ملک میں 27 لاکھ ٹن چینی سرپلس، حکومت برآمد کیلئے پالیسی بنائے، سینٹ کمیٹی کی سفارش

28 نومبر 2013
ملک میں 27 لاکھ ٹن چینی سرپلس، حکومت برآمد کیلئے پالیسی بنائے، سینٹ کمیٹی کی سفارش

اسلام آباد (ثناء نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو بتایا گیا کہ ملک میںاس وقت 27لاکھ ٹن چینی سر پلس پڑی ہے جبکہ گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع ہوگیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس قائمہ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر حاجی غلام علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے اضلاع کی سطح پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو فعال کرنے کیلئے بھی اقدامات کی سفارش کی۔ سینیٹر حاجی غلام علی نے کہا کہ کمیٹی تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایسی سفارشات مرتب کرنا چاہتی ہے جسکی مدد سے ملک کی برآمدات میں اضافہ، صنعت کاروں اور تاجروں کی سرپرستی اور ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔ قائمہ کمیٹی کو ملک کی برآمدات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اس سلسلے میں پیش آنیوالی مشکلات اور مسائل پر قابو پانے کیلئے کئے گئے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت سر پلس چینی میں اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذخیرہ رکھ کر باقی چینی کی برآمدات کیلئے مناسب پالیسی تیار کرے تاکہ مل مالکان نقصان سے بچیں اور زمین داروں کو بھی وقت پر ادائیگی ممکن ہو سکے۔ وزیر مملکت برائے تجارت انجنئیر خرم دستگیر نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ایک متوازن پالیسی اختیار کی جائے گی جس سے سب کو فائدہ ہو گا۔ سینیٹر حاجی غلام علی نے کہا وزارت کو چاہیے کہ وسطی ایشیائی ممالک، چین اور دوسرے ایسے خطوںمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے کیلئے اقدامات کریں جہاں پر گنجائش موجود ہو۔ انہوں نے سارک فورم کو موثر بنانے کیلئے تجویز دی۔ قائمہ کمیٹی نے گندم کی درآمدات اور تجارت کے شعبوں سے متعلق دیگر اہم امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔حاجی غلام علی نے کہا کہ اس وقت صوبہ پی کے میں فلور ملز کو کافی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ایک تو فلور ملز کو 70بیگ کا کوٹہ مل رہا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران کی وجہ سے یہ صنعت کافی متاثر ہوئی ہے پیسکو اور وزارت کامرس مل کر انکے مسائل کا حل نکالیں۔ ادھر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پورٹس اینڈ شپنگ نے بندرگاہوں سے کنٹینرز غائب ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت پورٹس اینڈ شپنگ سے اگلے اجلاس میں مفصل رپورٹ طلب کرلی‘ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 31کنٹینر کسٹم کی جعلی رسیدیں دکھا کر غائب کئے گئے گریڈ 16 کے 14 کسٹم افسران کو معطل اور اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے‘ چین سے 36 ملین ڈالر کا بحری جہاز خریدا گیا اس کا تمام عملہ چینی ہے‘ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009ء سے بندرگاہ پر کاغذات کے بغیر 1450 کنٹینرز پڑے ہیں جبکہ  کے پی ٹی پر 2081 نیٹو گاڑیاں کھڑی ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر فتح محمد حسنی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ افغان ٹریڈ سے ہم کھربوں روپے کما سکتے تھے مگر ہم دنیا سے ہزار سال پیچھے ہیں انہیں بھی نقصان دیا خود بھی نقصان اٹھایا۔