ملک میں بڑھتی ہوئی معاشرتی خلیج اور ریاستی ناکامی

28 نومبر 2013

جب معاشرے کے مختلف طبقوں میں اخوت و برداشت کی جگہ بداعتمادی اور نسلی و فرقہ وارانہ کشیدگی جنم لینے لگتی ہے تو برسوں کی سماجی قربتیں بتدریج فاصلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں تو پھر اِن فاصلوں کو دوبارہ قربتوں میں ڈھالنے اور معاشرتی خلیج کو پاٹنے کےلئے ریاستی سطح پر غیر معمولی حکمت اور اہلیت کی حامل شخصیتوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کیا آج کے پاکستان میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبال یا قائداعظم محمد علی جناح جیسی کوئی مدبر شخصیت موجود ہے جو اِن فاصلوں کو پھر سے قربتوں میں ڈھال سکے ؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب قوم حکمرانوں سے سننے کی منتظر ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی نابغہ روزگار شخصیت کی بدولت ایٹمی طاقت بن چکا ہے جسے کیپ کرنے کےلئے بیرونی طاقتوں کی نظریں ہمارے ایٹمی پروگرام پر لگی ہیں البتہ افواج پاکستان کی منظم و مربوط کوششوں کے سبب اغیار اپنے عزائم میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکے ہیں لیکن ہمارے سیاسی اور انتظامی امور میں در آنے والی منافقانہ طرز فکر کے باعث کچھ بیرونی قوتیںاور اُن کے پروردہ مقامی عناصر اپنے مخصوص سیاسی و معاشی مفادات کے حصول کےلئے ملک میں معاشرتی خلیج و خلفشار کو ہوا دینے میں ضرور کامیاب نظر آتے ہیں ۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آزادی کے 66 برس گزارنے کے باوجود ہمارے ریاستی امور پر میرٹ اور جوہرِقابل کی جگہ اقربہ پروری اور روٹین ازم کی بھرپور چھاپ ہی لگی نظر آتی ہے، اِس پر طرہّ یہ کہ قومی امور پر بیرونی اثرات بتدریج ڈکٹیشن کا روپ دھارتے جا رہے ہیں جنہیں گہرائی اور گیرائی سے سمجھ کر قومی فکر و نظر سے فیصلے کرنے کے بجائے ہمارے حکمران ریاستی امور پر مصلحتوں کے تابع ہو کر رہ گئے ہیں ۔ انسداد دہشت گردی اور فرقہ واریت کے حوالے سے اہم قومی معاملات پر موثر قانون سازی اور بروقت فیصلوں کے فقدان کے باعث ہماری قومی زندگی معاشرتی خلفشار کی کیفیت سے گزر رہی ہے جسے راولپنڈی کے حالیہ دلخراش واقعات نے بدتر کر دیا ہے۔
 دراصل گذشتہ ہفتے رونما ہونے والے چند واقعات نے پاکستانی عوام کو قومی کنفیوژن سے دوچار کر دیا ہے۔ پہلی بات تو امیر جماعت اسلامی منور حسن کی جانب سے ایک نجی ٹی وی چینل پر دیئے جانے والے بیان کے حوالے سے سامنے آئی جس میں اُنہوں نے حالیہ امریکی ڈرون حملوں میں پاکستانی طالبان رہنما کی ہلاکت کو شہادت قرار دیتے ہوئے قبائلی علاقوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاستی رِٹ بحال کرنے والے پاکستانی فوجی جوانوں اور افسران کی شہادت کو محض ہلاکت قرار دے دیا ۔ بلاشبہ ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف جنگی جرائم کے ضمن میں آتے ہیں لیکن اگر محترم منور حسن اپنے بیان کو قبائلی رہنما کی شہادت تک ہی محدود رکھتے تو پھر اِس کا ردعمل نہ ہوتا لیکن اُنہوں نے افواج پاکستان کو اپنے بیان میں لپیٹ کر صورتحال کو دگرگوں کر دیا کیونکہ پاکستانی عوام یہ جاننے اور سمجھنے سے قطعی قاصر ہیں کہ مختلف طالبان گروپوں کی دہشت گردی اور پاکستان میں خود کش حملوں میں چالیس ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی مسلمانوں کی شہادت کو کس خانے میں رکھا جائیگا ؟
