فضائی زون کی خلاف ورزی پر چین کا شدید احتجاج : امریکہ نے مسترد کر دیا

28 نومبر 2013

بیجنگ، واشنگٹن(اے ایف پی+آن لائن +اے پی پی) امریکی لڑاکا طیاروں بی۔52 کی جانب سے مشرقی بحیرہ چین میں متنازعہ جزیروں کی خلاف ورزی پر چین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ وزارت خارجہ  کے ترجمان مشن گینگ نے جاپان کے ساتھ متنازعہ جزیروں کے فضائی زون پر اپنا حق جتاتے کہا کہ ہم اپنی سالمیت اور سکیورٹی کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے  برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی طیارے حدود کا احترام کریں ورنہ انہیں ہنگامی دفاعی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھر وائٹ ہائوس کے ترجمان جاش ایونیٹ نے چین  کا احتجاج مسترد کرتے ہوئے کہا طیاروں کی پروازیں طے شدہ طریقے اور معمول کے مطابق تھیں۔ کسی کو پیشگی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں۔ چینی اعتراض کو غیر ضروری قرار دیدیا۔این این آئی کیمطابق امریکی  ترجمان کے کہا کہ  یہ ایک تربیتی مشن تھا اور یہ چین کی نئی عسکری حکمتِ عملی کا ردِعمل نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ چین کی حکومت کی جانب سے مشرقی بحیرہ چین کے جزائر کی ملکیت کے حوالے سے وضع کیے گئے نئے دعووں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دو غیر مسلح بمبار طیارے گوام بیس سے اْڑے اور چین کی جانب سے وضع کیے گئے نئے ایئر ڈیفنس زون سے ہوتے ہوئے لوٹ گئے۔ چینی پالیسی  اشتعال انگیز اور خطے کو غیر مستحکم بنانے کی وجہ بن سکتی ہے۔ قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چین کی جانب سے ملکیت کے نئے دعووں کے ردِ عمل میں کہا کہ بیجنگ حکومت مشرقی بحیرہ چین کی صورتِ حال کو تبدیل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے خطے میں کشیدگی پیدا ہو گی اور بھول چْوک، حادثوں اور محاذ آرائی کا خطرہ رہے گا۔ادھر چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ روز امریکی B-52 ملٹری طیاروں کی یہ پروازیں چین کے نئے ایئر ڈیفنس ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ چین موثر طریقے سے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے۔آن لائن کے مطابق چین کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نے اپنی نئی فضائی دفاعی حدود میں پرواز کرنے والے امریکی بمبار طیاروں کی نگرانی کی ہے۔چین متعلقہ فضائی حدود کو چلانے اور اسے کنٹرول کرنے کی  اہلیت رکھتا ہے۔امریکہ کے 70000 فوجی جاپان اور جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔ امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ وہ نئی چینی حدود کو نہیں مانتا۔