اسلامی نظریہ کونسل کی تشکیل نو ضروری، سانحہ پنڈی کے حقائق سے آگاہ کیا جائے، ملی یک جہتی کونسل

28 نومبر 2013

اسلام آباد (آن لائن)ملی یکجہتی کونسل نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ عہدو ں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، سانحہ راولپنڈی کو بین الاقوامی سازش ہے، ملک میں امن کے قیام کیلئے حکومت ملی یکجہتی کونسل کا ضابطہ اخلاق فوری نافذ کرے، مذہبی جلوس صدیوں سے جاری ہیں جن پر پابندی نہیں لگ سکتی، مذہبی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار میں رہیں اور سیکورٹی کے مناسب اقدام اٹھائے جائیں تو مسائل جنم نہیں لینگے، سانحہ راولپنڈی کے حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ جلد اسلام آباد میں اتحاد اُمت کانفرنس کا انعقاد ہوگا، صوبوں میں رحمت اللعالمین کنونشن منعقد کرکے مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینگے۔ ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا جوصاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں لیاقت بلوچ، علامہ ساجد نقوی، پیر محفوظ مشہدی، پیر عبدالغفور نقشبندی، علامہ امین شہیدی، علامہ عارف واحدی،محمود لغاری،امین اسلم اور دیگر نے شرکت کی جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ملی یکجہتی کونسل کی مجلس عاملہ کے اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھا۔اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے کہاکہ اجلاس میں سانحہ راولپنڈی کے بعد ملتان، چشتیاں، ہنگو سمیت ملک کے دیگر حصوں میں پیش آنیوالے واقعات کا جائزہ لیاگیا جبکہ اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کو مزید فعال بنانے کا اعادہ کیاگیا ہے۔ میڈیا بریفنگ میں صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہاکہ سانحہ راولپنڈی فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی گھنائونی سازش تھی حالانکہ خطہ میں سنی شیعہ صدیوں سے اکٹھے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا سانحہ راولپنڈی میں حکومت اور انتظامیہ مکمل طور پر ناکام رہی اور ان کے انتظامات کی قلعی گئی، اب حکومت کی جانب سے سانحہ راولپنڈی پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنایاگیامگر اس پر تشویش ہے کہ کہیں سابق کمیشنز کی طرح اس کا حال نہ ہو اور قوم سے حقائق چھپا لئے جائیں۔ انہوںنے سانحہ عاشور کراچی کے حقائق کو منظر عام پر لایا جاتا تو سانحہ راولپنڈی رونما نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کا وفد اہلسنّت و اہل تشیع رہنمائوں سے ملاقات کرکے یکجہتی کو فروغ دیگا۔ ہم آزاد کشمیر، گلگت بلتستان چاروں صوبوں سمیت وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملی یکجہتی کونسل کا ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ العمل کیاجائے تاکہ ملک میں امن قائم ہوسکے۔ انہوںنے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل میں مختلف مسائل کو حل کرنے کیلئے کمیشنز کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔ مصالحتی کمیشن کو متنازعہ تقاریر اور کتب کے تدارک کیلئے مزید فعال کیا جائیگا جبکہ علمی و تحقیقاتی کمیشن کوہدایت کی جائیگی کہ ملک میں قائم پانچوں وفاق ہائے مدارس کے جید علمائے کرام سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کیلئے متفقہ موقف اپنائے جانے کا اہتمام کریں ۔انہوںنے کہاکہ اس وقت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قوم دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ دونوں اطراف سے مختلف موقف سامنے آرہے ہیں اسلئے ہم آہنگی اور اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے علمی و تحقیقاتی کمیشن اپنا کردار ادا کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیںجرأتمندی کا مظاہرہ کریں تو ملک میں جاری پراکسی وار کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکتا ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ 18کروڑ عوام میں یکجہتی پیدا کی جائے دشمنو ں کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہاکہ لائوڈ سپیکر کے استعمال کے حوالے سے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ اجلاس کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کو فتویٰ کا اختیار دینے پر مختلف جماعتوں نے مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر امین شہیدی نے جواباً کہاکہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکے بیان کو توڑ موڑ پیش کیاگیا ہے، انکا موقف اسکے حوالے سے واضح ہے۔ ذرائع کے مطابق ملی یکجہتی کونسل نے اتفاق کیا کہ محرم و ربیع الاوّل کے جلوسوں کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور اس موقع پر کہاگیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی وجہ سے چھ ماہ کے عبوری سیٹ اپ پر اتفاق کیاگیا مگر اسکے باوجود جے یو آئی (ف) کا اجلاس میںشریک نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