غداری کا مقدمہ

28 نومبر 2013

کسی بھی ملک یا قوم کو کبھی نہ کبھی اپنے ماضی کے تاریک پہلوو¿ں کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے جو اس کیلئے باعث عبرت بھی ہو سکتے ہیں اور باعث شرمندگی بھی۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ میں نسلی تفریق کا دہائیوں بعد مصالحتی کمشن کے ذریعے سچ آخر کار واضح ہو ہی گیا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایک بڑی اور طاقتور حکومت ہے لیکن اسے بھی واٹر گیٹ سکینڈل پر تلافی کرنا پڑی۔ جرمنی کو قتل و غارت اور خونریزی کے واقعات کے برسوں بعد نیورمبرگ کے مقدمات میں جنگ کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں ان قوموں کیلئے یہ ادوار تکلیف دہ تھے وہیں انہیں ندامت سے بھرے ماضی کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے اور ایک شاندار مستقبل کا استقبال کرنے کا موقع بھی ملا۔
ایسا ملک جہاں جرنیلوں نے متعدد بار قانون اور آئین کو توڑ اور ملک کی 67 سالہ تاریخ میں تقریباً نصف عرصہ حکومت کی وہیں جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہے تاکہ مستقبل میںایسی غلطیاں نہ دُہرائی جائیں۔
پچھلے کچھ عرصہ سے ملک میں فوجی جنرل پر غداری کا الزام زبان زد عام ہے حالانکہ ماضی میں کسی بھی فوجی آمر پر مقدمہ کئے جانے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں گیا لیکن اب رواج بدل چکا ہے اور اس کا ثبوت حالیہ برسوں میں فوجی جنرل کے خلاف نہ صرف غداری اور بغاوت کے مقدمات درج ہوئے بلکہ انکی سماعت بھی ہوئی اور اسکی بڑی وجہ عدلیہ سمیت جمہوری اداروں کا ایک بار پھر قومی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کرنا ہے۔ سول سوسائٹی کی حمایت اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے سابق صدر مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے پُرزور مطالبہ نے عوام کو اپنے حقوق کے حوالے سے پہلے سے زیادہ مستعد بنا دیا ہے۔ بالآخر میڈیا اور عوام کی محنت رنگ لائی اور مسلم لیگ (ن) نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے مقدمے کی سماعت شروع کروانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے ایک خصوصی عدالت کے قیام کا اعلان کیا ۔ 1973ءکے آئین کے فوجداری ترمیمی قانون کی شق 4 کے مطابق غداری کے مقدمہ کی سماعت کیلئے وفاقی حکومت کو کارروائی کی خاطر خصوصی عدالت قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قانون کی پیروی میں وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کر کے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ تین ججوں کو مقدمے کی سماعت کیلئے نامزد کریں۔ سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے کہا کہ وہ ایک ایک جج کو نامزد کرےں تاکہ ان کی شمولیت خصوصی عدالت میں ممکن بنائی جا سکے۔ حکومت کو پانچ نام بتائے گئے تاکہ وہ ان میں سے تین کو مقدمے کی سماعت کیلئے منتخب کر سکے۔ حکومت خاص طور پر وزیراعظم نے ان پانچ ججوں میں سے تین کی سفارش کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل کا اعلان کیا جو ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کا ٹرائل اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت کے احاطے میںکرے گی۔ اس کارروائی کو سرانجام دینے کیلئے حکومت نے اپنے مخصوص قانون دان اکرم شیخ کو اس ٹرائل کا خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے۔
فطری طور پر صدر پرویز مشرف کے حامیوں نے اس کارروائی پر تنقید کی اور خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کرنے کا فیصلہ بھی کیا، ان کے بقول اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو نامزد ججوں میں ریٹائرڈ جنرل مشرف کیلئے گہرا تعصب پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کیس میں انصاف کی امید نظر نہیں آتی، درحقیقت یہ چیلنج ایک قیاس کی مانند ہے جو خصوصی عدالت کی تشکیل پر کسی صورت میں اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
