سلطانی جمہور اور سیکولر مُلائیت

28 نومبر 2013

آج کے عالمِ اسلام میں جمہوریت اور آمریت کے مابین نظریاتی کشمکش نے سیاسی تصادم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تیونس ، مصر اور ترکی سمیت بیشتر مسلمان ممالک میں یہ نظریاتی تصادم کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ عرب بیداری (Arab Spring) کے زیرِ اثر جن جن مسلمان ممالک میں اسلامی جمہوریت کا قیام عمل میں آیا تھا وہاں لادین(سیکولر) سیاست کے علمبردار پھر سے فوجی آمریت کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔سب سے پہلے مصر کی فوج نے عرب ملوکیت کی سرپرستی میں اسلامی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر رکھ دی تھی۔ترکی کی جمہوری قیادت صرف اپنے وطن ہی میں نہیں بلکہ آس پاس کے ممالک میں بھی لادین سیاست کا مقابلہ بڑی پامردی کے ساتھ کرنے میں مصروف ہے۔چنانچہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے مصر میں صدر مُرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے ،اُنکے جمہوریت پسند حامیوں کی قیدوبند اور اسلام پسند مظاہرین پر ناروا تشدد کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ مصر کی فوجی آمریت کے اِن ظالمانہ اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محبوس صدر مُرسی کے حق میں آواز اُٹھاتے چلے آ رہے ہیں۔ مصر کی حکومت نے ترک وزیراعظم کی اِس تنقیدپر غضبناک ہو کر ترکی سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ اِسکے ردِعمل میں ترکی نے بھی مصر کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر واپس بھیج دیا ہے۔
جب سے مصری فوج نے اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر جمہوری عمل کی راہ مسدود کی ہے ترک وزیراعظم مسلسل اور متواتر مصر کی فوجی حکومت کیخلاف ”اشتعال انگیز “بیان دیتے چلے آ رہے ہیں۔ فوجی حکومت اِن بیانات کو مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتی ہے مگر ترک وزیراعظم اسے محبوس صدر مُرسی کو خراجِ تحسین قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ: ” میں صدر مُرسی کا احترام کرتا ہوںمگرمیرے دل میں اُن لوگوں کا قطعاً کوئی احترام نہیں جنہوں نے اُن پر مقدمات قائم کر رکھے ہیں۔“
ترک وزیراعظم کی اِس تلخ نوائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ خود اُنہیں ترکی کی سیکولر سیاست سے اسی انداز کی مخالفت کا سامنا ہے جس اندازِ سیاست نے اخوان المسلمون کی جمہوری سیاست کے مقابلے میں فوجی آمریت کے تسلط کو ترجیح دی ہے۔ ترکی میں سیکولر سیاست کو ہمیشہ فوج کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل رہی ہے۔
 اب بھی سیکولر سیاسی حلقے عوام الناس سے دُوری پر نازاں ہیں۔ اِس دُوری کی وجہ ترک عوام کا اسلامی طرزِ فکر و احساس ہے۔ تازہ ترین سیاسی تنازعہ استنبول کے ”تقسیم سکوائر “میں ایک عالی شان مسجد کی تعمیر پربرپا ہے۔اِس مسجد کی تعمیر ترک وزیراعظم رجب طیّب اردگان کا ایک دیرینہ خواب ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ”میدانِ تقسیم “میں ایک قدیم چرچ تو موجود ہے ۔ اِسی نواح میں جب یہ عالی شان مسجد وجود میں آ جائے گی تواِس میدان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کی ایک علامت وجود میں آ جائیگی۔اِسکے برعکس لادین سیاست کے رسیا مسجد کی تعمیر کے اِس منصوبے کو حکومت کا خفیہ اسلامی ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ جناب اردگان کے اِس دیرینہ خواب کو اسلامی قوم پرستی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اِن لوگوں کے نزدیک مسلمان اکثریت کے ایک ملک میں اسلامی قوم پرستی کے جذبات کی پرورش گناہ سے کم نہیں۔اِسکے برعکس ترکی کے مسلمان عوام اسلام سے اٹوٹ وابستگی رکھتے ہیں اور اپنی اسلامی شناخت پر نازاں ہیں۔
