگ گئے اور ان 41 جعلی ملزمان کو کس نے کس طرح جیل بھگتنے کے لئے تیار کیا اس بات کا کھوج لگانا ضروری ہے۔اگر اصلی مجرمان جیلوں کے باہر دندناتے رہے تو پھر عوام کو کون تحفظ فراہم کریگا جبکہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار پولیس خود غیرمحفوظ ہے۔گزشتہ روز 7پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد کو قتل کردیا گیا۔ حکومت سندھ نے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن شروع کیا ہے تو پھر پولیس کو اس تناسب سے اسلحہ اور حفاظتی آلات مہیا کیے جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دہشت گردوںکے ڈر سے کوئی آدمی پولیس میں بھرتی ہونے کو ہی تیار نہ ہو حکومت سندھ پولیس اہلکاروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی مدد کرے تاکہ پولیس دلجمعی سے امن و امان قائم کرسکے۔