جسٹس تصدق جیلانی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پہلے چیف جسٹس ہونگے

28 نومبر 2013

ملتان (رپورٹ محمد نوید شاہ سے) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد اس عہدہ پر ترقی پانے والے مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کا تعلق ملتان بار سے ہے۔ وہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پہلے وکیل ہیں جنہیں یہ اعزاز مل رہا ہے۔ مظفر گڑھ کے نواحی پسماندہ علاقہ خان گڑھ کے متوسط گھرانے سے ان کا تعلق ہے  ۔سابق پولیس افسر کے گھر انہوں نے 1949ء میں آنکھ کھولی جس کے بعد ملتان سے پائلٹ سیکنڈری سکول سے میٹرک کیا جہاں آج بھی ان کا نام سکول کے ذہین طلباء کی فہرست میں درج ہے۔ انکے چیف جسٹس کے عہدہ پر تعیناتی پر جہاں ملتان کی ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹ بار میں جشن کا سماں ہے وہاں انکے سکول میں بھی انکے پرانے اساتذہ اور عملہ مٹھائیاں تقسیم کر رہا ہے۔ انکی تعیناتی کو وکلاء اور اساتذہ جنوبی پنجاب کا منفرد اعزاز قرار دے رہے ہیں۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی4 جولائی1949ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر مظفر گڑھ سے حاصل کی۔ بعد ازاں میٹرک پائلٹ سکول سے کیا۔ گریجویشن ایمر سن کالج ملتان سے کرنے کے بعد سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری لاہور فارمین کرسچن کالج  سے حاصل کی۔ قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے لی جس کے بعد کانسٹیٹیوشنل لاء کا کورس لندن کی یونیورسٹی سے کیا۔ انہوں نے اپنی پریکٹس کا آغاز بطور وکیل ملتان ڈسٹرکٹ کورٹس سے 1974ء میں کیا۔ 1976ء میں ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ بنے اسی سال ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ پنجاب بار کونسل کے ممبر 1978ء میں بنے 1979ء میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب منتخب ہوئے جس کے بعد 1983 ء میں سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بنے۔ مسٹر جسٹس تصدق جیلانی کو 1993ء میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر 7 اگست 1994ء کو اور31 جولائی 2004ء کو سپریم کورٹ کے جج کا حلف اٹھایا انہوں نے 3 نومبر 2007ء کو آمرانہ حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی ایمرجنسی تک خدمات دیں۔ پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت نیا حلف لینے سے انکار کرنے پر سپریم کورٹ کے جج کے طور پر انہیں غیر فنکشنل قرار دے دیا گیا، 2008 ء میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ستمبر 2009ء میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر دوبارہ جوائن کیا۔ تصدق حسین جیلانی کو بین الاقوامی سطح پر بھی بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔ مشی گن کے مدیر کی جانب سے کی آف دا سٹی ڈیٹ رونیٹ کا اعزاز دیا گیا۔ 12 اکتوبر 2007ء کو واشنگٹن میں سدرن ورجینیا یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی۔ امریکن بار میں ایک اعزازی نشست دی گئی۔ جولائی 2008ء میں امریکن بار ایسوسی ایشن کے جانب سے پاکستان میں رول آف لاء کو قائم رکھنے والے ججز میں سے مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کو 2008 ء میں رول آف لاء کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ اس وقت قائم مقام چیئرمین الیکشن کمشنر آف پاکستان کے عہدے پر بھی کام کر رہے ہیں۔