جمعرات‘ 23 محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 28 نومبر2013ئ

28 نومبر 2013

این آئی سی ایل کیس میں نیب اپنے ہی چیئرمین اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کرے گی !
نیب نام کا یہ ادارہ بنا تھا ملک میں ہونے والی لوٹ مار کو روک کر اس میں ملوث افراد کو سزا دینے کیلئے مگر بدقسمتی دیکھئے کہ روز اول سے ہی یہ ادارہ سیاسی بھرتیوں، رشوت ستانی اور اقربا پروری کی شہرت بد سے ایسا مشہور ہُوا کہ خود اس ادارے پر انگلیاں اُٹھنے لگیں مگر حرام ہے کہ حکومت یا نیب کے کارندوں کی جبیں پر عرق ندامت کا ایک قطرہ بھی نظر آیا ہو ....
خطا معاف زمانے سے بدگماں ہو کر
تیری وفا پہ بھی کیا کیا ہمیں گماں گزرے
عوام کی ایک بڑی تعداد اینٹی کرپشن، نیب اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی جیسے اداروں سے توقع رکھتی ہے کہ وہ قومی خزانے میں لوٹ مار کرنے والوں، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے مگر یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ ہے، خود ان اداروں کا کردار ہر جگہ مشکوک نظر آتا ہے۔ یوں کہہ لیں ”کوئلوں کی دلالی میں اپنا بھی منہ کالا“ ہو چکا ہے۔ سب سے زیادہ کرپٹ اور بدنام محکمے بھی یہی ہیں۔ یہاں لاکھوں یا ہزاروں نہیں کروڑوں، اربوں روپے کی ہیر پھیر ہوتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ این آر او کی آڑ میں لاکھوں دیکر اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والے نیک نام اور پارسا قرار دئیے جاتے ہیں۔ جیلوں میں جانیوالے مجرم پراڈو اور لینڈ کروزروں میں سر اٹھائے عوام پر نفرت بھری حقارت کی نگاہ ڈالتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اگر چیئرمین نیب بھی کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں تو سمجھو اس ملک میں انصاف اور میرٹ کا جنازہ اٹھ گیا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کرکٹر عبدالرزاق کے گھر سے ڈاکو 8 ہزار ڈالر، 2500 پاﺅنڈ اور 100 تولے زیورات لے گئے !
اس ڈکیتی کی واردت پر ہم کرکٹر عبدالرزاق کے غم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ ابھی چند روز قبل ہمارے برخوردار سے بھی مسلح موٹر سائیکل سوار ڈاکو بھائی قیمتی موبائل فون گھر کے دروازے پر چھین کر لے گئے تھے۔ ہم تو سرد آہ بھر کر یہ صدمہ جھیل گئے اور خاموش بیٹھے ہیں اب دیکھتے ہیں عبدالرزاق کے ذاتی فین پولیس افسران کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں ....
ملے گل کو خوشبو مجھے مل گیا تُو
پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا
لگتا ہے یہ ڈاکو بھی کرکٹ کے پرستار تھے اس لئے انہوں نے ایسا کرکٹر ڈھونڈا جس کے گھر سے امید تھی کہ کچھ مال و متاع ضرور ہاتھ آئے گا ورنہ ہمارے اکثر کرکٹر اتنا کما چکے ہیں اور کما رہے ہیں کہ اب ان کا یہ مال غنیمت فتوحات بیرون ملک سرمایہ کاری اور پیارے سویٹ ہارٹ دوستوں کیلئے خریداری میں صرف ہوتا ہے۔
اب کھیلوں کی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ کم از کم اپنے بھائی کیلئے آواز بلند کریں، عوام تو شور شرابا کر کے تھک چکے ہیں کوئی نہیں سُنتا انکی۔ ہر گلی محلے اور چوک و چوراہے پر ان کو لوٹنے والے دکانداروں، ریڑھی والوں، پولیس والوں اور ڈاکوﺅں کی شکل میں کھڑے ہیں کس کس سے وہ اپنے آپ کو بچائیں ہر کوئی ہاتھ میں ان کی جیبیں خالی کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ کاش کوئی ایسا حکمران آئے جو عوام کو ان ڈاکوﺅں، چوروں اور لٹیروں سے بچائے تاکہ یہ غریب مخلوق بھی سُکھ کا سانس لے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
گوانتا نامو بے کے قیدیوں کو ایجنٹ بنا کر رہا کیا گیا : سی آئی اے عہدیدار !
بدنام زمانہ جیل گوانتا نامو بے کا نام پہلے ہی کافی مقبول و معروف ہے، اس کی دہشت کے قصے زبان زد عام و خاص ہیں۔ کئی حکومتوں اور حکومتی افراد نے لاکھوں ڈالر سروں کی قیمت والے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر کے دام کھرے کئے اور یہ مشہور زمانہ ملزم اسی جیل کے مہمان بنے۔ اس جیل کے خلاف عالمی رائے عامہ میں عرصہ دراز تک مخالفانہ مہم بھی چلی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔ اگر عوامی زبان میں اس جیل کا تذکرہ کیا جائے تو اسے ہم عالمی مچھ جیل، میانوالی جیل یا سکھر جیل بھی کہہ سکتے ہیں، اس کے بعد ہمارے بھولے بھالے سیدھے سادے عوام بخوبی اس جیل کی عزت و حرمت، قدر و قیمت پہچان سکتے ہیں۔
اب امریکہ نے آہستہ آہستہ اس جیل سے کچھ قیدیوں کو قسط وار رہائی بھی دی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے خود سی آئی اے کے ایک عہدیدار کی طرف سے کہ یہ وہ قیدی ہیں جنہیں طویل برین واشنگ اور اس کے ساتھ معقول معاوضہ پر امریکی ایجنٹ کا عہدہ جلیلہ قبول کرنے پر رہا کر کے ان کے ممالک روانہ کیا گیا۔
بلاوجہ اتنا شور اتنی بدنامی اس جیل کی عالمی سطح پر کی گئی تھی حالانکہ اب حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ تو امریکہ کا ٹریننگ سنٹر ہے جہاں بگڑے بچوں کو سدھار کر ان کی اصلاح کی جاتی ہے اور انہیں سدھارنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کر کے ان کے اپنے گھر روانہ کیا جاتا ہے کہ اب وہ دنگا فساد کی بجائے صاحب بہادر امریکہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی باقی زندگی چین کی بنسری بجاتے ہوئے گزاریں گے اور اپنا پہلا کام نئے انداز سے جاری رکھ سکیں گے انہیں صرف پارٹی منشور اور زاویہ¿ نگاہ بدلنا ہے جس کا انہیں مناسب معقول معاوضہ بھی ملے گا اور یوں دنیا بھر میں قیامِ امن کی راہ ہموار ہو گی اور یوں ....
زندگی اپنی گزرے جائے گی آرام کے ساتھ
اب تیرا نام بھی آئے گا میرے نام کے ساتھ