اِس اَمر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ آجکل انٹرنیٹ اور فیس بُک پر سابق طالبان کمانڈر کے ہاتھوں عمر رسیدہ کرنل امام اور خالد خواجہ کو مبینہ طور پر اپنے دفاع کا غیرجانبدارانہ موقع دئیے بغیر قتل کرنے اور بالخصوص کرنل امام کے کھلے عام قتل کی وڈیو پر مشکل سوالات قائم کئے جا رہے ہیں جن میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اِن عمر رسیدہ افراد کو جنہوں نے افغان جہاد کے دوران طالبان کےساتھ مل کر غیرمعمولی خدمات سرانجام دیں تھیں ،بےدردی سے قتل کیا جانا ضروری تھا؟ منور حسن صاحب ضرور جانتے ہونگے کہ نئے طالبان کمانڈر ملا فضل اللہ ایک متنازعہ شخصیت کے مالک ہیں جن کی فکر اسلامی کے بارے میں سوات اور مالاکنڈ کے بیشتر شہری آج بھی معترض نظر آتے ہیں ۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سوات، دیر اور مالاکنڈ آپریشن کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاستی رِٹ کی بحالی سے متعلقہ آرمی آپریشن کی تائید سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بلائی ہوئی آل پارٹیز کانفرنس نے نہیں کی تھی جس میں جماعت اسلامی نے بھی شرکت کی تھی ؟ اوّل تو محترم منور حسن کے اِس بیان سے افواجِ پاکستان کے شہید افسروں اور جوانوں کے خاندانوں اور خود فوج میں پیدا ہونے والی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے سیاسی حکمرانوں کو بروقت نوٹس لیتے ہوئے اُنہیں افواج پاکستان کے شہیدوں کے حوالے سے اپنے بیان کو واپس لینے پر قائل کرنا چاہئیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا چنانچہ افواج پاکستان میں شہید خاندانوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی کو دور کرنے کےلئے اگر آئی ایس پی آر نے بروقت بیان جاری کیا تو اِس پر جماعت اسلامی جو پاکستان کی محب وطن جماعت ہے کو وزیراعظم سے آرمی کے بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اصلاحی بیان جاری کرنا چاہیئے تھا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 میں وضع کردہ حکمت عملی کے اصول کےمطابق آئی ایس پی آر کے چیف کی جانب سے وضاحتی بیان کی آئین اجازت دیتا ہے ۔
 اِسی ضمن میں عوام الناس سوال قائم کرتے ہیں کہ کیا حضرت ابوبکرؓ نے فکر اسلام کی رِٹ بحال کرنے کےلئے منکرینِ زکواة کے خلاف جہاد نہیں کیا تھا جبکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 2 کےمطابق اسلام کو پاکستان کے ریاستی مذہب سے تعبیر کیا گیا ہے اور آرٹیکل 31 میں نفاذ اسلام کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے ، تو پھر اسلامی ریاست کی رِٹ کی بحالی کی خاطر شہید ہونے والوں سے شہادت کا یہ اعزاز کیونکر واپس لیا جا سکتا ہے؟ اگر اسلامی سیاسی جماعتوں کو ملک میں نفاذ شریعت کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تو اُنہیں آئین کی اسلامی دفعات پر عمل درامد کےلئے حکومت پر دبائع ڈالنا چاہئیے تھا۔ اِس اَمر پر بھی غور کرنا چاہئیے کہ کیا طالبان کے مختلف گروپس ملک میں چالیس ہزار سے زیادہ بےگناہ پاکستانیوں کو شہید کرکے ریاست سے بے وفائی اور آئین و قانون کی شدید خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو چکے ہیں ، جس پر کیا محب وطن جماعت کے امیر کو افواج پاکستان کے خلاف بیان دینے سے قبل غورو فکر نہیں کرنا چاہئیے تھا ؟