مہنگائی نے عام شہری کو ذہنی مریض بنا دیا‘ منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے: ہائیکورٹ

28 نومبر 2013

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مہنگائی سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے یہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے نفاذ کا مسئلہ ہے قیمتیں مقرر کرنے کیلئے بہت کچھ دیکھنا پڑیگا۔ روزمرہ کی اشیا کی مہنگائی نے عام شہری کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ شہریوں کو مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر متفرق درخواست کی سماعت کے دوران دیئے۔ جسٹس خالد محمود خان نے حکومت پنجاب سے قیمتوں کے بڑھنے کے طریقہ کار کی مکمل اور جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب میں روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے روزمرہ استعمال کی اشیا جس میں سبزیاں دالیں، چاول و چینی ہیں اُن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں عام آدمی پس رہا ہے۔ لاکھوں روپیہ جرمانے کی خبریں آتی ہیں مگر قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔ جسٹس خالد محمود خان نے ریمارکس دیئے کہ مہنگائی سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے ملک میں کسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اصل فائدہ تو مڈل مین کو ہے جو کوئی محنت نہیں بھی کرتا مگر کما رہا ہے۔ عدالت حکومت پنجاب سے قیمتوں کے تعین کے لئے پیداوار سے لیکر پرچون تک قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار دیکھے۔ فاضل عدالت پیداواری لاگت، مڈل مین اور پرچون کی سطح تک قیمتوںکے تعین کیلئے حکومت سے پالیسی طلب کرے۔ جسٹس خالد محمود خان نے حکومتِ پنجاب وغیرہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قیمتوں کے تعین کا روزانہ کی بنیاد پر پیداواری لاگت سے پرچون کی حد تک فروخت اور قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار طلب کر لیا۔