بیٹوں پر فخر ہے، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے: والدہ راحیل شریف

28 نومبر 2013

لاہور (لیڈی رپورٹر) نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے تقررکی اطلاع ملتے ہی ان کی بہن نجمی کامران کی ڈیفنس میں واقع رہائشگاہ پر جشن کا سماں رہا، مبارکباد دینے کیلئے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا، مٹھائیاں اور کیک تقسیم کئے گئے، شکرانے کے نوافل اداکئے گئے۔ خوشیاں بانٹنے کیلئے آنے والے عزیز و اقارب  سارا دن پھول اور مٹھائیاں لے کر مبارکباد دینے کیلئے آتے رہے۔ 15ویں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی والدہ بیگم شریف نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹوںکے کارناموں پر فخر ہے، جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید (نشان حیدر) نے وطن کی خاطر جان قربان کر کے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا اب چھوٹے بیٹے کا بطور آرمی چیف تقرر انتہائی خوشی کی بات ہے جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ بہن نجمی کامران نے کہا کہ مجھے اپنے بھائیوں پر فخر ہے اتنی خوش ہوںکہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی، ہماری فیملی کیلئے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہو سکتا ہم سب بہت خوش ہیں اور اپنے رب کے شکرگزار بھی ہیں، جنرل  کے بچے اگلے ماہ بیرون ملک سے وطن واپس آئیں گے تواس موقع پر گھر میں  بڑی تقریب  ہو گی۔ میجر شبیر شریف شہید کے صاحبزادے تیمور شبیر نے کہا کہ چچا کا آرمی چیف بننا ہمارے پورے خاندان کیلئے فخر کی بات ہے، وہ انتہائی پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے فیملی مین بھی ہیں۔ تیمور شبیر شریف نے کہا  کہ چچا جنرل راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تقرری اللہ تعالیٰ کا ہمارے خاندان پر ایک اور کرم ہے، جنرل راحیل شریف بہترین فوجی اور شفیق انسان ہیں، انہیں خاندان میں پیار سے بوبی کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تیمور شبیر شریف نے کہا کہ میرے چچا پروفیشنل ہیں اور انہوں نے تمام کورسز میں ٹاپ کیا ہوا ہے اس لحاظ سے وہ بہترین چوائس ہیں۔ چچا کو گاڑیوں کا بہت شوق ہے اور انہیں جب بھی فرصت کے لمحات میسر آتے ہیں تو وہ لانگ ڈرائیور بھی کرتے ہیں۔ وہ بہترین فوجی اور شفیق انسان ہیں۔  والد کی شہادت پر نشان حیدر کے اعزاز کے بعد چچا کا آرمی چیف بننا ہمارے خاندان پر اللہ تعالیٰ کا ایک اورکرم ہے۔نجی ٹی وی  سے گفتگو کرتے ہوئے  جنرل راحیل شریف کی والدہ نے کہا ہے کہ ملک  سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، تمام مسائل سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کو ایمانداری سے کام کرنا چاہیے، ہمارا پورا خاندان آرمی میں  فرائض سرانجام دیتا آرہاہے۔ میرے پانچوں بھائی اور والدہ آرمی میں تھے۔ اس کے بعد میرے شوہر محمد شریف بھی آرمی افسر  میرے تین بیٹے میجر شبیر شریف، کیپٹن ممتاز شریف اور جنرل راحیل شریف بھی آرمی میں گئے۔ نوجوانوں کو لڑنے جھگڑنے کی بجائے سخت محنت اور ایمانداری سے کام کرنا چاہیے  والدین کی خدمت کریں کیونکہ والدین کی خدمت اور محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔  میجر عزیز بھٹی شہید میرے تایا زاد بھائی تھے شہادت کے دن وہ ہمارے ہی گھر سے محاذ پر روانہ ہوئے تھے۔ جنرل راحیل شریف  کی بڑی بہن  نجمی  کامران نے کہا کہ  بڑے بھائی کی طرح   چھوٹے بھائی  کے دل  میں بھی وطن کا جوش و جذبہ  ہے۔  ایک انٹرویو میں مسز   نجمی  کامران  نے کہا کہ  ان کے لیے بڑی خوشی و مسرت کا دن  ہے  کہ ملک  کے انتہائی  حساس عہدہ  کیلئے ان کے بھائی   جنرل راحیل  شریف کا نام تجویز کیا گیا۔ ان کے   بڑے بھائی میجر شبیر شریف  جنہوں نے آخری دم  تک  قوم اوروطن  کے  دفاع کیلئے   جان کا نذرانہ  پیش کیا وہی جذبہ   ان کے چھوٹے بھائی  جنرل راحیل  شریف کے دل  میں بھی موجود ہے۔