وکلاءکا سپریم کورٹ پر دھاوا اور پولیس کا لاٹھی چارج

28 نومبر 2013

سپریم کورٹ کے باہر وکلا کے احتجاجی مظاہرے کے دوران بعض وکلاءکے سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں گھس جانے پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور وکلاءکو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا جس پر گذشتہ روز پاکستان بار کونسل کے ملک گیر ہڑتال کے اعلان پر وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ گذشتہ روز سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، ڈی جی خان اور گوجرانوالہ کے وکلاءان پانچ شہروں میں ہائیکورٹ کا بنچ قائم کرنے کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچے تھے۔ جہاں پر وکلاءکی ایک بڑی تعداد نے سپریم کورٹ میں گھسنے کی کوشش کی جس پر انتظامیہ کے ساتھ تصادم ہوا اور بات لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال تک جا پہنچی۔ ملتان اور بہاولپور میں پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ کا بنچ موجود ہے جبکہ مذکورہ بالا پانچوں شہروں کا لاہور اور ملتان سے فاصلہ زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے شہر شہر ہائیکورٹ کے بنچ بنانے کا جواز نہیں بنتا۔ عدلیہ میں ججز کی تعداد پہلے ہی کم ہے۔ اگر مزید پانچ شہروں میں بنچ تشکیل دیے جائیں تو ایک طرف ججز کی تعداد بڑھانی پڑے گی جبکہ اسی تناسب سے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گا۔ لہٰذا بہتر ہوتا کہ قانون کے رکھوالے اگر قانونی راستہ اختیار کر کے سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر کرتے تاکہ افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکل آتا۔یا پھر حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کر لیتے تاکہ لڑائی جھگڑے کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب سینئر وکلا اورپاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنوں کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ اسے الجھانے کی بجائے سلجھایا جا سکے۔