نئے آرمی چیف کیلئے دہشت گردی سے نمٹنا‘ سول ملٹری تعلقات میں ہم آہنگی چیلنج ہونگے: سیاسی‘ مذہبی رہنمائوں کا ردعمل

28 نومبر 2013

لاہور (نوائے وقت نیوز+ خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں) سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے نئے آرمی چیف کی تقرری پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف مقرر کرنے کا وزیراعظم کو اختیار ہے۔ میں نے انہیں مشورہ دیا تھا سنیارٹی کو مدنظر رکھا جائے۔ وزیراعظم نے سمجھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہو گا تاہم اگر وہ یہ فیصلہ پہلے کر دیتے تو بہتر تھا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے پیشرو کی طرح ملک میں جمہوریت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ملک کو دہشت گردی اور طالبان جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئے آرمی چیف کو ان چیلنجز کا سامنا کرنا ہو گا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آرمی چیف کوئی بھی ہو ہمیں اعتراض نہیں، فوج کو اپنا، سیاستدانوں اور حکومت کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ ق لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی‘ سول ملٹری تعلقات میں ہم آہنگی اور تینوں مسلح افواج میں باہمی مضبوط تعلقات قائم کرنے کے 3  بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، جنرل راحیل شریف کی فوجی خدمات کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ وہ تمام چیلنجز سے پوری طرح عہدہ برا ہونگے۔ انہوں نے کہا جنرل راحیل شریف کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مربوط، پائیدار اور قابل قبول حکمت عملی بنانے کا ہو گا تاکہ ملک و قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلائی جا سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے عبوری صدر سینیٹر حاجی عدیل نے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کے وزیراعظم کے فیصلہ کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھتے ہوئے ایک بار پھر سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو نیا آرمی چیف مقرر کرکے خاندانی تعلق کو نبھایا ہے۔ انکے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پارٹی رہنما افراسیاب خٹک اور زاہد خان نے کہا وزیراعظم نے آرمی چیف کی تقرری میں اپنا آئینی اختیار استعمال کیا۔ نئے آرمی چیف کو اپنے حلف کے تحت فاٹا، بلوچستان اور خیبر پی کے کے حالات میں حکومت کی مدد کرنی ہو گی۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا قوم توقع کر رہی تھی کہ آرمی چیف کی تقرری میں میرٹ اور سنیارٹی کو مدنظر رکھا جائے گا مگر نواز شریف نے ماضی کا تجربہ دہرایا، اب سیاست کے بعد فوج میں بھی شریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف انکے خاندان بالخصوص میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے ساتھ پوری قوم کی محبت ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نئے آرمی چیف کے آنے سے حالات بہتر ہونگے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر نے کہا سیاسی و عسکری قیادت میں ہم آہنگی سے ہی ملک مستحکم ہو گا۔ حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا عبدالوہاب روپڑی اور دیگر نے کہا کہ نئے آرمی چیف کو فوج کے مورال، ملک کے وقار کی بلندی اور بہتری کیلئے کام کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں ریاستوں اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ جنرل راحیل شریف انتہائی تجربہ کار، اعلیٰ پائے کے کمانڈر اور شرافت کا مجسمہ ہیں، وزیراعظم نے انہیں آرمی چیف بنا کر بہت اچھا فیصلہ کیا۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیراعظم نے ان کی تقرری کے حوالے سے ان سے مشورہ کیا تھا تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی جا سکتی تاہم وزیراعظم کی مرضی ہے کہ وہ کسی سے مشورہ کریں یا نہ کریں، انہوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ گورنر ہائوس میں سرکاری افسروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کا بطور آرمی چیف تقرر احسن فیصلہ ہے۔ جنرل کیانی نے جمہوریت کے فروغ کیلئے اچھا کام کیا۔ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے  اسلام (ف) کے رہنما  حافظ حسین  احمد نے کہا کہ  وزیراعظم نواز شریف نے   شریف سیریز مکمل کرلی ہے، کیسے ممکن ہے کہ  وزیراعظم  اور وزیراعلیٰ  ’’شریف‘‘ ہوں  اور  آرمی چیف ’’شریف‘‘ نہ ہو۔ انہوں نے اب تک سبق نہیں سیکھا۔ اصل مسئلہ  ادارے کو ہوتا ہے  لوگوں کی قابلیت   کا  تب پتا چلتا ہے   جب ذمہ داری عائد  ہوتی ہے   کہ لوگ کتنے  پانی میں ہیں۔ غالباً  جنرل کیانی  کے جانے کا انتظار تھا  اگر فیصلے  میرٹ کی بنیاد پر ہوں تو  ضیاء الحق اور پرویز  مشرف جیسے جرنیل  آئین توڑنے  کا موجب نہ بنتے۔  دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کے قائد  الطاف حسین نے لیفٹنٹ جنرل راحیل شریف کو چیف آف آرمی اسٹاف اورلیفٹنٹ جنرل راشد محمود کوان کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے بیان میں  کہا کہ اس وقت ملک کوجن سنگین داخلی و بیرونی خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، دعا ہے کہ نئی قیادت کی رہنمائی میں افواج پاکستان ماضی کی طرح جانفشانی اورپیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ دفاع پاکستان کا فریضہ نبھاتی رہیں گی۔  ادھر سنی اتحاد کونسل پاکستان کے مرکزی رہنمائوں صاحبزادہ حامد رضا، حاجی حنیف طیب اور دیگر نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کو پاک فوج کا سپہ سالار بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ رہنمائوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ نئے آرمی چیف ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے اور جنرل اشفاق پرویز کی کیانی کی مثبت روایات کو برقرار رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو انکی تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم متحد ہو کر ہی دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ نئے آرمی چیف کوپارٹی قیادت کی طرف سے مبارکباد دیتا ہوں، امید ہے نئے آرمی چیف پاکستان کی سلامتی اور آئین کے دفاع کے لئے اپنا قومی فرض پورا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پاکستان میں شب خون مارنے کی روایت دم توڑ جائے گی اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی کیلئے نیک شگون ثابت ہوگی۔