حساس ادارے کہتے ہیں ہمارے گلے کاٹے گئے‘ لاپتہ افراد کیسے چھوڑ دیں: اٹارنی جنرل‘ سہرب گوٹھ میں اسلحہ کے ذخائر ہیں‘ طالبان کی وجہ سے کارروائی نہیں کر سکے: چیف کسٹمز کلکٹر

28 نومبر 2013

کراچی (وقائع نگار+ ایجنسیاں+ بی بی سی) کراچی میں سپریم کورٹ کو کسٹمز حکام نے بتایا ہے کہ سہراب گوٹھ میں منشیات اور اسلحے کے گودام ہیں لیکن طالبان کی موجودگی کے باعث وہ کارروائی نہیں کر سکے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا سہراب گوٹھ منشیات اور اسلحے کا سب سے بڑا اڈا ہے جہاں آصف سکوئر، جنت گل ٹاؤن اور مچھر کالونی میں منشیات، اسلحے اور سمگلنگ کے سامان کے گودام موجود ہیں۔ کسٹمز کے چیف کلکٹر یحیٰی خان نے عدالت کو بتایا کہ اسلحہ، منشیات اور سمگلنگ کا سامان پبلک بسوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور ویگنوں اور سوزوکیوں کے ذریعے شہر کے دیگر علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ علاقے میں طالبان کی موجودگی اور تسلط قائم ہے اور اس وجہ سے کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوال کیا کہ کیا انھوں نے یہ معلومات سندھ حکومت کو دی ہے، چیف کلکٹر یحیٰی خان نے اس کا جواب مثبت میں دیا اور بتایا کہ پولیس اور رینجرز محرم کی سکیورٹی کے باعث مصروف تھے لیکن اب مشترکہ کارروائی کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید نے بتایا کہ پانچ نومبر سے 8942 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے مختلف اقسام کے 2293 ہتھیار اور 220 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا اور 1386 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمات چلانے کے لئے انسداد دہشت گردی کی پانچ عدالتیں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ 200 نئے تفتیشی افسر بھرتی کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست کر دی گئی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان کی رپورٹ اطمینان بخش ہے لیکن ٹرائل نہ ہوا اور شواہد میں بہتری نہیں آئی تو ملزمان رہا ہو جائیں گے۔ جسٹس خواجہ ایس جواد نے سوال کیا کہ افغانستان کی موبائل سم پاکستان میں کیسے استعمال ہوتی ہے۔ کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر نے بتایا کہ افغانستان کی سم 14 سو سے دو ہزار روپے میں مل جاتی ہے اور پاکستان کی کمپنیاں اس کو بلاک نہیں کر سکتیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دبئی اور افغانستان کی جو سمیں یہاں استعمال ہو رہی ہیں انہیں کیسے روکا جائے؟ اس پر اٹارنی جنرل منیر ملک نے انہیں درخواست کی کہ یہ تکنیکی معاملہ ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو نوٹس جاری کریں۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی اے اور پانچ موبائل فون کمپنیوں کو آج طلب کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق پولیس رپورٹ پیش کر دی۔  سماعت  کے دوران جسٹس ثاقب  نثار کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سم غیر قانونی اسلحے  سے کم خطرناک نہیں ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں کسٹم ڈیوٹی چوری روک دی جائے تو حکومت کو آئی ایم ایف اور بیرونی امداد کی ضرورت نہیںپڑے گی۔ کسٹم حکام کی کرپشن کے باعث ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسٹم میں کرپٹ مافیا کا وائٹ واش کرکے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جائے۔ اگر ملک بچانا ہے تو تمام سچ سامنے لاکر ملکر لڑنا ہوگا۔ اپنی نسلوں پر مہربانی کریں عدالت پر احسان نہ کریں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹرائل نہ ہوا تو ساری کاوشیں ماند پڑجائیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کی رپورٹ قابل اطمینان ہے مگر ہمیں اطمینان اس وقت ہوگا جب گرفتار ملزمان کو سزائیں دی جائیں گی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کو صفائی کا موقع دیا جائے۔ جب تک ثبوت اکٹھے نہیں ہوں گے عدالتیں ملزمان کو سزائیں نہیں دے سکتیں۔ عدالتیں بڑھانے سے کام نہیں چلے گا۔ انفراسٹرکچر، اعلیٰ تفتیش اور پراسیکیوشن کی ضرورت درکارہے۔ اگر گرفتار ملزمان کے خلاف ثبوت اکٹھے نہیں کئے گئے تو کراچی میں آپریشن بھی ناکام ہو گا۔ حکومت سندھ کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے دلچسپی لے رہی ہے لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ چیف جسٹس نے کسٹم حکام سے استفسار کیا کہ بتائیں 100فیصد ٹیکس ریکوری ہو رہی ہے؟ اسلحہ کراچی کیسے پہنچ رہا ہے؟ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ایک سال دیانتداری سے کام کیا جائے تو ملک میں آئندہ نسلوں کو بہتر تحفہ دے سکتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے جو اقدام کئے ہیں اس میں عدالت کے حکم پر نہیں بلکہ مستقل کارروائی کی جائے۔ کسٹم کی ناک کے نیچے ٹیکس چوری ہو رہا ہے اسے کنٹرول کیوں نہیں کرتے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسٹم حکام کے پاس درآمدات کرنے والے شخص کی تفصیلات تک موجود نہیں۔ سارا دفتر فارغ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے چیف کلکٹر کسٹم افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قسم کھائیں کہ آئندہ کرپشن نہیں کریں گے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کرپشن سے کمایا ہوا پیسہ بچوں کو دے کر جاؤ گے تو ملک کہاں سے لاؤ گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی اور بلوچستان امن و امان کیس ہمارے لئے اہم ہے۔خداکے لئے کرپٹ مافیا کو کسٹم سے نکالیں۔ کرپشن سے حاصل کی گئی دولت سے بنائے گئے گھر تو دیکھیں جو شہنشاہانہ انداز میں بنائے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کہاں تک ذمہ داریاں نبھائیں۔ سارا مسئلہ کالے دھن کا ہے، جو یہاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔کسٹم ڈیوٹی چوری کو چیک کرنے کے لیے فرانزک آڈٹ کی ضرورت ہے۔ آج کراچی پورٹ سے کنٹینر کی تعداد طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت آج (جمعرات) تک ملتوی کردی۔  علاوہ ازیں بلوچستان بدامنی اور لاپتہ افراد کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے استفسار  کیا اٹارنی جنرل  صاحب بتائیں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوا کہ نہیں۔ اٹارنی جنرل  نے جواب دیا کہ حساس اداروں کا کہنا ہے ہمارے گلے کاٹے گئے ہم انہیں کیسے چھوڑ دیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی میں پیش رفت تو ضرور ہوئی ہے۔ جسٹس  جواد نے استفسار کیا کیا پیش رفت ہوئی ہے؟  اٹارنی جنرل نے جواب دیا جناب فرق تو پڑا ہے،  ایک وزیر کو وزیر دفاع کا ایڈیشنل چارج مل گیا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ گزشتہ روز ہی چیف صاحب نے کہا تھا کچھ ہو نہ ہو وزیر دفاع تو ضرور مقرر ہو جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا جناب آپ جانتے ہیں میں نے کیا مشورہ دیا ہوگا۔ جسٹس جواد نے کہا میں تو چیف صاحب کو ولی مان گیا ہوں۔ وزیر قانون کا ایڈیشنل چارج بھی ایک وزیر کو دیا گیا ہے وہ کون ہے؟ منیر اے ملک نے بتایا کہ وزیر قانون کا چارج وزیر اطلاعات پرویز رشید کو دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کچھ تو کیا۔ بلوچستان کا مسئلہ خیبر پی کے اور دیگر علاقوں سے الگ ہے۔ بلوچستان میں ایف سی کا مسئلہ سلگا ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا چلیں ٹھیک ہے، خواجہ آصف  دو سال سے ہمارے پاس  کیس چلا رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا جتنے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے عدالتی دباؤ پر ہوئے۔ عدالتی دباؤ برقرار رہا تو مزید بھی ہو جائیں گے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔ آن لائن کے مطابق ڈاکٹر عبدالمناف کے لاپتہ ہونے سے متعلق سماعت پر ایف  سی حکام سے آج (جمعرات کو) جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب تک جو لوگ بازیاب ہوئے وہ بھی عدالتی دباؤ پر ہوئے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان کا مسئلہ خیبر پی کے اور دیگر علاقوں سے الگ ہے، بلوچستان میں بھی ایف سی کا مسئلہ سلگا ہوا ہے۔