راحیل شریف آرمی چیف مقرر‘ راشد محمود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بن گئے

28 نومبر 2013
راحیل شریف آرمی چیف مقرر‘ راشد محمود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بن گئے

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نیٹ نیوز) وزیراعظم محمد نوازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو آج سے جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاک فوج کا 15واں آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو جنرل کے عہدہ پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ہے۔ صدر ممنون حسین نے آئین کی دفعہ 3 کے تحت وزیراعظم نوازشریف کی ایڈوائس پر ان تقرریوں کی منظوری دی۔ دونوں کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کے مشورے پر صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ممنون حسین نے جنرل راحیل شریف اور جنرل راشد محمود کی جرنیل کے عہدے پر ترقی اور بالترتیب چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ہے۔ دونوں جرنیلوں نے اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں میاں نوازشریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔ جنرل راحیل شریف 29 نومبر کو کمان سنبھالیں گے۔ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ لیں گے جو 6 سال تک بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد آج ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جنرل راحیل چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے۔ بی بی سی کے مطابق نئے آرمی چیف کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں کی گئی، سنیارٹی کے لحاظ سے سرِفہرست لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کو سپر سیڈ کر کے جنرل راحیل کا تقرر کیا گیا۔ وہ سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے جبکہ دوسرے سینئر ترین جنرل راشد محمود کو مسلح افواج کا سب سے اعلیٰ مگر رسمی عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی دیا گیا ہے۔ اس تقرری کے بعد چیف آف لاجسٹک سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم ’’سپرسیڈ‘‘ ہو گئے ہیں۔ نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے وہ سابق صدر رفیق تارڑ کے ملٹری سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بطور کور کمانڈر لاہور فرائض ادا کئے جبکہ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو ان کے نائب تھے اس کے علاوہ بھی و ہ بہت سے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پاک فوج کے سینئر ترین جرنیل لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے نئے جنرل راشد محمود کو چیئرمین جے ایس سی اور جنرل راحیل اشرف کو نیا آرمی چیف مقرر ہونے پر مبارکباد دی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کل پروقار تقریب میں ’’کمانڈ کین‘‘ جنرل راحیل شریف کے حوالے کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تقرری اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کی بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرری کے معاملے پر اپنی کابینہ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی مشاورت کی۔ اے این این کے مطابق وزیراعظم نوازشریف سے پنجاب ہائوس میں وفاقی وزرا نے ملاقات کی اور انہیں نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تقرر پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے درمیان ہلکی پھلکی بات چیت بھی ہوئی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایسے جنرل کا بطور آرمی چیف تقرر کیا ہے جو ملک اور فوج دونوں کیلئے بہتر ثابت ہونگے، نوازشریف نے عبدالقادر بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ یہ کس بنیاد پر کہہ سکتے ہیں جس پر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ جنرل راحیل شریف میرے سٹاف افسر رہ چکے ہیں، میں ان پر اپنے بچوں سے زیادہ بھروسہ کرتا ہوں۔ وزیراعظم نوازشریف نے وزرا کو بتایا کہ آرمی چیف کی تقرری کیلئے راحیل شریف کی کوئی سفارش نہیں تھی۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے باضابطہ تقرر سے قبل سینئر وزرا اور پارٹی رہنمائوں کو اہم اجلاس کے دوران اعتماد میں لیا تمام شرکا نے وزیراعظم کے فیصلے کی تائید کی۔ باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق مسلح افواج کے دو اہم عہدوں پر تقرریوں کیلئے پنجاب ہائوس میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے شرکا کو نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود سے ملاقاتوں کے بارے میں بریف کیا اور نئی تقرریوں پر ان کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید‘ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف‘ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق‘ وزیراعظم کے مشیر خواجہ ظہیر شریک ہوئے اجلاس میں نئی فوجی قیادت کے انتخاب پر تمام شرکا نے وزیراعظم کے فیصلوں کی تائید کی۔ لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کرنے کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد ان کی رہائش گاہ پر مبارکباد کیلئے آنے والوں اور ٹیلی فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔ ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جی ایچ کیو میں اپنے دفتر میں آئے اور معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے تھے کہ اسی دوران وزیراعظم کے فیصلے کا اعلان کر دیا گیا۔ وزیراعظم کے فیصلے کا اعلان ہونے کے بعد ان کے دفتر میں ساتھی افسروں نے بڑی تعداد میں آکر ان کو نئی اعلیٰ ترین ذمہ داری پر فائز ہونے کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا جنرل راحیل شریف کے گھر پر بھی میڈیا پر خبروں کے بعد مبارکباد کیلئے آنے والے دوست احباب اور ٹیلی فون کالز کا تانتا بندھ گیا، جنرل راحیل شریف کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کل ریٹائر ہو رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر اپریل 1951ء تک انگریز جنرل فوجی سربراہ رہے ، سترہ جنوری 1951ء کو پہلے مسلمان جنرل ایوب خان فوجی سربراہ بنے۔ جنرل سر فرینک والٹر اگست 1947ء سے فروری 1948ئ، جنرل ڈگلس ڈیوڈ فروری 1948ء سے اپریل 1951ئ، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 17 جنوری 1951ء تا 26 اکتوبر 1958ئ، جنرل محمد موسی ( سی ان سی) 27 اکتوبر 1958ء سے 17 ستمبر 1966ئ  جنرل آغا محمد یحیی خان 18 ستمبر 1966ء تا 20 دسمبر 1971ئ، جنرل گل حسن قائم مقام سی ان سی 20 دسمبر 1971ء تا 21 جنوری 1972ء اور پھر کنفرم سی ان سی 22 جنوری 1972ء تا 2 مارچ 1972ئ، جنرل ٹکا خان 3 مارچ 1972ء تا یکم مارچ 1976ئ، جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مارچ 1976ء سے 17 اگست 1988ء تک آرمی چیف رہے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ 17 اگست 1988ء تا 16 اگست 1991ئ، جنرل آصف نواز جنجوعہ 16 اگست 1991ء سے 8 جنوری 1993ئ، جنرل عبدالوحید کاکڑ 12 جنوری 1993ء سے 12 جنوری 1996ئ، جنرل جہانگیر کرامت 12 جنوری 1996ء تا 7 اکتوبر 1998ئ، جنرل پرویز مشرف نے 7 اکتوبر 1998ء تا 28 نومبر 2007ء تک آرمی چیف رہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی 28 نومبر 2007ء کو ملک کے 14ویں آرمی چیف بنے جو 29 نومبر کو عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ 
گجرات (طفیل میر سے) ضلع گجرات ایک مرتبہ پھر بازی لے گیا ہے، اس ضلع کے لوگوں نے جہاں سیاست، صنعت، تجارت، سماجی کاموں اور عسکری حوالے سے اپنا الگ نام اور مقام بنایا وہاں ہر دور میں یہاں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہر میدان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قبل ازیں اس ضلع کی اہم شخصیات صدر، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ سے لیکر مختلف وزارتوں عہدوں پر تعینات رہے جن میں چودھری فضل الٰہی صدر بنے،  ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین وزیراعظم، چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب، سپیکر پنجاب اسمبلی، چودھری فضل الٰہی سپیکر قومی اسمبلی، میاں افضل حیات کولیاں شاہ حسین نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدوں پر پہنچے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری احمد مختار اپنے دور اقتدار میں وزارت تجارت، وزارت دفاع، وزارت بجلی و پانی، قمر زمان کائرہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، گورنر گلگت بلتستان، چودھری تنویر اشرف کائرہ صوبائی وزیر خزانہ پنجاب، چودھری شاہد حمید مرحوم وزیر بحالیات آزاد جموں و کشمیر جیسے عہدوں پر براجمان ہوئے، اب آرمی چیف کے عہدے پر بھی گجرات سے تعلق رکھنے والے راحیل شریف نئے آرمی چیف بن گئے۔ ان کا تعلق گجرات کے علاقہ کنجاہ کے محلہ کٹڑہ سے ہے پنجاب میں تین نشان حیدر حاصل کرنیوالے آرمی کے تین سپوتوں میجر عزیز بھٹی شہید، میجر شبیر شریف شہید، میجر اکرم شہید کا تعلق گجرات سے تھا۔ میجر شبیر شریف شہید کے بھائی راحیل شریف کے آرمی چیف بننے سے گجرات اور ان کے علاقہ کنجاہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں۔