ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہونا چاہئے‘ یو این کمیٹی کی تجویز‘ بند ہونے چاہئیں: پاکستان

28 نومبر 2013
ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہونا چاہئے‘ یو این کمیٹی کی تجویز‘ بند ہونے چاہئیں: پاکستان

اقوام متحدہ (اے پی پی + آئی این پی + نمائندہ خصوصی) پاکستان نے اپنی سرزمین پر ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے جنرل اسمبلی کی کمیٹی کی طرف سے ڈرون حملوں کے قانونی جواز پر بین الاقوامی معاہدے کے سلسلے میں قرارداد کے مسودہ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں میں نہتے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکت بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودہ میں مسلمہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کو ڈرون حملوں کے استعمال کے قواعد کی بنیاد نہیں بنایا گیا تاہم انہوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ مسودہ میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ڈرون کے استعمال کا پہلی بار ذکر کیا گیا ہے تاہم اس سلسلہ میں متعلقہ ممالک کے درمیان موجود معاہدوں کی قانونی حیثیت کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز کا استعمال پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف تقریباً بے چہرہ جنگ میں مسلمہ انسانی اقدار کا احترام ضروری ہے جو نہیں کیا جا رہا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسا کسی بھی حملے کا یہ جواز موجود ہونا چاہئے کہ یہ سیلف ڈیفنس میں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ان حملوں کا کوئی جواز نہیں۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ شہریوں کے مارے جانے کے نتیجہ میں نہ صرف مرنے والوں کے رشتہ داروں اور عزیزوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ ان میں نفرت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں جو دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں کیلئے خطرناک ہیں اور اس طرح یہ حملے تمام پاکستانی شہریوں کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ سماجی، انسانی اور ثقافتی امور بارے جنرل اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ مسودہ کا عنوان ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ‘‘ رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس مسودے پر بحث کے دوران ڈروں حملوں کے قانونی جواز کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیگی۔ جنرل اسمبلی کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہونا چاہئے۔ مسعود خان نے کہا کہ ڈرون حملوں کا ردعمل ہوتا ہے اور عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ اسے فوری طور پر بند نہ کروایا گیا تو مزید سینکڑوں بے گناہ شہری مارے جائیں گے اور مزید لوگ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل میں ڈرون حملوں کا معاملہ وکلا کے مشورے پر اٹھایا۔ اقوام متحدہ کے پینل کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ پہلی قرارداد ہے جس میں ڈرون حملوں کا حوالہ شامل ہے۔