چیف جسٹس کو خصوصی عدالت کیلئے ججوں کی نامزدگی کی استدعا پر حکومت کو بھی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ اپنے استحقاق کا اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں چیف جسٹس تک رسائی کسی بھی آئین کا حصہ نہیں ہے۔ حکومت کے ان محتاط اقدامات سے دو طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں1۔ خصوصی عدالت کیلئے ججوں کی تقرری حکومت کی اپنے تاریخی دشمن کے خلاف انتقامی کارروائی نہ ہو 2 ۔ اس کارروائی میں ابتدا سے ہی عدالت عظمیٰ کی شمولیت خصوصی عدالت کی تشکیل کو بعد میں پیش آنے والے چیلنجوں سے محفوظ رکھنے کا کوئی خاص نسخہ ہو۔
اس وقت میدان سج جانے کے ساتھ ہی مشرف کے ٹرائل کو منطقی انجام کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ یہ کارروائی صرف آئین کے مینڈیٹ کی تکمیل کیلئے ہی مطلوب نہیں بلکہ اگر ہم نے آج بلا خوف و خطر انصاف کے ساتھ پُرامن طریقے سے درست سمت کی جانب قدم بڑھایا تو یقیناً یہ ٹرائل بار آور ثابت ہو گا جو ہماری ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں آنے والے طالع آزما جرنیلوں کیلئے ایک انتباہ بھی ہوگا۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس ٹرائل سے جمہوری نظام کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھنے کا بھی امکان ہے۔ یہ مقدمہ اس بات کو بھی ظاہرکرتا ہے کہ قانون سب کیلئے ایک سا ہے اور فوجی جنرل اور ان کی پیدا کردہ رکاوٹوں کو آئین پر اثر انداز ہونے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ وہ بھی قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہےں اور یہ کہ ملک میں حمایتی اداروں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ کوئی بھی آئین کے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا کیونکہ آئین اور اس کی دفعات صرف کاغذ پر لکھا غیر واضح متن نہیں کہ اس پر کبھی عمل نہ کیا جائے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کی بہت سی اقدار آئین کی آئینہ دار ہیں۔ مطلوبہ ٹرائل کے ذریعے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ دروازے کے پیچھے کھڑے ہو کر تماشہ کرنے کا کلچر آخرکار اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ اب اس خطے میں انصاف دن کی روشنی میں ہو گا ناکہ جی ایچ کیو کے کسی نامعلوم بندکمرے میں بیٹھ کر۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہےے کہ کسی بھی ملک کے آئین اور قانون سے کوئی فرد اور ادارہ بڑا اور طاقتور نہیں ہوتا۔ مشرف کے ٹرائل کی صورت میں یہ ممکن تو ہو رہا ہے لیکن پھر بھی ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی مفاد میں کی جانے والی یہ کارروائی پھر سے عدلیہ اور سیاست کی نذر نہ ہو جائے۔ سابق صدر مشرف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کی خواہش کسی کو بھی مینڈیٹ اور انصاف کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف عام شہری کی طرح مقدمے کی سماعت کے دوران قانونی تحفظ حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہےے کہ ترکی میں یورپی کنونشن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر عدنان میندریس اور عبداللہ اوکلین کو بیس برس بعد غداری کے مقدمے پر سزا سنائی جانے کو رد کر دیا گیا تھا۔ ہمیں ایسی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے تاکہ قومی اور عدالتی مسائل کا قانونی طریقے سے حل ممکن بنایا جا سکے۔ اس کیلئے ہمیں بحیثیت قوم ملکی قوانین پر عمل کرنا ہے۔ اسکے باوجود بھی ہمیںقانونی طور پر انصاف کو یقینی بنانے کیلئے کوشش کرنی ہوگی تاکہ انصاف کے حصول کیلئے غیر قانونی اور حقیر ذرائع کا سہارا نہ لینا پڑے۔ ہمیں قانون اور آئین کی اصل روح کو ترجیح دینی ہے حتیٰ کہ بے ایمانی کے دور دورہ میں بھی خود کو فرض شناسی سے ہمکنار رکھنا ہے کیونکہ انصاف کی تکمیل کا یہی اصل امتحان ہے۔