اسلام امن و محبت کا مذہب ہے انتہا پسندی‘ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘ طاہر القادری

28 نومبر 2013
اسلام امن و محبت کا مذہب ہے انتہا پسندی‘ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘ طاہر القادری

کراچی(نیوز رپورٹر) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ اسلام امن و محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اس کا تنگ نظری انتہا پسندی اور دہشت گردی سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ امت مسلمہ کی غالب ترین اکثریت انسانیت کے احترام اور امن و محبت کی اقدار پر عمل پیرا ہے مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی آباد ہیں وہ اپنے کردار سے پرامن معاشرے کے قیام میں مثبت کردار ادا کریں۔ بد قسمتی سے جرائم پیشہ افراد کے مذموم عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو افسوسناک اَمر ہے وہ شر پسند عناصر جو اپنے جرائم کے جواز کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھتے ہیں وہ دنیا کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دے رہے ۔سرور کائنات حضرت محمد ﷺ محض مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ کائنات کے تمام طبقات کے لئے رحمت اللعالمین بن کر آئے اور انکی تعلیمات انسانیت سے محبت ، احترام اور امن و سلامتی پر مبنی ہیں ۔پوری امت مسلمہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ ان اقدامات کو اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف سمجھتی ہے۔چند شر پسندوں اور انتہا پسندوں کے عمل کو اسلام کے ساتھ جوڑنا قطعاً درست نہیں۔دہشت گردی اور جرائم کے واقعات امریکہ ،اسرائیل سمیت دیگر مغربی ممالک میں بھی ہوتے ہیں مگر وہاں اسے صرف جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ اگر کوئی مسلمان ایسا کرے تو اسے براہ راست اسلام کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو انصاف کے تقاضوں کے بر عکس ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسل سنٹر لندن میں دی گلوبل پیس اینڈ یونیٹی فیسٹیول میں شریک ہزاروں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔فیسٹیول میں دنیا بھر سے معروف مذہبی سکالرز،سیاسی،سماجی اورصحافتی شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا سٹیج پر آمد کے وقت شرکاءنے کھڑے ہو کر پر تپاک استقبال کیا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ آج امت مسلمہ کی نوجوان نسل کی شناخت،ثقافت،نظریات و میراث کھو چکی ہے جس کو پانے کے لیے اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کے نام پر بے گناہوں کو مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ہم انفرادی،گروہی اور ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اسلام کے نام پر اگر کوئی گروپ یا تنظیم دنیا کے کسی بھی حصے میںدہشت گردی یاانتہا پسندی کی ذمہ دار ہے تو اس کا یہ فعل نہ صرف خلاف اسلام ہے بلکہ انسانیت کی تذلیل بھی ہے۔ ان جرائم کے مرتکب پیشہ ورمجرموں کو سزا ملنی چاہیے ۔لیکن ایسے مجرموںکے غیر اسلامی فعل کی بنیاد پر بے گناہوں پر مظالم کا سلسلہ بھی بند کیا جائے ۔ امت مسلمہ کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو انتہا پسندوں اور باغیوں سے بچانے کےلئے متحرک ہو اور حضوراکر م ﷺ کی حقیقی تعلیمات کو دنیا میں عام کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...