جناب رجب طیب اردگان نے ،آج سے سولہ سال پیشتر ، 1997ئمیں شہر استنبول کے میئر کی حیثیت میں اسی تقسیم سکوائر میںاس مسجد کی تعمیر کا عزم کیا تھا مگر فوج نے مداخلت کر کے اُس وقت کے اسلام پسند وزیراعظم نجم الدین اربکان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔آج جناب اردگان پوری ترکی کی حکومت کے سربراہ ہیں اور یہیں مجوزہ عالی شان عمارت تعمیر کرنے پر مصر ہیں، جبکہ ترکی کی سیکولر اقلیت نے اس مسجد کی تعمیر کو ایک سیاسی تنازعے کی شکل دے رکھی ہے۔ اِن کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے نہ صرف تقسیم سکوائر بلکہ پوری ترک قوم کی اسلامی شناخت نمایاں ہو جائے گی۔ 16 برس پہلے تو ترکی کی فوج اِس سیکولراقلیت کی مدد کو آ پہنچی تھی مگر آج شاید ایسا ممکن نہیں۔ وزیراعظم اردگان نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ : ”تقسیم سکوائر میں یہ مسجد ضرور تعمیر ہو گی۔مجھے اِس خانہ¿ِ خدا کی تعمیر کے لیے ترکی کی حزبِ اختلاف اور چند لٹیروں سے اجازت لینے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ہمیں ترک عوام کی اُس اکثریت کی جانب سے یہ فریضہ سرانجام دینے کی اجازت حاصل ہے جس نے انتخابات میں ہمیں ووٹ دے کر اقتدار بخشا ہے۔ “
مصر کی فوجی بغاوت نے تیونس میں بھی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے حوصلے بڑھا دیئے ہیں۔ زین العابدین بن علی کی طویل اور سفّاک آمریت کے بعد قائم ہونے والی منتخب جمہوری حکومت حزبِ اختلاف کیساتھ مل کر آئین سازی میں مصروف ہے مگر القاعدہ اور انصار الشریعہ کی دہشت گردی کے زور پکڑنے کے باعث آئین سازی کا عمل بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ لادین سیاست کے سرگرم کارکن اسلامی جمہوریت کو بحران میں مبتلاکر دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ادھر کوئی سیکولر سیاستدان دہشت گردی کا نشانہ بنا اور اُدھر حزب اختلاف نے آئینی مذاکرات کو تعطّل میں ڈال دیا۔ اسکے باوجود حکمران النہدہ پارٹی کی قیادت آئین سازی اور مذاکرات کی سیاست کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہاں سارا جھگڑا اسلامی جمہوریت اور لادین سیاست کے مابین ہے۔
دُنیائے اسلام میں سرگرمِ عمل چھوٹے چھوٹے سیکولر گروہ جس طرزِ فکر و عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اُس کا وسیع النظری ، روشن خیالی اور عوام دوستی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ یہ سیکولر مُلائیت ہے جو عوام کی بھاری اکثریت کے فکر و احساس کے منافی طرزِ عمل اختیار کر کے تنگ نظری ، تنگ دلی اور عدم رواداری کی خوگر ہے۔ جمہوریت کی بجائے فسطائیت کی ترجمان ہے۔ فوجی آمریت اور خاندانی بادشاہت کی آلہ¿ِ کار ہے۔ عہدِ حاضر کے سب سے بڑے مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میںعقیدہ¿ ختمِ نبوت کی کلچرل معنویت اُجاگر کرتے وقت یقینِ محکم کے ساتھ ارشاد فرمایا تھا کہ نبوت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی خاندانی بادشاہت بھی ختم ہو گئی ہے اور مُلائیت بھی اور یوں اسلام کا ظہور استقرائی عقل کا ظہور ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلام میںتو شہنشاہیت اور مُلّائیت نہیں ہے مگرمسلمانوں میں ہر دو ادارے حیّ و قائم ہیں۔ ” اسلامی کلچر کی رُوح“ کے موضوع پر علامہ اقبال کے متذکرہ بالا خطبے کی اشاعت سے فقط چند برس پیشتر برطانوی سامراج نے عرب دُنیا میں اپنے چند وظیفہ خواروں کومختلف عرب ممالک میں تختِ شاہی پر لا بٹھایاتھا۔ خاندانی بادشاہت اپنے ساتھ مُلّائیت لائی۔ یوں تب سے لے کر اب تک دُنیائے اسلام میں ملوکیت اور مُلّائیت ، ہر دو کا بول بالا ہے۔ آج مذہبی مُلائیت اور سیکولرملائیت یکجا ن و دوقالب ہو کر سلطانی¿ جمہور کی راہوں کو مسدود کرنے میں کوشاں ہیں مگر علامہ اقبال ہیں کہ ہمیں یہ بشارت دیے چلے جا رہے ہیں :
شرارِ آتشِ جمہور کہنہ ساماں سوخت
رِدائے پیرِ کلیسا ، قبائے سُلطاں سوخت