ہیلتھ کیئر کمیشن کا ظالمانہ اقدام

28 نومبر 2013

مکرمی! اس وقت پاکستان میں حکومت نے تین طریقہ ہائے عالج کے معالجین کو پریکٹس کی اجازت دی ہوئی ہے ان میں ایلوپیتھی ، طب یونانی اور ہومیو پیتھی کے معالجین شامل ہیں۔ طب یونانی اور ہومیو پیتھی کے لئے NCT اور NCH کوالیفائیڈ اطباء اور ہومیو پیتھ کی رجسٹریشن کرتی ہے اور رجسٹریشن کے لئے پانچ سال کے لئے تقریباً 500 روپے وصول کرتی ہے اٹھارویں ترمیم کے تحت بہت سارے اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں چنانچہ محکمہ صحت میں ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام عمل میں آ چکا ہے جس پر اطبا اور ہومیو پیتھ کو کئی تحفظات ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بغیر کسی مشاورت کے اطباء کی رجسٹریشن کے لئے پانچ ہزار اور مطب کے لئے لائسنس حاصل کرنے کے لئے چار سال کے لئے پچاس ہزار روپے فیس مقرر کر دی ہے جو کہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ اطباء انتہائی کسمپرسی کی حالت میں پاکستان کے دور دراز دیہات میں علاج معالجہ کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور بغیر کسی فیس کے سستی اور معیاری ادویات انتہائی کم قیمت پر فراہم کر رہے ہیں اور اپنی روٹی روزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ طب جدید کے حاملین حکومت کی جانب سے بے شمار مراعات اور بھاری بھر کم تنخواہیں حاصل کرنے کے باوجود دیہات میں کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت WHO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 76% آبادی ہر بل میڈیسن پر انحصار کرتی ہے اور اطبا سے رجوع کرتی ہے۔ حکومت کے اس ظالمانہ اقدام سے اطبا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہم پچپن ہزار اطبا بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف اطبا کے جائز مطالبات پر فوری اقدامات اٹھائیں گے۔(حکیم محمد اعجاز فاروقی لاہور)